82

صبحِ روشن/ازقلم/حفصہ ممتاز

انسان کے پاس اللہ کی بے شمار نعمتیں ہیں جن کا شمار کرنا ناممکن ہے انہیں میں سے ایک نعمت صبحِ روشن ہے۔ فجر کی نماز کے بعد جب آہستہ آہستہ رات کی تاریکی ڈھل رہی ہوتی ہے اور دن کی روشنی نمودار ہونے کو ہوتی ہے پرندوں کے چہچہانے کی میٹھی میٹھی آوازیں کانوں میں رس گھول رہی ہوتی ہیں، جہاں بہت سے پرندے اپنے گھونسلوں سے نکل کر کھلی فضا کی اڑان کا مزہ لے رہے ہوتے ہیں وہیں ہم انسان بھی صبح کے اس لمحے سے لطف اندوز ہو رہے ہوتے ہیں۔ اس وقت کی تازہ ہوا ہمارے دل و دماغ پر جمی کرب و غم کی اوس کو مٹا لے جاتی ہے اس وقت کی تازہ ہوا جیسے سانسوں میں گھل کر قلبی راحت کا سبب بنتی ہے اور اس وقت ہلکی سفیدی مائل آسمان کی خوبصورتی ہماری آنکھوں کے لیے راحت کا باعث ہوتی ہے اس میں اڑتے پرندے آسمان کی زینت کو بڑھا رہے ہوتے ہیں۔ سچ کہوں تو صبح کا یہ لمحہ اللہ کی طرف سے ایک نعمت ہے جو انسان کو بقیہ پورا دن گزارنے میں قوت دیتا ہے، ایک امید دیتا ہے کہ زندگی بہت خوبصورت ہے صبح کی اس ٹھنڈی میٹھی ہوا کی جیسی، بس ہمیں اسے گزارنے کا سلیقہ آنا چاہیے۔ جس طرح پرندے اپنے دانہ پانی کی فکر چھوڑ کر آسمان کی کھلی فضا کی اڑان کا مزہ لے رہے ہوتے ہیں ویسے ہی ہمیں اپنی پریشانیاں، تکلیفیں ، غم بھولا کر اس میٹھی صبح کے ساتھ ایک نئے دن کا آغاز کرنا چاہیے اس اللہ پر امید باندھتے ہوئے جو رات کی تاریکی پر دن کی روشنی ڈالنے پر قادر ہے وہی ذات ہماری زندگی کے اندھیروں کو دور کر کے اس میں سکون، راحت، خوشیوں کی روشنی ڈالنے پر بھی قادر ہے بس اسی توکل کے ساتھ اپنے سارے معاملات اللہ کے سپرد کرتے ہوئے اپنے دن کا آغاز کرنا چاہئیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں