86

آخرکیاوجہ ہے ؟/تحریر/مولانا ڈاکٹر محمد جہان یعقوب

آخرکیاوجہ ہے کہ گذشتہ چند برسوں کے دوران مذہبی جماعتوں اور شخصیات کی طرف سے ایسی کوششوں کے باوجود، جن سے مذہبی روداری اورہم آہنگی میں اضافہ ہو اور اگر کہیں پر مختلف مکاتب فکر کے درمیان کوئی مسائل موجود ہیں تو انہیں حل کرلیا جائے محرم میں کوئی نہ کوئی واقعہ ہوجاتاہے؟

یہ ہے وہ بنیادی نقطہ،جس پر اداروں کو غور کرنا چاہیے۔

غم حسین ؓ منانے پرکس کو اعتراض ہے؟کیاتاریخ میں ایک مثال بھی ایسی دی جاسکتی ہے کہ کسی نے اس دن کو جشنِ مسرت کے طور پرمنایاہو،جس طرح ایک مخصوص مکتبِ فکرحضرت عثمان غنیؓ اور حضرت معاویہؓ کی وفات پر جشن مناتاہے؟کیا عزاداری پر کسی نے قدغن لگائی ہے؟کیا ماتم کرنے سے کسی نے روکاہے؟ملک بھرمیں کوئی ایک واقعہ گذشتہ 75سال میں ایسا پیش نہیں کیا جاسکتا۔پھر آخر کیاوجہ ہے کہ عاشوراء محرم میںہمیشہ نقصِ امن کے مسائل پیداہوتے ہیں؟کیااہلِ سنت کی طرف سے کوئی ایک مثال ایسی پیش کی جاسکتی ہے کہ کہیں حضرت علیؓ،حضرت حسینؓ یا اہلِ بیت عظام ؓیا بزرگانِ اسلام میں سے کسی کی کوئی توہین،کسی کی شان میں تبرا یا گستاخی ہوئی ہو؟نہیں اور یقینا نہیں،کیونکہ یہ تمام شخصیات اہلِ سنت کے ہاں واجب الاحترام اور قابلِ صد تعظیم ہیں،وہ تو صحابہ کرامؓ اور اہلِ بیت ؓ میں کوئی فرق کرنے کے روادار ہی نہیں۔حضرت علیؓ خلیفۂ راشدہیں،حضرات ِ حسنینؓ نوجوانانِ جنت کے سردار ہیں،اہلِ بیت کو وہ نجات کی کشتی تصور کرتے ہیں کہ جو اس کشتی میں سوار ہوگیا وہ نجات پاجائے گا،اسی طرح بارہ اماموں میں سے تمام ہستیوں کو اہلِ سنت اپنے بزرگوں میں شمار کرتے ہیں؛پھر کیسے ممکن ہے کہ وہ اِن شخصیات کی شان میں کوئی گستاخی کریں؟

اہلِ سنت کی مجالس ومحافل میں واقعۂ کربلا کاذکرہوتاہے تواہلِ بیت کے فضائل ومناقب بیان کیے جاتے ہیں،یکم محرم الحرام سے لے کر دس محرم الحرام تک اہلِ سنت کی کوئی مجلس ومحفل ایسی نہیں ہوتی جہاں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے ساتھ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا ذکرِخیر نہ کیا جاتاہو۔

پھرنقصِ امن کیوں پیداہوتاہے؟کون کرتاہے؟واقعۂ کربلاکی آڑمیں باغ فدک کی بحثیں کون چھیڑتاہے؟خلیفۂ اول سیدناصدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو غاصب کون کہتاہے؟یزید کی آڑ میں مسلمانوں کے متفقہ خلیفۂ سادس کاتبِ وحی سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی توہین کون کرتاہے؟بنوامیہ سے تعلق رکھنے والے صحابہ کرامؓ بالخصوص حضرت عثمان غنی ،حضرت ابوسفیان،حضرت معاویہ ،حضرت مغیرہ بن شعبہ اور حضرت خالد بن ولیدرضی اللہ عنہماپرلعن طعن کون کرتاہے؟یہ مطالبہ کون کرتاہے کہ جب تک فلاں صحابی کے نام کے سائن بورڈنہیں ہٹائے جائیں گے جلوس آگے نہیں جائے گا؟

اداروں کے علم میں ہے توبجائے نظربندی،زبان بندی،ضلع وصوبہ بندی اور رواداری کے بھاشن دینے کے ان عناصر کو لگام دینا چاہیے،جو اہلِ سنت کی مقدس ہستیوں کی شان میں توہین وتبرا کرکے ملک میں فرقہ واریت کی آگ لگانے کی کوشش کرتے ہیں۔ضابطۂ اخلاق بنانے سے نہیں، اس پر عمل کرانے سے مسائل حل ہوں گے۔

ملی یکجہتی کونسل سے لے کرمولانا عبدالستارخان نیازی کمیٹی اورڈاکٹراسرار احمدکمیٹی تک بنائے جانے والے ضابطوں اور تجاویزمیں سے ایک پربھی اگراس کی روح کے مطابق مکمل عمل ہوجاتا اور اسے قانونی شکل دی جاتی تو پاکستان فرقہ وارانہ تشدد، انتہا پسندی اور دہشت گردی سے کب کا پاک ہوچکاہوتا۔

ادارے جانتے ہیں کہ دشمن گزشتہ دو دہائیوں سے پاکستان میں فرقہ وارانہ فسادات کی کوشش کررہا ہے مگر ہمیشہ تمام مکاتب فکر کے علما ئے کرام نے حکومت کاساتھ دے کراس سازش کو ناکام بنایاہے۔چند برس قبل ایک ضابطۂ اخلاق’’پیغام پاکستان‘‘کے نام سے منظور ہوا،اس پر تمام مکاتبِ فکر کے ہزاروں جید علمائے کرام کے دستخط موجود ہیں، یہ دہشت گردی، نفرت انگیزی و دیگر مسائل کے حوالے سے سب کا متفقہ فتویٰ اورلائحہ عمل ، آئین پاکستان بعد بہترین دستاویز ہے، اگر اسے قانونی شکل دے دی جاتی تو دیرپا امن کا قیام مشکل نہ تھا،اب بھی اسے قانونی شکل دے کر ملک سے شیعہ سنی تنازع کو ہمیشہ کے لیے ختم کیا جاسکتاہے۔یہ ہیں کرنے کے کام،کاش!اس طرف توجہ دی جائے!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں