113

آپ بھی کامیاب ہو سکتے ہیں/تحریر/شکیل احمد رومی/اسسٹنٹ ایڈیٹر ہفت روزہ شریعہ اینڈ بزنس

نفسیات کا ایک اہم اصول ہے کہ اگر دوسرے لوگ کوئی کام کر سکتے ہیں تو آپ بھی کر سکتے ہیں۔ اگر دوسرے لوگ کامیابی اور خوشحالی حاصل کر سکتے ہیں تو یقیناً آپ بھی ایسا کر سکتے ہیں۔ اللہ نے آپ کے اندر کوئی ایسی خواہش نہیں رکھی، جس کو پورا کرنے کے لیے آپ کو صلاحیت نہ دی ہو ۔ آپ اپنی ہر خواہش کو پورا کر سکتے ہیں۔ اگر آپ ماضی میں جھانکیں تو معلوم ہو گا کہ آپ نے جب کبھی دل سے کسی چیز کی خواہش کی اور پھر اسے حاصل کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی تو وہ چیز آپ نے ضرور حاصل کی ہو گی۔

آپ کو پیدا ہی کامیاب ہونے کے لیےکیا گیا ہے۔ اگر کوئی اس سے مختلف بات کہتا ہے تو وہ کائنات کی سچائی سے نابلد ہے، مگر کامیابی پلیٹ میں رکھی نہیں ملتی۔ یہ ان کو ملتی ہے جو کائنات کے اصولوں پر عمل کرتے ہیں۔

دنیا میں کوئی دوسرا فرد ہوبہو آپ کی طرح کا نہیں ہے۔ آپ دنیا میں منفرد اور یکتا ہیں، اگرچہ کچھ لوگ آپ کی طرح نظر آئیں گے، مگر کوئی بھی فرد، کوئی چیز بالکل آپ کی طرح نہیں کر سکتا۔ آپ کی منفرد دیانت، قابلیت اور صلاحیت آپ کے انتظار میں ہے کہ آپ اسے استعمال کریں۔ آپ اپنی صلاحیت کو پہچان کر اور استعمال میں لا کر بے مثال کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔ زندگی میں عظیم کامیابی حاصل کرنے کے لیے آپ کو عظیم اور خاص انسان بننا ہو گا۔بدقسمتی سے ہم اپنی صلاحیتوں کو بھرپور انداز میں استعمال نہیں کر رہے۔ اسٹینفورڈ یورنیورسٹی کی ریسرچ کے مطابق ہم اپنی صلاحیتوں کا بمشکل 2 تا 3 فیصد استعمال کرتے ہیں۔ ایک دوسری ریسرچ کے مطابق 2 تا 5 فیصد استعمال کرتے ہیں۔

کامیاب لوگ فوق البشر نہیں ہوتے اور نہ عام لوگوں سے 10 گنا ذہین، اسمارٹ اور باصلاحیت ہوتے ہیں، بلکہ میری اور آپ کی طرح عام لوگ ہوتے ہیں، جو اوسط درجے کی ذہانت کے مالک ہوتے ہیں، البتہ ان کے اندر کامیابی کی شدید خواہش ہوتی ہے۔ انہیں اپنی کامیابی کا یقین ہوتا ہے اور ان کی سوچ اور رویہ مثبت ہوتا ہے۔ان کا کوئی مقصد حیات اور گول ہوتا ہے۔وہ گول طے کرتے ہیں، اسے لکھتے ہیں اورحصول میں لگ جاتے ہیں۔

ایک ریسرچ کے مطابق امریکا میں 3 فیصد لوگ امیر اور خوشحال ہیں،10فی صد آرام دہ زندگی بسر کر رہے ہیں، 60 فیصد بمشکل گزارا کر رہے ہیں اور آخری 27 فیصد کو زندگی گزارنے کے لیے دوسرے لوگوں یا حکومت سے مالی امداد کی ضرورت ہوتی ہے۔ ان گروپوں میں یہ فرق کیوں ہے؟ ریسرچ سے معلوم ہوا کہ3 فی صد امیر اور خوش حال لوگوں کے مخصوص گولز ہیں،جن کو انھوں نے لکھ رکھا ہے۔ اگلے10 فی صد کے گولز عمومی ہوتے ہیں جو ان کے دماغ میں ہوتے ہیں۔ یعنی ان کے گول مخصوص اور تحریری نہیں ہوتے ۔ اگلے60 فی صد کے کوئی گولز نہیں ہوتے ۔ ایک ماہر کے مطابق صرف گولز لکھنے سے80 فی صد گولز حاصل ہو جاتے ہیں۔

امریکہ کے ایک ارب پتی جے سی پینے(J.c.penney) نے ، جس کے پورے ملک میں بہت بڑے بڑے سٹورز ہیں ، ایک بار کہا تھا کہ آپ مجھے ایک ایسا کلرک دیں جس کا کوئی گول ہو تو میں آپ کو ایک ایسا شخص دوں گا جو ہر بار عظیم کا میابی حاصل کر کے تاریخ رقم کرے گا۔ دوسری طرف آپ مجھے ایک ایسا فرد دیں جس کا کوئی گول نہیں تو میں آپ کو صرف ایک کلرک دے سکوں گا۔

نیویارک میں ایک دلچسپ سروے کیا گیا جس سے معلوم ہوا کہ جن لوگوں نے اپنے گول بنائے ، اس کے حصول کے لیے کوشش کی اور مستقل مزاج رہے، کوشش ترک نہ کی، انھوں نے اپنے95 فی صد گول حاصل کر لیے۔ اسی طرح ایک دوسری ریسرچ سے یہ بات سامنے آئی کہ جب آپ گول طے کر لیتے ہیں تو کامیابی کے امکانات50 فی صد یا اس سے زیادہ ہو جاتے ہیں۔

کوئی فرد اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتا جب تک اسے اپنی منزل کا علم نہ ہو اور وہ ایک واضح اور حتمی گول نہ رکھتا ہو۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ آپ منزل کا تعین کیے بغیر اپنی کامیابی کا سفر شروع نہیں کر سکتے ۔

کامیابی حاصل کرنے کے لیےسب سے پہلے معلوم کریں کہ لوگ کس طرح کامیاب ہوئے؟ انہوں نے کامیاب ہونے کے لیے کیا کچھ کیا، پھر آپ بھی وہی کریں اور کامیابی تک ثابت قدم رہیں، کوشش ترک نہ کریں۔ کامیابی کے اصولوں پر چلتے ہوئے آپ کامیاب ہوں گے، بلکہ سالوں کا سفر مہینوں میں طے کریں گے۔

اپنی موجودہ صورت حال کا جائزہ لیں۔ اگر آپ کو اپنی موجودہ صورت حال پسند نہیں تو کچھ کریں۔ ان حالات کو بہتر کریں۔ الزام تراشی اور کڑھنے سے کچھ حاصل نہیں ہو گا۔ 99 فیصد الزام تراش ناکام ہوتے ہیں۔ حالات کو بدلنے کے لیے کچھ کریں۔ اپنی خراب زندگی کے بارے نوحہ گری و آہ و زاری نہ کریں، بلکہ اٹھیں اور اس کی بہتری کے لیےکچھ کریں۔ کچھ نہ کریں گے تو کچھ نہ ملے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں