77

” خاموشی سکون قلب ہوتی”/تحریر/نمرہ امین، لاہور

میں نے اس دنیا میں یہ بھی سیکھا ہے کہ ہر بات کا جواب لفظوں میں نہیں ہوتا ہے نہ ہم اپنے لفظوں سے سب کو اپنا آپ بیاں کر سکتے ہیں۔ کسی بات کا جواب مکمل خاموشی بھی ہوتی ہے۔ کبھی ایسے خاموش رہنا بہتر ثابت ہوتا ہے نہ اپنے لفظوں کو کسی پر ضائع کرو نہ اس کو بے شمار دلائل دے کر باتوں کو واضع کرو۔ کچھ باتیں ایسی ہوتی ہیں جو کوئی چاہ کر بھی نہیں مانتا، نہ یقین کرتا ہے وہاں اپنے دلائل سب کے سامنے دینے سے بہتر ہے کہ خاموش رہو اور اپنے فیصلے اللہ پر چھوڑ دو سب کچھ بہتر ہو جائے گا اور جو اطمینان و سکون خاموش رہنے اور اللہ سے باتیں کرنے سے ملتا ہے وہ کسی اور طرح نہیں ملتا ہے۔
جب انسان اپنا ہر معاملہ اللہ پر چھوڑ دیتا ہے اسی پر یقین کر کے مدد طلب کرتا ہے تو اس کو سکون کے ساتھ خوشی بھی میسر ہوتی ہے۔ وہ دنیا داری اور لوگوں کی پرواہ ان کی باتوں پر دھیان دے کر ڈپریشن کا شکار نہیں ہوتا ہے وہ بس اپنے اللہ پر یقین اور ہر بات اپنے اللہ کے حوالے کر کے اپنی سکون کی زندگی جیتا ہے۔
آج کل کوئی انسان کسی کے صلاح مشورے لے کر نہیں چلتا ہے، نہ اس کی بات مانتا ہے ہر کوئی اپنی مرضی کا مالک ہے اور اپنے طریقے سے زندگی گزارتا ہے۔ کوئی کسی کی کہی ہوئی باتوں کو اہمیت نہیں دیتا ہے تو پھر کیوں؟ ایسے لوگوں پر اپنا وقت برباد کرنا اور ان کو کوئی مشورے بھی دینے یا اپنی کوئی دلیل بھی دینی چاہیے!
صرف اپنے آپ سے مطلب رکھیں اپنے کام ایمانداری سے کریں خود سے پیار کریں، مثبت سوچ رکھیں اور ہر بات اپنے اللہ سے کر کے اس پر ہر فیصلہ چھوڑ دیں پھر دیکھیں کیسے آپ کے سب کام بہتر سے بہترین ہوتے جائیں گے اور کتنی سکون والی زندگی ہو جائے گی۔
“بے شک خاموشی سکون قلب ہوتی ہے اور خاموشی بہترین عبادت بھی ہے۔”
بہترین جواب ہی خاموش رہنا ہے۔
بےشک اللہ کے ذکر سے ہی دلوں کو اطمینان و سکون ملتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں