ایک رکعت اور پورا قرآن
7 : ابراہیم بن رستم المروزی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
میں نے خارجہ بن مصعب رحمہ اللہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ
چار ائمہ کرام نے ایک ہی رکعت میں مکمل قرآن پاک پڑھا ہے۔
1: حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ
2: حضرت تمیم داری رضی اللہ عنہ
3: حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ
4: حضرت امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ
(مناقب الامام ابی حنیفة و صاحبیه للذھبی)
8 : عرش اٹھانے والے فرشتے کیا پڑھتے ہیں؟
8: حضرت شھر بن حوشب رحمہ اللہ کا کہنا ہے کہ عرش الٰہی اٹھانے والے آٹھ فرشتے ہیں۔
ان میں سے چار “سُبۡحَانَکَ اللّٰھُمَّ وَ بِحَمۡدِکَ،لَکَ الۡحَمۡدُ عَلیٰ حِلۡمِکَ بَعۡدَ عِلۡمِکَ” کہتے رہتے ہیں اور
چار کا ورد” سُبۡحَانَکَ اللّٰھُمَّ وَبِحَمۡدِکَ،لَکَ الۡحَمۡدُ عَلیٰ عَفۡوِکَ بَعۡدَ قُدۡرَتِکَ” ہوتا ہے۔
(البدایہ والنہایہ)
9 : سفر کے پانچ فوائد
امام محمد بن ادریس شافعی رحمہ اللہ نے سفر کے پانچ فوائد بیان کرتے ہوئے ایک شعر کہا ہے
تَغَرَّب عَنِ الۡأََوۡطَانِ فِیۡ طَلَبِ العلا
وَسَافِرۡ فَفِیۡ الۡأَسۡفَارِ خَمۡسُ فَوَائِدِ
تَفَرَّجُ ھَمٍّ وَ اکۡتِسَابُ مَعِیۡشَةٍ
وَعِلۡمࣱ وَ آدَابࣱ وَ صُحۡبَةُ مَاجِدٍ
بلندی کے حصول کے لیے وطن سے دور ہوجائیے!
سفر کیجیے! سفر کے پانچ فائدے ہیں۔
غم ہلکا ہوتا،معیشت مضبوط ہوتی ہے،علم حاصل ہوتا ہے،رہن سہن اور گفت گو وغیرہ کے آداب معلوم ہوتے ہیں اور نیک اور (سمجھدار) لوگوں کی صحبت میسر ہوتی ہے۔
10 :کیا ہم واقعی مومن ہیں؟
حضرت ابو شریح خزاعی سے روایت ہے کہ حضور خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم نے تین دفعہ قسم کھا کر فرمایا:
وَاللّٰهِ! لَا یُؤۡمِنُ،وَاللّٰهِ! لاَ یُؤۡمِنُ، وَاللّٰهِ! لَا یُؤۡمِنُ،
قِیۡلَ: وَمَنۡ؟ یَا رَسُوۡلَ اللّٰهِ!! قَالَ
اَلَّذِیۡ لَا یَأۡمَنُ جَارُہُ بَوَائِقَهُ،
(بخاری شریف)
اللہ کی قسم! وہ مومن نہیں ہے،اللہ کی قسم وہ مومن نہیں ہے،اللہ کی قسم وہ مومن نہیں ہے۔
عرض کیا گیا کہ اے رسولِ خدا! کون مومن نہیں ہے؟
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جواب ذرا دل کی آنکھیں کھول کر پڑھیے!!
فرمایا کہ وہ شخص،ایمان والا نہیں ہوسکتا جس کے شر اور شرارت سے اس کے پڑوسی محفوظ نہ رہیں۔
ترمذی شریف کی روایت ہے کہ
اَحۡسِنۡ اِلیٰ جَارِکَ تَکُنۡ مُؤۡمِنًا!
اپنے ہمسائے سے اچھا سلوک کیجیے اور مومن بنیے!
مسلم شریف کی ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ وہ شخص،صاحب ایمان نہیں ہے،جو خود تو پیٹ بھر کر کھائے اور اس کا پڑوسی اسی کے پہلو میں بھوک سے پریشان ہو۔
یہاں ہم ان احادیث کی روشنی میں اپنا جائزہ لے سکتے ہیں کہ ہمارا اپنے پڑوسیوں سے کس طرح کا تعلق ہے اور ہم ان کے ساتھ کس طرح پیش آتے ہیں؟ ضمیر جواب دے گا اور دل فیصلہ کرے گا کہ کیا ہم واقعی مومن ہیں؟
اور یہ بھی سوچیں کہ رحمت عالم صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم تین دفعہ قسم کیوں اٹھائی ہے؟
اس لیے لوگوں کی اکثریت اس سلسلے میں کوتاہ واقع ہوئی ہے اور انھیں پوری اہمیت کے ساتھ احساس دلانے کے لیے مجسمہ صداقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بات قسم کے ساتھ مؤکد فرمائی ہے۔