تعلیم کی اہمیت و افادیت سے کسی طور پر بھی انکار ممکن نہیں، تعلیم وہ زیور ہے جو ہر آنےوالے دن کے ساتھ انسان کی خوبصورتی میں مزید اضافہ کرتا ہے، قوموں کا عروج و زوال اسی تعلیم سے وابستہ ہے۔ جو قومیں تعلیم کو اپنی ترجیحات میں شامل رکھتی ہیں وہ ترقی کی بلندیوں پر پہنچتی ہیں۔
تعلیم چاہے دینی ہو یا عصری، وہ انسان کو جینے کا ڈھنگ سکھاتی ہے اور اسے جہالت کی قیدو بند سے آزاد کرکے سیکھنے اور سیکھانے کی فضاء میں پرواز کرنے کے لئے بال و پر عطا کرتی ہے، مہد سے لحد تک کی صعوبتوں کو برداشت کرنے اور ان سے لڑنے کا حوصلہ فراہم کرتی ہے، اسے جہالت کی پر خار وادیوں سے نکال کر رب کی معرفت عطا کرتی ہے۔
دنیا کی موجودہ ساری ترقی تعلیم کی ہی مرہون منت ہے، تعلیم سے ہی انسان نے ستاروں پر کمندیں ڈالیں ، چاند پر جا پہنچا ، سمندر کو چیرتے ہوئے راستے بنا دیے ، دیوہیکل پہاڑوں کو ریزہ ریزہ کرکے سطح زمین کے برابر کر ڈالا اور پھر زمین پر رہنے اوراس پر حکومت کرنے لگا۔
آج جتنی بھی ترقی ہمیں اپنے گردو پیش دکھائی دیتی ہے یہ سب تعلیم ہی کی بدولت ہے۔ اگر رب کریم نے انسان کو سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت اور عقل سلیم سے نہ نوازا ہوتا تو حصول تعلیم نا ممکن ہوتا۔ اگر انسان نے انسان کو تعلیم نہ دی ہوتی تو آج دنیا کا نقشہ کسی جنگل کا نظارہ پیش کر رہا ہوتا، آج جو کچھ بھی حضرت انسان کے پاس ہے اور جو کچھ بھی اسے مستقبل میں میسر آسکتا ہے وہ سب تعلیم کے ذریعے ممکن ہے ۔
اسلام میں علم کی اہمیت
علم معرفت دیتا ہے۔ اپنے پیدا کرنے والےسے ہی نہیں جوڑتا، بلکہ اس کائنات کے اندر انسان کے کردار کا تعین بھی کرتا ہے۔ کہ اس کائنات کی اُٹھان ہی اللّٰہ ربُّ العزت نے تمام رائج الوقت علوم پر رکھی ہے، بس غوروفکر کی ضرورت ہے۔
قرآن میں اللّٰہ پاک فرماتے ہیں:
” ہم نے یہ کائنات تمھارے لئے مسخرے کر دی ہے “۔(القرآن ) تسخیر کا یہ عمل جانے بغیر مکمل ہو ہی نہیں سکتا اور جاننے کا بہترین ذریعہ صرف اور صرف قرآن ہی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کی عملی تفسیر تھے۔
اللّٰہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مجھے معلم بنا کر بھیجا گیا ہے“۔ (ابنِ ماجہ)
تعلیم کی دو بڑی اقسام ہیں: عصری تعلیم اور دینی تعلیم، پھر ان کی آگے چل کر مزید ذیلی اقسام ہیں لیکن آج ہمارا مقصد بس انہی دو بنیادی اقسام کی وضاحت ہے۔
ہمارا مقصد بس انہی دو بنیادی اقسام کی وضاحت ہے۔
عصری تعلیم
موجودہ تعلیم جو آج ہمارے اسکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں اور کوچنگ سینٹرز میں فراہم کی جا رہی ہے اسے عصری تعلیم کہتے ہیں۔
معاشرتی توازن کو بر قرار رکھنے کے لیے تمام شعبہ انسانی زندگی سے متعلقہ ماہرین کی ضرورت ہوا کرتی ہے جس میں انجینیر، ڈاکٹر، قانون دان اور معلم وغیرہ سرفہرست ہیں، یہ تمام متعلقہ ماہرین عصری تعلیم یافتہ ہوا کرتے ہیں جو کہ معاشرے میں اپنے کردار کو بخوبی نبھاتے ہیں جس کے نتیجے میں ملک میں ترقی اور خوشحالی کی راہیں ہموار ہوتی ہیں، یہ تمام متعلقہ ماہرین جو اعلی یونیورسٹیوں میں پڑھ کر نکلتے ہیں اپنی بہترین صلاحیتوں سے نہ صرف یہ کہ ملک میں افرادی قوت میں اضافہ کرتے ہیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ ملک سے غربت و جہالت کے خاتمے کا بھی باعث بنتے ہیں۔
جب چراغ سے چراغ جلتا ہے اور ہر شخص اپنا کردار اور فرائض منصبی بہتر طور پر ادا کرتا ہے تو معاشرہ ایک مثالی معاشرہ بن جاتا ہے جہاں ترقی، خوشحالی، امن و امان جیسی اقدار پروان چڑھا کرتی ہیں۔ عصری تعلیم کے چھوٹے بڑے ادارے ملک کے طول عرض میں جا بجا قائم ہیں جو قوم کے نو نہالوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کرتے ہیں اور ملک کی ترقی اور خوشحالی میں اپنا کردار ادا
کرتے ہیں.
ہیں ۔
دینی تعلیم
دین اسلام اپنے ماننے والوں کو جہاں ایک مکمل ضابطہ حیات فراہم کرتا ہے وہیں انہیں ان ضابطوں اور قوانین کی پابندی کا بھی درس دیتا ہے تاکہ ان کی زندگی کامیابیوں سے مزین ہو، دین اسلام چونکہ تمام ادیان پر غالب آنے کے لیے آیا ہے اس لیے اللہ تعالٰی اس کے پیرو کاروں کو کامل، اکمل اور اطاعت کا حامل دیکھنا چاہتا ہے، اس بنا پر حق تعالیٰ نے وہ تمام لوازمات اس دین کو ودیعت فرما دیے جو اس نظام کو چلانے کے لیے درکار تھے۔
کامل کتاب، کامل شریعت اور کامل نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم اس زمانے کی طرف بھیج دیا گیا، اسلام میں منظم دینی تعلیم کا آغاز مسجد نبوی میں قائم ایک چبوترے سے ہوتا ہے جہاں ہادی عالم دنیا کی مقدس ترین درسگاہ کے خوش قسمت طلبہ کو دین کی تعلیم دیتے ہیں، جہاں” لاالہ الا اللہ ” کی صدائیں گونجتی ہیں۔
کہا جاتا ہے کہ دنیا میں پہلی یونیورسٹی وہ ہے جو اللّٰہ کے نبی نے مدینہ منورہ کے اندر رہتے ہوۓ مسجد نبوی میں قائم کی۔ جو اصحابِ صُفہ کے نام سے معروف ہے۔ اس لیے علم کے حصول کے لئے تعلیمی ادروں کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ یہ آپ کی وسعت نظر تھی کہ یہی ادارہ آگے جا کر دنیا میں اسلام کی اشاعت کا ذریعہ بنا۔
تاریخ شاہد ہے کہ مسلمان جب تک ترویجِ علم اور اشاعتِ دین سے وابستہ رہے، دنیا پر حکمرانی کی لیکن جہاں علم سے تعلق کمزور ہوا وہاں غیر قومیں ان پر غالب آتی چلی گئیں۔
کہا جاتا ہے کہ جب ۱۰فروری ۱۲۵۸ء کو عباسی خلیفہ معتصم باللّٰہ نے چینگیز خان کے پوتے ہلاکو کے سامنے ہتھیار ڈالے تو لاکھوں کتابیں آگ کی نظر ہو گئیں۔ اسی طرح سقوطِ بغداد کے وقت دریاۓِ فرات کتابوں کے بہہ جانے کے باعث رُک گیا تھا۔ حالانکہ کہ یہی وہ ادارے تھے جہاں دنیا بھر سے علم کے پیاسے جمع ہوتے اور علم حاصل کرتے تھے۔ جیسے آج مسلمان حصولِ علم کے لئیے یورپ و امریکہ کا رُخ کرتے ہیں۔ نتیجتاً علم ہی نہیں آیا ان کی تہذیب بھی ساتھ آ گئی جس نے ہماری بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا۔
تعلیمی نظام کی تشکیل میں جہاں اساتذہ کی اہمیت ہے، وہیں طلبأ کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ طلبا کسی بھی معاشرے کا انتہائی اہم اور حساس طبقہ ہوتے ہیں۔ چونکہ آج کا دور پچھلے دور کی نسبت تیز ترین دور ہے۔ اس لیے اب طلبا کے رول ماڈل ان کے والدین اور اسأتذہ نہیں رہے۔ بلکہ تخیلاتی رول ماڈلز ان پر اثرانداز ہوتے جارہے ہیں، جن کے ذریعے ان کو اُبھارا جاتا ہے۔ کہ اپنا تانا بانا خود بُنے۔
اب آپ کی اولاد کی تربیت نہ آپ نہ وہ استاد کرتا ہے جس کے حوالے آپ نے انھیں چھوڑا ہوا ہے۔ بلکہ اب جدید دنیا کے تخلیق کار آپ کی اولاد کی تربیت کر رہے ہیں۔ بلکہ ان کے ذہنوں کو بھی کنٹرول کر رہے ہیں۔ چنانچہ آج ہم حربی جنگ کی بجائے بیانئے کی جنگ سے دوچار ہیں۔
پاکستان کے لئے ایک ناکام ریاست کی اصطلاح اسی بیانئے کی جنگ کا حصہ ہے۔ جس میں پاکستانی معاشرے کی اچھائیوں کی بجائے بُرائیوں کو اُچھالا جاتا ہے۔ جس کا نتیجہ مایوسی اور فرسٹریشن کی شکل میں ظاہر ہوا۔ اسی مایوسی اور فرسٹریشن کا مقابلہ تعلیم کے ذریعے سے ہی ممکن ہے۔ اس لیے آج کے دور میں تعلیم کی ضرورت و اہمیت پہلے سے دو چند ہو گئی ہے۔
دینی و عصری تعلیم وقت کی اہم ضرورت
دین اسلام اپنے ماننے والوں کو دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ دنیاوی تعلیم حاصل کرنے پر کوئی قدغن نہیں لگاتا بلکہ دنیا سے لاتعلقی سے منع کیا گیا ہے جسے رہبانیت کہا جاتا ہے۔
قرآن کریم کے سورہ حج میں معاشی تنگ و دو کی یوں ترغیب دی گئی ہے
” فاذا قضیت الصلاۃ فاانتشروا فی الا رض وابتغوا من فضل اللہ”
(اور جب نماز جمعہ ادا کر چکو تو زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کا فضل(معاش) کو تلاش کرو)۔
ایک حدیث میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے ” الکاسب حبیب اللہ” ( حلال روزی کمانے والا اللہ کا دوست ہے) قرآن کریم نے ہمیں دعا سکھائی ہے جس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کے بعد اہتمام سے مانگا کرتے تھے “رپنا آتینا فی الدنیا حسنتہ وفی الاخرتہ حسنتہ “( اے اللہ ہمیں دنیا میں بھی بھلائی عطا فرما اور آخرت میں بھی بھلائی عطا فرما) ان سب سے واضح ہوجاتا ہے کہ اسلام کسب معاش اور دنیا و آخرت کی بھلائیوں کو اکھٹا کرنے سے نہیں روکتا جب کہ وہ حدود قیود کے دئرے میں رہتے ہوئے حاصل کی جائیں بلکہ وہ دنیا کے ساتھ ساتھ آخرت کی بھلائیوں کو بھی حاصل کرنے کا حکم دیتا ہے۔
دین و دنیا کی بھلائیاں تبھی حاصل کی جا سکتی ہیں جب دین اور دنیا دونوں کے علوم کو حاصل کیا جائے۔ جب ہم ماضی قریب کی تاریخ پر نظر دوڑائیں تو تعلیمی نظام کے حوالے سے ہمیں سر سید احمد خان اور علماء کا ایک بڑا اختلاف نظر آئے گا، سر سید مغربی و عصری علوم کہ اپنانے کے پر زور داعی تھے جبکہ علماء کرام اس خاص ماحول میں مسلمانوں کو صرف دینی تعلیم حاصل کرنے طرف راغب کرتے تھے۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کے مطابق امت کا یہی اختلاف رحمت ثابت ہوا سر سید کی کوششوں کی نتیجے میں عصری تعلیمی ادارے وجود میں آئے تو علماء کی کاوشوں سے مدارس اور مکاتب وجود میں آئے یعنی ایک طرف قدرت نے دینی تعلیم کے حصول کی راہیں ہموار کیں تو دوسری طرف عصری تعلیم کے مواقع بھی پیدا ہوئے۔ حقیقت میں مسلمانوں کے لئے دونوں ہی تعلیم ناگزیر ہیں اور دونوں کے باہمی امتزاج سے ہی ایک مثالی اسلامی معاشرہ وجود میں آسکتا ہے۔
دینی و عصری تعلیم کا امتزاج
آج کے ترقی یافتہ دور میں یہ بات ڈھکی چھپی نہیں رہی کہ عصری علوم کے ساتھ ساتھ دینی علوم کا حصول بھی ضروری ہے، جب یہ دونوں ایک مسلمان میں یکجا ہوجاتے ہیں تو اس کی شخصیت کو کامل بناتے ہیں اور اسے اعلی صفات اور مضبوط کردار کا حامل بناتے ہیں۔ اچھی بات یہ ہے کہ ہمارے ملک کے طول عرض میں اب دینی تعلیمی اداروں نے عصری علوم بھی پڑھانے کا انتظام کیا ہوا ہے تو دوسری طرف عصری تعلیمی اداروں نے بھی قرآن کریم کی تعلیم کو اہمیت دینا شروع کیا ہے۔ سرکاری تعلیمی اداروں اور اکثر نجی اداروں میں بچوں کو ناظرہ قرآن کی تعلیم دی جاتی ہے۔
اللہ تعالی ان تمام لوگوں کی کاوشوں کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے اس عمل کو آخرت میں ان کے لیے نجات کا باعث بنائے۔آج دینی و عصری دونوں طرح کی تعلیم ہماری اولین ضرورت ہے اس سلسلے میں کی جانے والی تمام کوششوں کو سراہا جانا چاہیے اللہ تعالی سے یہ دعا ہے کہ وہ ہمیں دین و دنیا کی تعلیم حاصل کرنے اور اسے اگلی نسلوں تک پہچانے کا ذریعہ بناۓ
(آمین)