حالیہ بجلی کے بلوں نے اور پٹرول کی قیمتوں میں اضافے نے ایک متوسط گھرانے کو شدید پریشانی میں گھیر لیا ہے۔۔۔
غریب تو خیر , ‘مرے کو اور کیا مارے ‘ کی زندہ مثال ہے اور اعلیٰ طبقات والوں کو ان ” چھوٹی موٹی ” کاروائیوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا بلکہ اس اعلیٰ طبقے کے بقول ” اگر روٹی مہنگی ہے تو دو بھائی مل کر کھا لیں ” اور ” چینی مہنگی ہے تو دو چائے کے چمچ کی جگہ ایک چائے کا چمچ پی لیں ! “
تو بات آ جاتی ہے متوسط طبقے پر۔۔۔تاہم ہمارے ہاں زیادہ تر متوسط طبقہ نوکری پیشہ ہے اب اگر کوئی بھی بات ہو خواہ کسی اجتماع کی ، کسی جلسے کی یا کسی احتجاج کی تو اس طبقے کے افراد کے ذہن میں اپنی نوکری کو لے کر شدید قسم کے تحفظات جنم لینے لگتے ہیں جن میں سر فہرست یہی ہوتا ہے کہ اگر نوکری سے نکال دیا گیا تو کیا ہو گا !!
اب بات کرتے ہیں کہ ایسا رویہ ہے کیوں ؟ تو اس کی وجہ ایک ڈراور ایک ان دیکھا خوف ہے جو ہمارے متوسط طبقے کے ذہنوں سے بڑھ کر روح تک میں سرایت کر چکا ہے کہ اگر ہم نے حکومت کے کسی بھی اقدام کے خلاف آ واز اٹھائی تو ہم بخشے نہیں جائیں گے !! یہ رویہ ایسے ہی پیدا نہیں ہو گیا بلکہ اس کا بیج پاکستان بننے کے آ غاز میں ہی بودیا گیا بعد ازاں مختلف ڈیکٹیٹرز اور چند سیاسی خاندانوں کی اجارہ داری نے اس رویے کو اپنی حرکتوں سے پروان چڑھایا اور دور حاضر میں تو حکمران طبقے کی جانب سے اپنی حکومت کے خلاف کچھ بھی سننے کی برداشت نہیں دکھائی جا رہی۔۔۔حق کی آ واز بلند کرنے والوں کو نہ صرف دباؤ ڈال کر چپ کرایا جا رہا ہے بلکہ ان افراد کو منظر سے ہٹانے کا انتظام بھی کیا گیا ہے۔۔۔
ایسے میں متوسط طبقہ میں اتنی جرات تو ہے نہیں کہ طاقتوروں سے بِھڑ جائے ۔۔۔۔
گزشتہ ایک سال سے حکومت کی کارکردگی ہم سب کے سامنے ہے اور اس کارکردگی کو دیکھتے ہوئے اگلے چند ماہ میں متوسط طبقے کے پاس صرف دو ہی انتخابی راہیں ہوں گی ۔۔
اپنی اسی روش پر قائم رہتے ہوئے ظلم و ناانصافی سہتے ہوئے اپنی قسمت پر ماتم کریں ۔
ظلم کے خلاف آ واز اٹھائیں اور ظالم کے خلاف متحد ہوں۔۔۔
اگر ہم اب بھی اپنی جگہ اپنی نوکریوں کا سوچتے رہے تو پھر ہم پر مزید بلوں کا بوجھ لاد دیا جائے گا لیکن
اگر ہم باطل کے سامنے کھڑے ہوگئے اور اس پر دباؤ ڈالتے رہے تو ایک دن ہم کامیاب ہو جائیں گے لیکن اس کے لیے ہمیں سب سے پہلے اپناخوف کا لبادہ اتارنا پڑے گا اور ایک بہادر ہیرو کی طرح ساری کشتیاں جلا کر اپنے حقوق کے لیے آ واز اٹھانی ہو گی اور یہ یاد رکھنا ہو گا کہ اگر اب بھی ہم چپ بیٹھے رہے تو وہ دن دور نہیں کہ حکمران طبقہ ہمارا خون تک بلکہ ہڈیوں کا گودا تک نچوڑ لے !!!