64

افغانستان میں خواتین کے تجارتی مراکز اور اسلام دشمن عناصر/ تحریر: عبدالصبور شاکر

خواتین معاشرے کا ایک اہم حصہ ہیں۔ ان کی ضروریات، مسائل، مذہبی امور، حقوق اور فرائض کافی حد تک مردوں سے مختلف ہیں۔ دنیا اس معاملے میں دو انتہاؤں پر کھڑی ہے۔ کچھ لوگ معاشرے کے اس اہم ترین کل پرزے کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے پاؤں کی جوتی سمجھتے ہیں جب کہ دوسری جانب کچھ لوگ آزادی، مساوات اور ترقی کے نعروں سے متاثر ہو کر اسے مردوں کی صف میں لا کھڑا کرتے ہیں۔ یہ دونوں انتہائیں عورت کی زندگی اجیرن بنا دیتی ہیں۔ پہلی صورت میں عورت اپنے بنیادی حقوق مثلاً تعلیم، علاج معالجہ اور حق رائے دہی وغیرہ سے محروم کر دی جاتی ہے۔ دوسری صورت میں اس کے سر پر وہ اضافی فرائض تھوپ دیے جاتے ہیں جو اس کے ذمے تھے ہی نہیں۔ مثلاً گھر سنبھالنے کے ساتھ ساتھ معیشت، جسمانی مشقت اور بیرونی مسائل سے بھی نمٹنا وغیرہ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان دونوں انتہاؤں کے درمیان راہ اعتدال تلاش کی جائے جس میں اس کی الگ شناخت تسلیم کی جائے تاکہ اس کے بنیادی حقوق بھی پامال نہ ہوں اور اس کے سر پر اضافی بوجھ لادنے سے بھی پرہیز کیا جائے۔ یقیناً یہ راہ اعتدال اسلام ہی دکھاتا ہے۔

مارچ کے وسط میں وائس آف امریکہ وغیرہ میں خبر گرم رہی کہ افغانستان میں نئی حکومت کی جانب سے خواتین کے لیے الگ سے شاپنگ مال کھولے گئے ہیں۔ جن میں دکان دار و گاہک دونوں خواتین ہوں گی اور ان مالز میں مردوں کا داخلہ ممنوع ہوگا۔ ابتدائی طور پر یہ شاپنگ سینٹر کابل، ہرات اور مزار شریف میں کھولے گئے ہیں جن میں ایک ہزار کے قریب مستورات کو روزگار فراہم کیا گیا ہے۔ یہی نہیں، ان کے کاروبار کی ترویج کے لیے دکان کا چھے مہینوں کا کرایہ بھی معاف کر دیا گیا ہے۔ ”باختر نیوز ایجنسی” کے مطابق مزار شریف کے میئر مولوی نقیب اللہ طارق کا کہنا ہے کہ مزار شریف میونسپلٹی نے صوبائی حکومت کے مشورے سے خدیجۃ الکبری نامی تجارتی مرکز کھولا ہے جس میں گارمنٹس، اشیائے خورد و نوش، برتن اور دستکاری کی چیزیں بیچنے و خریدنے کے لیے خواتین کی معاونت کی جا رہی ہے۔ ترجیحا ان مستورات کو دکانیں الاٹ کی جا رہی ہیں جو اپنے خاندان کی واحد کفیل ہیں۔ اس خبر سے مذکورہ بالا دونوں انتہاؤں کے لوگوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ اول الذکر طبقہ نئی حکومت کو اپنے اصولوں سے منحرف گردانتے ہوئے سوچ رہا ہے کہ اس طرح افغان روایات اور ثقافت کا خون ہو رہا ہے۔ دوسرا طبقہ بھی ناراض ہے؛ ان کا خیال ہے کہ اس اقدام سے انسانی حقوق اور مساوات کے نعرے کو ٹھیس پہنچ رہی ہے۔ خواتین کو مردوں سے الگ کر کے صنفی تفریق پیدا کی جا رہی ہے۔

پہلا طبقہ افغان معاشرے کی ضروریات اور مسائل سے جان بوجھ کر پہلو تہی کر رہا ہے۔ سوچنا چاہیے، جو معاشرہ چار دہائیوں سے حالت جنگ میں ہے، دنیا کے دو طاقت ور بھیڑیوں سے ٹکرانے کے بعد ان کے گھر بار تباہ ہو چکے ہیں، مردوں کی کثیر تعداد جنگ میں جھونکی جانے کی وجہ سے بیواؤں اور یتیموں کی تعداد میں خطرناک حد تک اضافہ ہو گیا ہے۔ ایسی صورت حال میں ان لوگوں کو مچھلی فراہم کرنے کی بجائے مچھلی پکڑنے والا کانٹا دینے کی ضرورت ہے تاکہ وہ کسی پر بوجھ بننے کی بجائے عزت سے سر اٹھا کر جی سکیں۔ انہیں نان جویں کے لیے سربازار اپنی عزت نیلام نہ کرنی پڑے۔ اگر یہ کام کچھ حدود و قیود اور شریعت کے دائرے میں رہ کر کیا جائے تو کسی کو فکر مند ہونے کی کیا ضرورت ہے۔ قرن اول میں صحابیات اور امہات المؤمنین بڑے بڑے کاروباروں سے منسلک تھیں۔ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کا شمار مکے کے بڑے تاجروں میں ہوتا تھا جن کا مال یمن اور شام کی منڈیوں میں بکنے جایا کرتا تھا۔ ام المومنین سیدہ ام سلمہ، سیدہ زینب بنت جحش، سیدہ سودہ بنت زمعہ اور خولہ بنت توقیت رضی اللہ عنہن کھالیں رنگنے کے کاروبار سے منسلک تھیں۔ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا طبیبہ اور جراح تھیں۔ اسماء بنت مخرمہ اور خولہ بنت قیس عطر بیچتی تھیں حتی کہ خولہ تو ” عطارہ” کے نام سے ہی مشہور تھیں۔ جابر بن عبداللہ کی خالہ کھجوریں توڑ کر اپنا پیٹ پالتی تھیں۔ ام مبشر انصاریہ کا ذاتی باغ تھا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود کی اہلیہ زینب دستکاری کے فن میں ماہر تھیں۔ حضرت بسرہ بنت صفوان کا اپنا بیوٹی پارلر تھا۔ بعض صحابیات ایل ایچ وی تھیں۔ ان میں سے اکثر کو نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے خود اجازت مرحمت فرمائی تھی تاکہ وہ نہ صرف اپنی ضروریات کی تکمیل کر سکیں بلکہ اپنا معیار زندگی بھی بہتر کر سکیں۔

علماء دین کسی بھی کاروبار کے لیے خواتین کو ناموزوں قرار نہیں دیتے۔ جب قرآن مجید نے احل اللہ البیع و حرم الربوا کہتے ہوئے مرد عورت کی تفریق نہیں رکھی تو کون اس سے روکے گا؟ چنانچہ چند شرائط کے ساتھ خواتین کو کاروبار کرنے کی مکمل اجازت دی گئی ہے۔ یعنی کاروبار جائز ہو، جائز طریقے سے ہو اور پردے کے اہتمام کے ساتھ ہو تو ایسا کاروبار کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ یہ شرائط محض خواتین کے لیے نہیں، مردوں کے لیے بھی ہیں۔

دوسرا طبقہ خواتین کے بنیادی حقوق پامال ہونے پر فکرمند ہے۔ یہ لوگ تفہیم اسلام کے معاملے میں یا تو جان بوجھ کر آنکھیں موند رہے ہیں یا انہیں اس بارے میں کوئی غلط فہمی ہوئی ہے۔ اسلام جو حدود و قیود لگاتا ہے اس میں سراسر عورت ہی کا فائدہ ہے۔ چنانچہ قرآن مجید کے مطابق پردے کا حکم اس لیے دیا گیا ہے تاکہ انہیں تنگ نہ کیا جائے۔ یعنی ہراسمنٹ سے انہیں بچانے اور شریر مردوں کی شیطانی نظروں سے حفاظت کے لیے ضروری ہے کہ خواتین کو کچھ ایسے اصول بنا کر دے دیے جائیں جن پر عمل کر کے وہ ان تمام پریشانیوں سے بچ سکیں۔ ہر ملک اپنے شہریوں کو مسائل سے بچانے کے لیے کچھ پابندیاں لگاتا ہے لیکن کہیں بھی نہیں کہا جاتا کہ یہ ملک اپنے شہریوں کی آزادی سلب کر رہا ہے یا ان کے حقوق پامال کر رہا ہے۔ سب سمجھتے ہیں کہ یہ اقدامات عوام کی بہتری کے لیے ہی ہیں۔ اسلام کے فیصلے کو اسی تناظر میں دیکھا اور سمجھا جائے تو اس طبقے کی فکر مندی ہوا ہو جاتی ہے۔ جن معاشروں میں عورت کی صنفی تفریق ختم کر دی گئی ہے وہاں سب سے زیادہ ان کے حقوق کی پامالی ہو رہی ہے۔ زنا بالجبر، قتل اور عورت پر تشدد کے سب سے زیادہ واقعات انہی ملکوں میں واقع ہو رہے ہیں۔ حیرت ہے کہ آزادی کے یہ علم بردار اپنے ملکوں میں مسلم عورت کو حجاب اوڑھنے سے روک کر ان کی آزادی سلب کر لیتے ہیں۔ پھر عیسائی ننوں کو حجاب اوڑھنے کی آزادی اس لیے دے دیتے ہیں کہ یہ ان کا مذہبی حق ہے۔ یہ دہرا معیار میری سمجھ میں سے باہر ہے۔ اس گھٹن زدہ سوچ کی دنیا میں اگر افغان حکومت اپنے خرچ پر ہزاروں خواتین کو کاروباری لائسنس فراہم کر کے انہیں اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے میں معاونت کر رہی ہے تو ان کے اندرونی معاملات میں کسی کو ٹانگ اڑانے کی کیا ضرورت ہے؟؟؟


اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں