سن عیسوی حضرت عیسی علیہ السلام کے نام سے موسوم اور تاریخ ولادت سے میلادی چلا آرہاتھا،خلافت اسلامیہ کے قیام اور اسلامی احکامات،روایات اور غزوات کو باقاعدہ تدوین کرنے یاد رکھنے اورتاقیامت آئندہ نسلوں تک منتقل کرنے کی اشد ضرورت تھی اسی ضرورت کے تحت یاداشت کے طور پر ایک تاریخ کاتقرر بھی ضروری تھا۔
لہذا اس اہم ترین امر کی تکمیل کے لیےدور فاروقی میں حضرت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی سربراہی میں ہی کبار صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین سے مشاورت ہوئی تو دوران مشاورت (3) آراء سامنے آئیں
(1) سن عیسوی کی طرح اسلامی تاریخ بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت کےحساب سے مقرر کی جائے۔
(2)یہ کہ آپ کی بعثت مبارکہ سے مقرر کی جائے۔
(3 )ہجرت مدینہ سے کی جائے بالآخر پہلی دونوں آراء پر اتفاق نہ ہوسکا کیونکہ تاریخ ولادت باسعادت میں تمام لوگوں کااتفاق نہیں تھا بعض کے نزدیک تو مہینوں تک کا اختلاف ہے اسی وجہ سے آج بعض آئمہ کے نزدیک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت ربیع الاول کے مہینے میں ہوئی ہی نہیں۔”علی ھذا القیاس”
اس کے بعد بعثت مبارکہ پر بھی اتفاق نہ ہوا کیونکہ بنسبت تاریخ ہجرت کےتاریخ بعثت زیادہ مشہور و معروف نہیں تھی۔
لہذا ہجرت مدینہ سے اسلامی تاریخ کا قیام عمل میں آیا
“سیرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ لابن جوزی رحمہ اللہ تعالی”
میں درج ہے کہ اسلامی تاریخ کا اجراء خلافت فاروقی کے اڑھائی سال بعد ماہ محرم سے ہوا۔
محترم قارئین”یہاں یہ بھی بتاتا چلوں کہ ہماری مذہبی کتاب قرآن مجید پارہ نمبر (10) سورہ التوبہ کی آیت نمبر (36 )کی روشنی میں خالق کائنات کی طرف سے مقرر کردہ بارہ مہینوں میں سے ماہ محرم روز اول سے ہی محترم تھا ہے اور رہے گا ان شاءاللہ۔۔۔۔۔۔۔!
ماہ محرم کے فضال میں کافی روایات ہیں لیکن طوالت مضمون سے بچتے ہوئے صرف ایک روایت پر اکتفا کروں گا جس میں آتا ہے کہ فرضیت رمضان سے پہلے دس محرم کا روزہ مسلمانوں پر فرض تھا بعد میں منسوخ ہوگیا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم عاشورہ کاروزہ مستقل رکھتے تھے۔ اور دوسری طرف یہود مدینہ بھی عاشورہ کا روزہ رکھتے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وجہ دریافت کروائی توپتہ چلا کہ یہود اس دن شکرانے کے طور پر روزہ رکھتے ہیں کیونکہ اسی دن اللہ پاک نے فرعون کو پانی میں غرق کیا اور موسی علیہ السلام کی قیادت میں بنی اسرائیل کو نجات دی اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ آئندہ سال تک میں دنیا میں حیات رہاتو دس کے ساتھ نو یا گیارہ کا روزہ بھی رکھوں گا مزید رحمت کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے امید ہے کہ جو شخص عاشورہ کے روزے (یعنی نو دس یادس گیارہ )رکھے گا اللہ تعالی اس کے لیےایک سال کی خطاوں کا کفارہ بنادے گا اس تفصیل سے ماہ محرم کی فضیلت خوب واضح ہوجاتی ہے۔
قائین کرام: آج عوام الناس میں پھیلی دو مشہور غلطیوں کی اصلاح کرنا ضروری سمجھتا ہوں (1) اکثرعوام یہ سمجھتی ہے کہ ماہ محرم میں واقعہ کربلا پیش آیا تھا تب اسے یہ مقام ملا حالانکہ ایسی بات نہیں قرآن مجید میں مذکورہ بالا حوالہ دیکھاجاسکتاہے۔اس کامحترم ہونا تو روزاول سے ہے۔
ہم یہ کہتے ہیں کہ رب العالمین کی کتنی کرم نوازی ہے نواسہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کی ذات گرامی پر کہ انھیں شھادت کے لیے ماہ محرم جیسا عظیم الشان مہینہ عطافرمایا بالفاط دیگر یوں کہاجاسکتا ہے کہ سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ سوفیصدکامیاب اور کنفرم جنتی تو پہلے ہی تھے البتہ محرم نے امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کو اپنے احترام کے ساتھ مزید چارچاند لگادیے۔
(2) یہ کہ ہمارے ہاں عیسوی اور ہجری دونوں تاریخیں رائج ہیں لیکن بعض اوقات ایسا کچھ دیکھنے کو ملتا ہے کہ ایک منصف مزاج انسان پریشان ہو جاتا ہے۔
ایک عصری تعلیمی ادارے میں مسلمان پروفیسر صاحب اپنے اسٹوڈنٹس کو انگلش کی بک پڑھاتے ہوئے یکدم رک گئے اور سوالیہ انداز میں بولے آپ کو پتا ہے اس سٹوری میں جو تاریخ وسن درج ہے اس میں بریکٹ کے اندر a.d لکھا ہے اس کا کیا مطلب ہے شاگردوں کی خاموشی پر خود ہی بولے اس کا مطلب ہے عیسی علیہ السلام کی وفات اے سے مراد عیسی علیہ وسلم اور ڈی سے مراد ان کی ڈیتھ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!یہ سچاواقعہ ہے اور میری موجودگی میں پیش آیا میرے ٹوکنے پر انہوں نے فورا تاویل کرلی لیکن جہاں کوئی پوچھنے والا نہیں وہاں سے پڑھ کر نکلنے والے طلباء باآسانی قادیانیت کی طرف راغب ہوتے ہوں گے۔
حالانکہ ہم مسلمانوں کا اجماعی عقیدہ ہے کہ عیسی علیہ السلام اسی جسم مع الروح آسمان پر زندہ ہیں اور قرب قیامت میں نزول ہوگا
اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ہمیں بحیثیت سچےمسلمان تمام خرافات سے بچنے اور صحیح اسلامی تعلیمات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین یا رب العالمین
97