گاڑیوں کی منڈی کا نیا ٹھیکدار کون؟/تحریر/خطیب احمدجرمنی اور جاپان کی کار انڈسٹری اس وقت چائنہ کی الیکٹرک گاڑیوں کی وجہ سے خطرے میں ہے۔ چین اربوں ڈالر کی سبسڈی اپنی کار مینوفیکچرنگ انڈسٹری کو دینے کے ساتھ انتہائی سستی بجلی بھی دے رہا ہے۔ جس کا مقابلہ کرنا دنیا کے لیے مشکل نہیں ناممکن نظر آتا ہے۔ اور جرمنی و جاپان اپنی بڑی کمپنیوں کے انضمام پر سوچ رہے ہیں۔ امریکن کمپنیاں بھی اب چینیوں کو سیریس لینے لگی ہیں۔ وجہ ہے انکی سیل اور شئیرز کی بڑھتیں قیمتیں۔ جرمنی اور جاپان کی کمپنیوں کے منافع میں مسلسل کمی اور سیلز میں گراوٹ ان دہائیوں سے راج کرتی کمپنیوں کے لیے تشویش کا باعث بن رہا ہے۔ صرف جرمنی میں ایک ملین افراد کی نوکری اس وقت خطرے میں ہے۔ کہ آٹو موبائل انڈسٹری کا فیوچر جرمنی میں آخر کیا ہوگا۔
جرمنی میں Volkswagen Group (VW) سب سے بڑا کار مینوفیکچرنگ گروپ ہے۔ یہ مختلف برانڈز کی مالک ہے جیسے Volkswagen، Audi، Porsche وغیرہ۔ اسکے علاوہ Mercedes Benz اور BMW ہیں ۔ یہ سب اپنے اشتراک یا باہمی تعاون کے متعلق سوچ رہے ہیں ۔
وہیں پر جاپانی کار مینوفیکچر کرنے والی کمپنیاں چین کے تیز رفتار مقابلے سے نمٹنے کے لیے انضمام، اشتراک یا شراکت داری کی سمت جائیں۔ اس طرح کی حکمت عملی اب کچھ معاملات میں نظر آ رہی ہے۔ ذیل میں اس کا تجزیہ اور چند حقیقی مثالیں پیش ہیں:
کیوں انضمام / شراکت داری ضروری ہو سکتی ہے؟
چند محرکات جو جاپانی کمپنیوں کو انضمام کی طرف مائل کر سکتے ہیں:
مسابقتی دباؤ، خاص طور پر چین سے
چینی کار ساز خاص طور پر برقی گاڑیوں (EVs / NEVs) میں تیز رفتاری سے آگے بڑھ رہے ہیں، قیمت کم رکھ رہے ہیں اور ٹیکنالوجی میں جدت لا رہے ہیں۔ اس کی وجہ سے جاپانی برانڈز کو مارکیٹ شیئر کم ہوتا جا رہا ہے۔ 
اس دباؤ کا اثر چین میں خاص طور پر محسوس کیا جا رہا ہے جہاں جاپانی برانڈز کی مارکیٹ شیئر کم ہو گئی ہے۔

بڑی سرمایہ کاری درکار ہے
الیکٹرک گاڑیوں، بیٹری ٹیکنالوجی، خود مختار ڈرائیونگ سافٹ ویئر، ہائیڈروجن ٹیکنالوجی وغیرہ میں بہت زیادہ R&D اور سرمایہ درکار ہے۔ ان اخراجات کا بوجھ تن تنہا ایک کمپنی کے لیے اٹھانا مشکل ہو سکتا ہے، اس لیے اشتراک یا انضمام سے معیشتِ پیمانہ (economies of scale) کا فائدہ ہو سکتا ہے۔
ریسورس اور سپلائی چین کا اشتراک
بیٹری، سیمی کنڈکٹر، برقی اجزاء وغیرہ کے حصول میں شراکت داری کر کے لاگت کم کی جا سکتی ہے اور رسد کو مستحکم بنایا جا سکتا ہے۔
مارکیٹ رسائی اور لوکلائزیشن
اگر ایک کمپنی دوسری کمپنی کے مارکیٹس (جیسے چین یا دیگر ایشیائی منڈیوں) میں مضبوط ہو، تو انضمام یا شراکت داری اس رسائی کو آسان بنا سکتی ہے، اور لوکلائزڈ پروڈکشن یا ڈویلپمنٹ ممکن بنائے گی۔
دسمبر 2024 میں خبریں آئیں کہ ہونڈا اور نسان نے 2026 تک ایک مشترکہ انضمام معاہدہ کرنے کا منصوبہ بنایا ہے تاکہ وہ چین اور عالمی سطح پر چیلنجرز کا مقابلہ کر سکیں۔ مگر فروری 2025 میں یہ اعلان کیا گیا کہ وہ اس معاہدے کو ختم کر رہے ہیں۔ بنیادی رکاوٹ میں شرائط، شراکت داری کی ساخت، اور کمپنیوں کے برابر مقام پر رہنے کی خواہش شامل تھیں۔
جون 2025 میں یہ خبر آئی کہ ٹویوٹا کا ٹرک یونٹ “Hino Motors” اور ڈائمِلر کا “Mitsubishi Fuso Truck & Bus” یونٹ ایک مشترکہ ہولڈنگ کمپنی بنانے پر متفق ہو گئے ہیں۔ اس معاہدے کا مقصد تجارتی / بھاری گاڑیوں کے شعبے میں طاقتور مقابلہ کرنا ہے، خاص طور پر برقی یا ہائڈروجن ٹیکنالوجی میں۔
جاپانی کار برانڈز (Toyota, Honda, Nissan وغیرہ) کی اپنی شناخت ہے۔ ان برانڈز کو ضم کرنے سے کس نام کے تحت گاڑیاں آئیں گی، کس برانڈ کو ترجیح دی جائے گی، یہ سوالات اہم ہیں۔ ابھی انکے ہی جوابات تلاش کیے جا رہے ہیں۔
چین کی الیکٹرک گاڑیاں پوری دنیا میں سونامی کی طرح پھیل رہی ہیں۔ وہیں ان گاڑیوں کے مکینک ڈیمانڈ سے بہت کم دستیاب ہیں۔ آنے والے سالوں میں الیکٹرک وہیکل مکینک کی لاکھوں ملازمتیں دنیا بھر میں پیدا ہونے والی ہیں۔ آپ اس ہنر کو سیکھ کر اسے اپنے روزگار کا ذریعہ بنا سکتے ہیں۔
آپ آٹو موبائل انڈسٹری سے کسی بھی طرح جڑے ہوئے ہیں تو آپ کے لیے بھی بروقت اس نالج کا ہونا از حد ضروری ہے کہ اس انڈسٹری کا دس سال بعد فیوچر کیا ہے؟ ایسا نہ ہو کہ خدا نخواستہ آپ کے ساتھ نوکیا فون ، یاشیکا کیمرہ والی کہانی ہوجائے۔ کہ پتا تب چلے جب پانی سر سے گزر چکا ہو۔ اور کچھ نہیں تو ایک عدد EV خرید کر اسے چلانا آج سے ہی شروع کریں۔ تاکہ آئندہ اس پراڈکٹ پر R&D کرنے میں فرسٹ ہینڈ نالج پاس آئے۔ چین اب رکنے والا نہیں ہے۔ قیمت میں سستی ، فیول خرچ کم ، ریگولر مینٹننس کا خرچ انتہائی کم، اور ایڈوانس فیچرز والی چائنیز EV بھلا کون اور کب تک نہیں خریدے گا؟