59

کتب بینی، اک اکسیر/تحریر: عاصم نواز طاہر خیلی

عاصم نواز طاہر خیلی/ متعلم البیان اکیڈمی آن لائن

23 اپریل کی آمد آمد ہے۔یہ دن پوری دنیا میں کتاب کے دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔مجھے بھی کتاب سے عشق رہا جو اب آن لائن مطالعہ کی نذر ہو چکا ہے۔ایک وقت تھا کہ جب مطالعے کا واحد ذریعہ کتابیں ہی ہوا کرتی تھیں۔پڑھنے کے لیے کتاب کا حصول ایک ایسا ہی مرحلہ تھا کہ جیسے محبوب سے ملنے کے لیے عاشق کی تگ و دو۔مرضی کی کتاب مل جانے کی خوشی اور پھر اس کی حفاظت کا جنون انسان کو ایک ایسے جزبہ سے روشناس کراتا تھا کہ لمحہ بہ لمحہ کتاب دوستی اور کتاب شناسی کا ماحول پروان چڑھتا۔پھر محبوب کا چہرہ بھی کتابی٫آنکھیں غزل٫گفتگو مصرع غرض ہر استعارہ کتاب سے کشید ہوتا تھا۔یوں کتاب اک اکسیر بن کر قاری کو بتدریج فہم و ادراک ٫خود شناسی ٫ برداشت ٫مکالمہ اور تہذیب سے روشناس کراتی ہے۔

میں قدیم و جدید کے دوراہے پر کھڑی اس نسل سے ہوں کہ جس نے کتب بینی کے ماحول کو بھی پایا اور اب اس کا نوحہ بھی سن رہا ہوں۔مجھے شروع سے ہی تاریخی ناول پڑھنے کا شوق تھا۔ یوں میں نے نسیم حجازی کے تمام تاریخی ناول پڑھ ڈالے۔اس بات نے مجھ میں مطالعہ کی عادت پیدا کی اور یوں بات تاریخی ناولوں سے ہوتی ہوئ سفر ناموں ٫آپ بیتیوں اور دیگر معیاری کتب تک جا پہنچی۔کتاب پڑھنے کے لیے میں نے کبھی وقت کا انتظار نہیں کیا بلکہ جیسے ہی فراغت ہوئ اپنی مرضی کے موضوع پر کتاب اٹھا لی اور آنکھوں و دماغ کے بوجھل ہونے تک پڑھتا رہا۔پھر بھی اگر مجھ سے پوچھا جائے تو صبح سویرے اور رات کے وقت کو مطالعہ کے لیے بہتر گردانوں گا کیونکہ ان اوقات میں سکون ہوتا ہے جو مطالعہ کے لیے بہت ضروری ہے۔

کتب بینی کا درست طریقہ یہ ہے کہ اللہ کا نام لے کر قبلہ رو بیٹھتے ہوئے آغاز کیا جائے۔کتب بینی کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ طبیعت تازہ ہو٫جگہ پرسکون ہو جہاں روشنی کا بھی مناسب بندوبست ہونا چاہیے تاکہ آنکھوں پر بےجا زور نہ پڑے۔ایک وقت میں ایک ہی موضوع کا مطالعہ کرنا اور ایک ڈائری پر قابل ذکر اور قابل وضاحت باتوں کو نوٹ کرتے جانا بھی مطالعے کے بہترین ثمرات کا موجب بنتا ہے۔پڑھی گئ باتوں کا خلاصہ اپنے الفاظ میں تحریر کرنا یا اس کو دوسروں تک شیئر کرنا بھی علم میں برکت کا سبب بنتا ہے۔ماہرین کے مطابق کسی بھی کتاب کو ایسے پڑھنا چاہیے کہ جیسے یہ آخری موقع ہے۔اس طرح مطالعہ جان دار رہتا ہے اور قاری بےجا ورق گردانی پر وقت ضائع کرنے سے اجتناب بھی کرتا ہے۔

کسی دانش ور کا قول ہے کہ ہوش سنبھالتے ہی ہمارا واسطہ کتابوں سے پڑتا ہے جو ہمیں زندگی گزارنے کی راہ دکھاتی ہیں۔لکھاری ہمارے معاشرے کے حساس ترین اور جذبات سے بھرے ہوئے لوگ ہوتے ہیں۔قاری کا جیسا مزاج ہوگا وہ اسی قسم کے لکھاری کو پڑھنا پسند کرے گا۔اس لیے لکھنے والوں کا فرض بنتا ہے کہ وہ قاری کو اپنے اندازِ تحریر سے ہیپناٹائیز کرتے ہوئے مثبت قدروں سے روشناس کرائیں اور اسے معاشرے کا مفید کارکن بنانے میں اپنا کردار ادا کرے۔کتابوں سمیت ہمارے ڈراموں٫فلموں٫لیڈروں کی تقریروں٫اخباروں٫گانوں سمیت سینکڑوں چیزیں لکھنے والوں ہی کے مرہون منت ہوتی ہیں یعنی ہمارا بولنا ٫ سننا لکھاریوں کی تحریروں پر ہی مشتمل ہوتا ہے۔المختصر ساری دنیا لکھاریوں کے زیر اثر رہتی ہے۔ لکھاری صرف کہانیاں ٫ناول اور کالم لکھنے والے کو ہی نہیں کہتے بلکہ ان سب سمیت سائنس سے لے کر تصوف لکھنے تک لکھاری کی تحریر ہی پڑھنے والے کی ذہنیت پر اثر انداز ہو رہی ہے۔یہی وجہ ہے کہ ماہرین نے کتاب کو انسان کا بہترین دوست کہا ہے۔

آج کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ سوشل میڈیا نے موجودہ نسل کو کتاب سے بہت دور کر دیا ہے۔ان کے پاس کتاب ڈھونڈنے ٫خریدنے اور پڑھنے کے لیے وقت ہی نہیں۔موبائل اور کمپیوٹر “کی پیڈ ” نے ان کا ناتا قلم٫سیاہی اور قرطاس سے توڑ دیا ہے۔موبائل اور کمپیوٹر سکرین نے ان کے قلب و نظر کو بےبصیرت کر دیا ہے۔ اب ہم سب کا فرض بنتا ہے کہ نئی نسل کو مطالعہ کا خوگر بنانے کی کوشش کریں۔ان کے ہاتھوں میں پھر سے قلم تھمائیں تاکہ وہ ڈیجیٹل جہالت کا شکار ہوکر کتاب کی بد دعا کا شکار نہ ہو پائیں.بقول شاعر:

کتابیں جھانکتی ہیں بند الماری کے شیشوں سے
بڑی حسرت سے تکتی ہیں
مہینوں اب ملاقاتیں نہیں ہوتیں
جو شامیں ان کی صحبت میں کٹا کرتی تھیں، اب اکثر
گزر جاتی ہیں کمپیوٹر کے پردوں پر
جو قدریں وہ سناتی تھیں۔۔۔۔
وہ قدریں اب نظر آتی نہیں گھر میں
جو رشتے وہ سناتی تھیں
وہ سارے ادھڑے ادھڑے ہیں
کوئی صفحہ پلٹتا ہوں تو اک سسکی نکلتی ہے
کئی لفظوں کے معنی گِر پڑے ہیں
بنا پتوں کے سوکھے ٹنڈ لگتے ہیں وہ سب الفاظ
جن پر اب کوئی معنی نہیں اگتے
کتابوں سے جو ذاتی رابطہ تھا، کٹ گیا ہے
کبھی سینے پہ رکھ کے لیٹ جاتے تھے
کبھی گودی میں لیتے تھے
کبھی گھٹنوں کو اپنے رحل کی صورت بنا کر
نیم-سجدے میں پڑھا کرتے تھے، چھوتے تھے جبیں سے
خدا نے چاہا تو وہ سارا علم تو ملتا رہے گا بعد میں بھی
مگر وہ جو کتابوں میں ملا کرتے تھے سوکھے پھول
کتابیں مانگنے، گرنے، اٹھانے کے بہانے رشتے بنتے تھے
ان کا کیا ہو گا
وہ شاید اب نہیں ہوں گے​
وہ شاہد اب نہیں ہوں گے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں