اس مرتبہ اگست میں قوم کے جشن منانے کاانداز کچھ ایساتھا کہ لاہور جیسے بڑے شہر میں مغرب زدہ خواتین اکٹھے ہو کر ۔۔۔۔ مردوں والے ڈریس زیب تن کر کے ۔۔۔۔ سائیکل چلا کر ہاو ہو کر رہی تھیں۔ اسلام آباد جیسے بڑے شہر میں آتشبازی اور پٹاخوں نے 14اگست کی رات کی خاموشی کو وہ راگ عطا کردیا کہ جو سونا چاہ رہے تھے سو نہ سکے اور جو جاگ ریے تھے وہ ،بیداری ، کے مفہوم سے ناآشنا۔۔۔
چھوٹے شہروں میں لڑکے بالے باجا بجاتے رہے۔۔۔۔۔۔۔ جوانوں نے یہ دن سو کر گزار دیایا پھر یوٹیوب اور فیسبک کے نام کیا ۔بوڑھے ماضی کے نقوش کی یاد کو بھلانے کی کوشش میں رہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ چند دن گزرے کہ پوری قوم پر ایک ایسی آفت آن پڑی کہ کہیں تو ہاتھوں کے طوطے اڑگئےکہیں سٹی گم ہوگئ کہیں ہارٹ اٹیک کاخدشہ پیدا ہوگیا ۔۔۔۔ لوگ خودکشیاں کرنے پر مجبور ہو گئے ۔۔۔۔ وہ کیا آفت تھی ؟
آسمانی بجلی گری کہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟
نہیں نہیں ۔۔۔۔ بجلی کا بل گرا۔۔۔۔ ہرگھر میں گویا کہرام مچ گیا۔ صف ماتم بچھ گئ
الزام دیا جائے شہباز شریف، مریم نواز، مریم اورنگزیب، رانا ثنا الله کو ؟؟؟ ۔۔۔۔ مانا انہوں نے کمینگی کی حد کر دی ۔۔۔۔ اپنے خلاف سارے کیسز نیب سے ختم کروائے، اپنے مغربی و یورپی آقاؤں کی رضا کی خاطر دھڑا دھڑ بل اسمبلی سے منظور کرائے بڑی چالاکی اور خاموشی کے ساتھ ۔اور
پرانی لوٹ کھسوٹ میں جو کوئی کسر رہ گئی تھی، پوری کی اور چلتے بنے ۔۔۔۔
مگر ۔۔۔۔ اپنے مقصدِ حیات سے غافل اے پاکستانی قوم! ٹھنڈے دل سے سوچو ذرا خدارا۔۔۔
جس راہ پر چل نکلے ہو کیا یہ زندہ قوم کے کرتوت ہوتے ہیں ؟
مدینہ کی طرز پر حاصل کی گئی اسلامی ریاست کیا اس لئے حاصل کی گئی تھی کہ
ہماری خواتین اس قدر احساس کمتری کا شکار ہو جائیں کہ سارے ضروری کام چھوڑ کر سائیکل سواری کرنے نکل کھڑی ہوں کہ دیکھو دنیا والو ہم مردوں سے کم نہیں، کیا ان کے ذمے جو پاکستان سے مخلص نسل تیار کرنے کا کام تھا وہ اس سے فارغ ہیں؟
۔۔۔۔۔ ہمارے بچے ساری رات آتشبازی اور پٹاخہ بازی کر کے لوگوں کی نیند خراب کریں، قومی تہوار کو باجا بجانے جیسے گھٹیا مصروفیت کے نام کر دیں ، ؟؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نہیں ناں ۔۔۔۔؟؟
جب راہ راست سے ہم خود بصد شوق بھٹک گئے تو جہاں کئی اور دکھوں نے ہمارے گھر کی راہ دیکھ لی وہاں بجلی کے بل کیوں پیچھے رہتے۔
حل کیا ہے؟؟؟ بھئی بجلی، پانی، روٹی، دال، روزگار آپ کا حق ہے ریاست ذمہ دار ہے آپ کو بہم پہنچائے یہ سب ۔۔۔۔۔
مگر آپ نے دیکھ لیا پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نے، بھٹو کی باقیات اور شریف خاندان نے آپ کا کیا حشر نشر کر دیا۔ تو خدارا
اب ان سے پیچھاچھڑاو۔
آج تک تم شخصیت اور چہرے کو ووٹ دیتے رہے۔۔
اب کی بار پاکستان کوووٹ دو۔۔۔
اب کی بار نظریے کوووٹ دو
اب کی بار ووٹ جیسی بھاری امانت کسی ملک کسی وڈیرے کسی جاگیردار کسی خان کے نام نہیں کرو۔۔۔
بس اپنے لیے حکمران کاانتخاب کرنے سے پہلے قائد(رح) کاوہ فرمان یادکرلینا کہ ،، یہ زمین کاٹکڑا ہم اس لیے حاصل کرناچاہتے ہیں کہ اسے اسلام کی تجربہ گاہ بنائیں گے،،۔۔۔
اور اب ہم دیکھتے ہیں سستی بجلی کاخواب۔۔۔ تو کیا یہ ممکن ہے؟؟؟ جی ہاں صرف خواب نہیں حقیقت میں ایسا ممکن ہی نہیں بلکہ عملی طور آسان بھی ہے۔ آئیے نگاہ دوڑاتے ہیں سات نکاتی ایجنڈا برائے سستی بجلی ، پر ۔۔۔
یہ سینیٹر مشتاق احمد خان صاحب نے پیش کیاہے۔۔
آو اہل وطن ہم سینیٹر مشتاق احمد خان صاب کے ہم آواز ہو کے اپنے حکمرانوں سے مطالبہ کریں کہ۔۔۔۔۔
1۔۔۔مفت بجلی بند کرو،ججز ،جرنیل، افسرشاہی ، واپڈاملازمین، پارلئیمنٹرئینز ، کسی کو ایک یونٹ بھی مفت نہ دو۔۔
2۔۔۔ آئ پی پیز سے فراڈ معاہدے ختم کرو اور ان کے مالکان کو گرفتار کرو۔ ملک میں فرنس آئل اور امپورٹڈ کوئلے سے بجلی کی تیاری پہ پابندی لگاو
3۔۔۔بجلی کی چوری کو دہشتگردی کے برابر جرم قرار دے کر متعلقہ مجرمین کو کھلے عام سزائیں دو
4۔۔۔بجلی کی ٹرانسمیشن لائنز کو اپ گریڈ کرکے لائن لاسز کو ختم کرو
5۔۔عوام کو بلاسود آسان شرائط پر سولر پینلز فراہم کرو
6۔۔آئیندہ کے لیے بننے والے ہر گھر کے لیے سولر انرجی کو بلڈنگ کوڈ میں شامل کرو
7۔۔۔ہائیڈل ، سولر، ونڈ کے پوٹینشل کو کام میں لانے کے لیے طریقہ کار سہل بناو۔۔#