وطن کی محبت ایمان کا ایک جزو ہے اور ایمان کی حفاظت جان سے بڑھ کر کرنا ہر صاحبِ ایمان کا فرض ہے اور پھر وطن بھی ایسا کہ جسکی بنیاد ہی “لا الہ الا الله” پر قائم ہو تو پھر اسکی حفاظت اور محبت ایمان کی حفاظت کی ضامن بن جاتی ہے۔
آج یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ ایمان، مذہب، تہذیب و معاشرت اسی قوم کا سلامت رہ سکتا ہے جو آزاد ہو کیونکہ جس قوم کی گردن میں غلامی کا طوق پڑ جاتا ہے تو وہ اپنی تہذیب اور ثقافت کے ساتھ ساتھ اپنے دین و ایمان سے بھی محروم ہو جاتی ہے۔ غالب اقوام اسے گرا کر اپنے پاؤں تلے پامال کر دیتی ہیں۔
اقوامِ عالم وطن کی حفاظت کرتی ہیں لیکن مملکت خداداد پاکستان کا دفاع دوسری اقوام سے ذرا منفرد نوعیت کا ہے کیونکہ اس وطن کے باشندے ابھی تک اسکے حصول میں دی گئی قربانیوں کو یاد رکھے ہوئے ہیں اسکی تعمیر میں لاکھوں شہیدوں کا لہو پانی کی طرح بہایا گیا، اسکی خاطر ہزاروں عورتوں کے سہاگ اجڑ گئے، عزت و ناموس کی پیکر لاتعداد بیٹیوں کی عصمت دری کی گئی معصوم بچوں کو نیزوں کی انہوں پر اچھالا گیا پھر جا کے یہ وطن وجود میں آیا جہاں مسلمان ایک آزاد فضا میں مسلم معاشرے کا قیام عمل میں لا سکتے تھے
6 ستمبر یومِ دفاع پاکستان بھی ایسی ہی لازوال داستانوں اور بہادری و سرفروشی کے واقعات کی یاد تازہ کرتا ہے کہ جب بھی دشمن نے اس پاک وطن کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی ناپاک جسارت کی تو اس وطن کے محافظ قہرِ خداوندی بن کے اس پہ ٹوٹ پڑے اور دشمن کے سامنے ایسی سیسہ پلائی دیوار بن کے کھڑے ہوگئے جس سے ٹکراکر دشمن پاش پاش ہوگیا وہ دشمن جو دل ہی دل میں اس پاک دھرتی پہ قابض ہوکر یہاں ناشتہ کرنے کے خواب دیکھ رہا تھا پاکستانی جوانوں سے کئی گنا زیادہ فوج اور عسکری قوت ہونے کے باوجود اسکو بھاگنے کیلیے رستہ نہیں مل رہا تھا اور تاریخ گواہ ہے کہ وہ اپنا اسلحہ سازوسامان حتیٰ کہ زخمی سپاہیوں کو چھوڑ کر بھاگنے پہ مجبور ہوگیا کیونکہ اس وطن کے بیٹے اس مٹی کی حفاظت کرنے کیلیے شوقِ شہادت سے سرشار ہیں انکی قوت عشقِ رسول اور وطن کی محبت ہے۔ عشق و محبت کی یہ شمع جس قوم کے دل میں فروزاں ہوجائے پھر اسکے سامنے دشمن کا ٹڈی دل تو کجا صحراؤں کا دل بھی دہل جاتا ہے، سمندر پانی کی طرح بہہ جاتے ہیں، پہاڑ و پربت ریزہ ریزہ ہوجاتے ہیں اور انکے قدموں کی دھمک سے زمین پہ زلزلے برپا ہوجاتے ہیں۔ اس کا عملی مظاہرہ ہم ستمبر 1965 کی جنگ میں دیکھ چکے ہیں کہ کس طرح بھارت کے انفنٹری یونٹس، ہیوی مشینری، سب سے زیادہ خونخوار بیرسیرک، پیرنٹ اور بہترین لڑاکا یونٹس کو پسپا کردیا تھا۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم پھر سے یہی جذبہ حب الوطنی اپنے اور اپنی نسلوں کے دلوں میں روشن کریں اور دفاعِ وطن کیلیے تجدیدِ عہد کریں اور اسکی آن، شان اور سربلندی کیلیے پاک فوج کے شانہ بشانہ اپنا تن من دھن سب کچھ قربان کرنے کا عہد کریں کیونکہ اس وطن کا وجود ہے تو ہمارا قومی تشخص بحال اور ہمارا ایمان سلامت ہے اور یہ تبھی ممکن ہوسکے گا جب ہم اپنے سیاسی، مذہبی، لسانی اور صوبائی تعصب کو پاؤں کی نوک پہ رکھتے ہوئے صرف اور صرف پاکستانی ہونے پر فخر کریں گے۔ ان شاءالله وہ دن دور نہیں جب ہمارا وطن ان تعصبات سے پاک ہوجائے گا اور ہماری قوم فلک کے ستاروں کو اپنے دامن میں بھر کے دنیا کے افق پر روشن آفتاب کی طرح چمکنے لگے گی بقولِ اقبال
اٹھ کہ اب بزم جہاں کا اور ہی انداز ہے
مشرق و مغرب میں تیرے دور کا آغاز ہے