66

متفرق علمی و ادبی شہہ پارے/حصہ دوم/تحریر/شکیل احمد ظفر

11 :حفاظ و قراء کے لیے ایک اہم نصیحت:
امام آجری رحمہ اللہ نے حفاظ اور قرا کرام کو ایک اہم نصیحت کرتے ہوئے فرمایا ہے:

جس کو اللہ کریم نے آواز کے حسن سے نوازا ہو،اسے معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ نے اسے ایک بہت ںڑی خیر و خوبی کے ساتھ خاص کیا ہے۔

اس خوش الحان قاری صاحب کو پہچان تو ہو کہ اللہ نے اسے کتنی زیادہ خصوصیت عطا کی ہے اور وہ صرف اللہ کے لیے قرآن کریم پڑھے اور عزت و شہرت،مال و دولت اور لوگوں میں واہ واہ کے لیے نہیں۔
(اخلاق اھل القرآن)

12 : شہرت کی کون سی قسم نقصان دہ ہے؟
حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ نے فرمایا: شہرت سے دینی نقصان بھی ہوتا ہے اور دنیا کا بھی مگر یہ وہ شہرت ہے جو طلب،کسب اور اختیار سے حاصل کی گئی ہو۔
ہاں! جو شہرت غیر اختیاری طور پر مل جائے،وہ اللہ کی نعمت یے۔
(ملفوظات حکیم الامت)

13 : ایک کمال ناصحانہ جملہ
عربی کا ایک کمال ناصحانہ جملہ ہے کہ
لَا تَزۡرَعۡ فِیۡ أَرۡضِیۡ شَوۡکاً لَعَلَّکَ غَدًا تَأۡتِیۡنِیۡ حَافِیاً

میری راہ میں میں کانٹیں نہ اگاؤ! ہوسکتا ہے کہ کل آپ کو میرے پاس ننگے پاؤں آنا پڑے۔

14: ادب
ایک دیہاتی عرب کا کہنا ہے کہ مجھے ایک لونڈی نے ادب سکھلایا۔
وہ ایک ڈھکی ہوئی پلیٹ لیے جارہی تھی۔
میں نے اسے پوچھا:
مَافِیۡ الطَّبَقِ پلیٹ میں کیا ہے؟
لونڈی نے برجستہ کہا:
لِمَ غَطََیۡنَاہُ؟
تو ہم نے اس کو کیوں ڈھانپ رکھا ہے؟؟

15 :دیوبندیت کیا ہے؟
ایک مرتبہ حضرت فقیہ الامت
مفتی محمود حسن گنگوہی رحمہ اللہ نے فرمایا:
فرانس میں ایک شخص نے مجھ سے دریافت کیا کہ
دیوبندی کسے کہتے ہیں؟
میں نے کہا کہ دیوبندی ہونے کے لیے چند چیزیں ضروری ہیں:
(1) عشق الٰہی کی تپش سینے میں شعلہ زن ہو۔
(2) تمام محدثات( بدعات) سے اجتناب اور توحید خالص پر اعتماد ہو۔
(3) تمام مخلوق سے بڑھ کر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم سے محبت ہو۔
(4) زندگی کا ہر شعبہ اتباع سنت سے معمور ہو۔
(5) دل میں علم دین کی اشاعت کی پوری لگن ہو۔
شیخ الحدیث مولانا ظفر احمد قاسم نور اللہ مرقدہ فرمایا کرتے تھے کہ
دیوبندیت کسی مذہب کا نام نہیں،بل کہ دیوبندی ایک نسبت کا نام ہے،جو نسبت ہمیں اہل سنت والجماعت کے عظیم علمی و روحانی پیشواؤں کے ساتھ جوڑتی ہے۔
ہمارا مسلک تو اہل سنت و الجماعت کا ہے،سنت کا معنی آقائے نامدار صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کے مبارک طریقے اور جماعت سے صحابہ کرام اور اہل بیت عظام رضی اللہ عنہم کی مقدس جماعت مراد ہے۔
لہذا صحیح سنی وہی ہوگا جو حضور خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کی سنتوں سے عملی عشق کی حد تک محبت رکھے اور صحابہ و اہلبیت رضی اللہ عنہم کا دامن محبت تھام لے۔ (جاری ہے)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں