مجھے جب پاگل کہا جاتا ہے۔۔۔
مجھے جب بےوقوف کہا جاتا ہے ۔۔۔
” مجھے بالکل بھی برا نہیں لگتا “
بلکہ مجھے تو خوشی ہوتی ہے ،بےحد خوشی
کہ ،میری نسبت جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جڑی ہوٸی ہے
اس شخصیت کو بھی لوگوں نے مجنون کہا! پاگل کہا !جادوگر کہا!
لیکن کسی دشمن نے بھی کردار پر بات نہیں کی ۔
ایسی پاکیزہ ہستی ہے ہمارے نبی ﷺ کی ۔
تو مجھےبھی اپنی شخصیت کو ایسے بنانے کی کوشش کرنی ہے کہ کوٸ پاگل بولیں یا بےوقوف مگر کسی کی میرے کردار پر بولنےکی جرت نہ ہو۔
ہمیں اپنے نبی ﷺ کے کردار کو سامنے رکھنا ہے اور اپنا بہترین کردار بنانے کی سعی کرنی ہے ۔
میرے نبی ﷺ کےبارے میں
اللہ تعالی نے کیا فرمایا؟!
واللہ!
کہ مجھے راضی کرنا چاہتے ہو تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو راضی کرنا ضروری ہے ۔۔۔
اور سورہ الم نشرح میں فرمایا وَرَفَعٗنَا لَکَ ذِکٗرَکٗ
(ترجمہ) ہم نے بلند کیا تمہارا ذکر
واللہ! واللہ !ایسی ایسی بےشمار میرے نبی ﷺ کی تعریفات فرمان رب تعالی سے ملتی ہے۔
اس لٸے مجھے خوشی ہوتی ہے کچھ تو نسبت میری بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ملی ۔
جسکی تعریف رب تعالی نے کی جس عظیم ہستی کو کچھ لوگوں نے نہیں سمجھا ۔
میں اسی نبیﷺ کی امتی ہوں الحمدللہ ثم الحمدللہ
جب بھی زندگی میں ہمیں کوٸی تکلیف دیں، تو ہمیں سیرت طیبہ کی طرف غور کرنا چاہیے
کیا میرا عمل جو میں نے اختیار کیا تھا،جسکے سبب مجھے رنج پہنچا تکلیف ملی ،کیا وہ درست تھا؟
اگر کوٸی تکلیف جو ہمیں مل رہی ہے وہ میرے نبیﷺ کو پہنچ چکی ہے تو میں خوشقسمت ہوں ۔
پھر مجھے وہی طریقہ اپنانا ہے :
جو میرے نبی ﷺ نے اپنایا ۔
میں ایک عورت ہوں، لڑکی ہوں، بیٹی ہوں، بہن ہوں ،ماں ہوں، ساس ہوں، بہو ہوں وغیرہ وغیرہ جس بھی رشتے میں ہوں
، تو میرا کیا فرض بنتا ہے !
یہی کہ صبر کروں، تحمل سے پیش آٶں ۔
جو مرد ہے وہ بھی صبر کرے، تحمل کا مظاہرہ کریں ، ہر حالات میں،
تب ہماری نسبت نبی ﷺ سے جڑے گی
آٸیے ذرا غور کرتے ہیں!
سیرت طیبہ میں ایک [مثال] کے ذریعے سے ۔
ہمیں کوٸی ماردے، تھپڑ مارے، پتھر مارے ،خون نکال دے ،تو ہم نے کیا کرنا ہے ؟
یہ سوال ہے میرا خود سے بھی ،اور آپ سب پڑھنے والوں سے بھی ۔۔؟
کیا جواب آتا ہے میں یہ سمجھ سکتی ہوں۔۔۔۔
شاید کوٸی کوٸی اعلٰی ظرف کا مظاہرہ بھی کریں، لیکن اکثر بیشتر جواب یہی ہیکہ ہم اس انسان سے بدلہ لینگے اسکو چھوڑ دینگے ،تعلق توڑ دینگے،
اسے جہاں تک ہوا رسوا کرینگے،
اسی طرح کے دیگر جواب ملتے ہیں،
الحفیظ والامان
آٸیے ! سیرت طیبہ کی طرف غور کرتے ہیں، ہمیں کیا ملتا ہے !!
ذرا
وادی طاٸف کی طرف اپنے ذہہن کو لے چلیے۔۔ اور تصور کیجٸے محبوب خدا وجہ کاٸنات، امام المرسلینﷺ جب لوگوں کو ایک اللہ تعالی کی توحید کا درس دینے کے لٸے تشریف لے جاتے ہیں ،تو وہاں کیا منظر پیش آتا ہے!
ہمارے نبی ﷺ کو کس قدر تکلیف دی، زخمی کردیا حتی کہ بےہوش ہوگٸے
یہ ہے میرے نبی ﷺ
اسی طرح غزوہ احد میں دانت مبارک شہید کردیا گیا
اور پھر کیا ردعمل پیش کیا ؟
یہ توجہ طلب ہے ہم سب کے لٸے ۔۔۔۔۔۔!!
سوچیے پورا سوچیے ؟
کہ کیا بدلہ لیا ہوگا ؟ یا بددعا دی ہوگی ؟؟
ارے نہیں نہیں بدلہ لینا یہ تو میری نبی ﷺ کی سیرت نہیں ۔
میرا نبی ﷺ اپنی ذات کے لٸے کسی سے بدلہ نہیں لیتے تھے ،ہاں جہاں اللہ تعالی کے احکامات کو پامال کیا جارہا ہوتا تو ہمارے نبی ﷺ خاموش نہیں رہتے تھے، احکام خداوندی کی پامالی برداشت نہیں کرتے تھے ۔
لیکن جہاں تکلیف کی بات ہے اپنی ذات کے لٸے تو بدلہ نہیں لیتے تھے ۔
جب نبی ﷺ کو لہوں لہاں کردیا، تو میرے نبی ﷺ کی تکلیف پر فرشتے بھی روۓ تھے۔
میرا اللہ تعالی نے فرشتے کو بھیج دیا تھا کہ جاٶ پوچھو نبی ﷺ سے ہم ان بستی والوں پر عذاب بھیج دیں ۔
انکو نیست نابود کردیں۔ نبی ﷺ کو تکلیف دینا جرم عظیم ہے ۔
میرے نبی ﷺ نے کیا فرمایا !؟
سوچیے سوچیے کیا فرمایا ہوگا؟؟
یہ نہیں فرمایا کہ میرے ساتھ تو اللہ تعالی ہے تمام کاٸنات کا خالق مالک میرے ساتھ ہے تو میں ان سے بدلہ لے لوں ۔
نہیں، نہیں
بلکہ میرے نبی ﷺ نے فرمایا کہ یہ لوگ میرا مرتبہ ،میری قدر سمجھتے نہیں ہے
انکو معلوم نہیں ہے ،ورنہ یہ ایسے نہیں کرتے
اگر یہ ایمان نہیں لاتے تو ان کی نسل ایمان ضرور لاٸے گی ۔
ایسی سیرت ہے میرے نبی ﷺ کی ۔
بدلہ نہیں لیتے تھے ۔
خیرخواہ تھے ۔
براٸی کا بدلہ بھلاٸی سے دیتے تھے۔
معاف کرنے والے تھے ۔
آج ہمیں اگر کوٸی شرعی پردہ کرنے پر دو تین لفظ کہہ دے تو ہم افسردہ ہوجاتے ہیں ۔
ہمیں کسی اچھے کام کے کرنے پر پاگل کہہ دیا جاۓ، بےوقوف کہہ دیا جاۓ، تو ہمارا غصہ ہی ختم نہیں ہوتا۔
یہ ہے ہماری زندگی، اور وہ ہے میرے نبی ﷺ کی زندگی ۔
کتنا فرق ہے ہم میں۔۔۔۔
کیوں فرق ہے ؟
ہم نام لیوا تو نبی ﷺ کے ہیں ،تو پھر عمل میں اسکے نقش قدم پر چلنے کی کوشش کیوں نہیں کرتے ۔
کیوں آج کا مرد اپنی بیوی کے ساتھ گھر کے کام کاج میں مدد کرنے میں شرم محسوس کرتا ہے!!
کیوں آج کی عورت شوہر کی اطاعت کو بوجھ اور قید سمجھنے لگ گٸی!!
کیوں شرعی پردہ کرنا مشکل لگنے لگ گیا!!
کیوں مردوزن کو نظروں کی حفاظت کرنا مشکل امر لگتا ہے!!!
کیوں ہم بہت جلد بدگماں ہوجاتے ہیں۔۔
کیوں تعلق توڑ دیتے ہیں ۔۔۔
کیوں دوسروں کی زندگیوں کو مشکل سے مشکل بنانے کے درپہ ہیں ۔۔۔
کیوں بددعإ دیتے ہیں!!!
آخر کیوں ایسا کیوں ہے!!؟
تب ہمیں ہمارا ہی ضمیر ہمیں جواب دیتا ہے اے انسان تو یہ سب اس لٸے کرنے لگا تو کیونکہ تونے سیرت کو سیکھا ہی نہیں، سمجھا ہی نہیں، سیرت طیبہ کو اپنی زندگی میں ڈھالا ہی نہیں،
جی ہاں ۔
جبکہ یہ تو:
سیرت طیبہ کی فقط ایک [مثال] مختصرا پیش کی ہے،
جبکہ: میرے نبیﷺ کی پوری زندگی، تکالیف میں گزری ہے۔
بھوک بھی برداشت کی لوگوں کے طعنے بھی سہے ،لوگوں کی باتیں بھی سنی،اپنوں کا دکھ بھی دیکھا،
اور پھر۔۔۔۔ انہی کے ساتھ اچھا برتاٶ کیا۔۔۔
صلح رحمی کی۔۔۔
ہجرت کے موقع پر جن لوگوں کی تکالیف پر مکہ چھوڑنا پڑا، انکی امانتیں تو میرے نبی ﷺ کے پاس رکھی تھی
ایسے امین تھے۔
ایسے خیرخواہ تھے۔
آج ہم کہاں کھڑے ہیں؟
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اگر اپنی اور دوسروں کی زندگی کو خوشگوار بنانا چاہے تو فقط سیرت رسول ﷺ ہی ہمیں وہ طریقہ سیکھاتا ہے ۔۔۔۔
تو آٸیے عہد کرتے ہیں ہم میں سے کوٸی بھی کسی کو تکلیف دینے کا سبب نہیں بنے گا
اللہ تعالی ہمیں صحیح معنوں میں سیرت طیبہ پر عمل کی توفیق نصیب فرماۓ آمین