
محمد اسید انور، ٹوبہ ٹیک سنگھ
ہر طرف خوشی کا سماں تھا۔ اللہ رب العزت کی جانب سے مسلمانوں کے لیے ضیافت کا دن تھا۔ لوگ ایک دوسرے کو عید الاضحی کی مبارک باد دینے میں مگن تھے۔ بچوں کی چہل پہل، اچھل کود نے خوش گواری کو دوبالا کیا ہوا تھا۔ لوگ ابراہیم علیہ السلام کی سنت کو زندہ کرنے میں مشغول تھے۔ ہرگھر کے باہر قربانی کا منظر مسلمانوں کی یک جہتی و مہمان نوازی کو بیاں کررہا تھا۔
اچانک رنگ میں بھنگ پڑ گئی۔ سوشل میڈیا سے ایک خبر بریک ہوئی۔ یہ سراسر ایمان والوں کے امتحان کا مسئلہ تھا۔ مسلمانوں کے جذبات کا الاؤ بھڑکنا فطری عمل تھا۔ مختلف علاقوں میں لوگ عید کے روز ہی سڑکوں پر نکل آئے۔ کیوں کہ معاملہ تھا ہی ایسا! دیکھنے میں تو ایک چھوٹا سا مسئلہ تھا، لیکن مسلمانوں کی غیرت کو للکارا گیا تھا۔ ملعون مغربی ملک سویڈن میں قرآن پاک کے نسخہ کو سر بازار نذر آتش کیا گیا۔ جس کی وجہ سے مسلمان کا خون سویڈن کو نظر آتش کرنے کےلیے کھول اٹھا۔ لیکن حد میں رہتے ہوئے اسلامی ممالک میں احتجاج کیے گئے۔ اس کے سفارت خانوں کو بند کیا گیا۔ باقی ممالک کی طرح پاکستان میں بھی لوگ سراپا احتجاج ہوئے۔ سفارت خانے کو غیر معینہ مدت کے لیے بند کر دیا گیا۔ یہی نہیں، بلکہ فخر ہوا یہ سن کر، کہ اقوام متحدہ میں سویڈن کے خلاف قراردار بھی پاکستان نے پیش کی۔
یہ سب ہونے کے بعد لوگوں کی ذہنیت پر بہت افسوس ہوا کہ جب قوم سراپا احتجاج تھی۔ ہر کوئی اپنے انداز میں احتجاج کر رہا تھا۔ ایک جم غفیر اگر سڑکوں پر تھا، تو دوسرا سوشل میڈیا پر اپنے ایمانی جذبات کو ظاہر کررہا تھا۔ ان کے علاوہ اہل اللہ رب ذوالجلال کے سامنے سجدہ میں سر رکھے ہوئے تھے۔ حکومتی ارکان اسمبلی میں سویڈن کے خلاف احتجاجی تقاریر کر رہے تھے۔ اس وقت شر پسندوں کا ایک ٹولہ سوشل میڈیا اور نجی محافل میں سیاست سے وابستہ علما کرام پر آوازیں کسنے میں میں لگا ہوا تھا۔ حکومتی سطح پر سویڈن کے خلاف اٹھائے جانے والے اقدامات سے بالکل ناواقف، بلکہ ملکی معاملات کی خبروں سے دلچسپی نہ رکھنے والے، جنہیں صرف ایک اندھا دھند کارکن کہا جا سکتا ہے۔ اولیاء اللہ اور علما کے بغض سے اتنے بھرے ہوئے کہ سویڈن میں قرآن پاک کا نسخہ جلائے جانے پر، اپنے سینوں میں قرآن پاک کو محفوظ کرنے والے رہبر و رہنما علماء کی تذلیل اور توہین کر رہے تھے۔
افسوس سویڈن کے غیر مسلموں نے قرآن پاک کو جلا کر اس کے تقدس کو پامال کیا اور پاکستان کے مسلمانوں نے اپنے لیڈروں کی محبت اور علماء کے خلاف پڑھائے گئے سبق نے ان کی آنکھوں پر ایسی پٹی باندھی کہ انہوں نے قرآن کے الفاظ، معانی مفاہیم کو سمجھنے اور سمجھانے والے، حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وراثت کے حقدار علماء کرام کے وقار ہی کو مجروح کرنا شروع کر دیا۔
قرآن کی بے حرمتی تو تب بھی ہوتی تھی، جب پشاور اور افغانستان میں مدارس کے ننھے منے طلبا پر بم دھماکے ہوتے تھے۔ سینکڑوں پھول سے بچے خون میں نہا جاتے اور ہزاروں قرآن کے نسخے بھی جلتے۔لیکن اس وقت اسمبلی کے فلور، سڑکوں اور چوکوں چوراہوں پر احتجاج یہ داڑھی پگڑی والے ملّا ہی کرتے تھے۔ اس پر مستزاد یہ کہ تب بھی انھی وارثان علوم نبوت کو قصور وار ٹھہرایا جاتا تھا۔
آج اگر قرآن پاک کے نسخہ کو جلا کر اس کی بے حرمتی کی جاتی ہے، تو وہ لوگ جو خود قرآن کو گھروں میں طاق میں سجائے رکھتے ہیں۔ قرآن کریم کے احکامات کو پس پشت ڈالے ہوئے ہیں، وہ بھی اس کا قصور وار علماء کو ٹھہرا کر ان پر بکنا شروع کر دیتے ہیں۔ خدارا! اپنی حالت پر غور کریں۔ اگر یہی کچھ چلتا رہا تو اللہ نہ کرے ایک دن اپنے ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔ اگر یہ علماء غلط راستے پر چلتے بھی ہیں تو انہیں سمجھانے کا حق صرف ان کے اکابر اور مفتیان کرام و مشائخ کو ہے، میں اور آپ یہ حق نہیں رکھتے کہ سارا دن اللہ کی نافرمانیوں میں گزاریں اور جب دین کریم کو تمھارے ساتھ کی ضرورت پڑے تو اہل دین کو بدنام کرنا شروع کردیں۔ خدارا! اس سے پہلے کہ اللہ تعالیٰ ناراض ہو کر علما جیسی نعمت کو تمھارے اندر سے اٹھا لیں اور دین و سیاست کے کسی پہلو پر تمھاری رہنمائی کرنے والا نہ ملے۔ کیوں کہ علامہ اقبال مرحوم نے فرمایا تھا:
جدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی
…