آج مادہ پرستی اور سرمایہ دارانہ نظام نے انسانیت کی رگوں سے قطرہ قطرہ سارا خون چوس ڈالا ہے، مغربی تہذیب نے گزشتہ چار صدیوں سے انسانی فطرت کے ساتھ جو کھلواڑ اور مالک کائنات کے ساتھ جنگ کا جو اعلان کر رکھا ہے، اسی کے اثرات ہیں کہ انسان زندگی سے مایوس ہو چکا ہے۔ مادی ترقی کے اوجِ کمال کو چھوتے ممالک کے اندر خودکشی کی شرح سب سے زیادہ ہے۔ احساسِ کمتری کا شکار تیسری دنیا بھی خود کو اب یہ روگ لگا چکی ہے۔ ڈپریشن آج کے دور کا خاص عارضہ ہے۔ اپنے معاشرے پہ نظر دوڑائیں تو صورتحال کافی پریشان کن ہے۔ لوگوں کی اخلاقی حالت کاکیا رونا روئیں، خاندانی نظام خطرے کی زد میں ہے۔ دریں حالات ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ حکومتی پالیسیوں سے لے کر معاشرے کی تنظیم و تشکیل تک کے سارے معاملات میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو رہبر کامل مانا جاتا مگر افسوس امت کو خرافات میں زیادہ کشش نظر آئی۔ میلے ٹھیلے اور جشن منانا آسان لگا۔ سال میں ایک مہینہ مختص کر لیا کہ جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نام جھوم جھوم کر لیا جا رہا ہے۔ فلمی گانوں کی طرز پر نعتیں گائی جا رہی ہیں۔ نوجوان لڑکے لڑکیاں مل کر نعتیں گا رہے ہیں میوزک کے ساتھ۔ چراغاں، جلسے، جلوس، پکوان۔۔۔۔۔۔ جشن تو بھئی جشن ہوتا ہے۔ اس کے اندر حد بندی یا جائز نا جائز کی رعایت آخر کیوں کی جائے ۔۔۔۔۔
آہ ۔۔۔۔ امتِ مسلم! تو گمراہی کے گڑھے میں جتنا جتنا نیچے اترتی جارہی ہے تیرے حالات اسی تناسب سے خراب تر ہو رہے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وقت جیسی قیمتی متاع کی تنظیم و منصوبہ بندی کرنا سکھائی اور یہاں یہ حالت ہے کہ سال کے پہلے مہینے سے شروع ہو جاتے ہیں ” تقریبات ” پھر چاہے وہ سوگ کی ہوں یا جشن کی شکل میں ۔۔۔۔۔
اور ۔۔۔۔۔ جس طرح قومی لیڈروں یا اپنی من پسند شخصیات بھٹو، نواز شریف وغیرہ کی سالگرہ منا رہے ہوتے ہیں اسی انداز کو ” مذہبی رنگ ” دے کر امت کا ایک طبقہ اہل بیت کی سالگرہیں یا برسی منا رہا ہوتا ہے۔ پھر ایک دو ماہ گزرتے ہیں کہ کچھ فرقے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سالگرہ منانے لگ جاتے ہیں۔۔۔۔
وہ نبی جو قیامت تک کے لیئے معاشرت، معیشت، معاملات، بزنس، قانون، سیاست غرض ہر میدان کار کے لئیے اسوہ ء کامل ہے اس کی قدر نہ جانی نا قدر شناسوں نے۔۔۔
کسی شاعر نے اس صورتحال کی کیا خوب تصویر کشی کی کہ۔۔
۔۔ترے(ص)حسن خلق کی اک رمق میری زندگی میں نہ مل سکی
میں اسی میں خوش ہوں کہ شہر کے در و بام کو تو سجا دیا۔۔۔
قارئین ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات مطہرہ کا ایک مضمون میں تو کیا ہزاروں کتابوں میں بھی احاطہ ناممکن ہے۔۔ تاہم حیات پاک سے چند واقعات کا یہاں تذکرہ کروں گی یہ واقعات نہیں اس پاک زندگی کی مہک کے جھونکے ہیں تو ہے کوئ جو اپنی زندگی کو مہکانا چاہے؟؟ محبت ، چاہت ، حسن سلوک ، وفا ، ناز برداری ۔۔۔۔۔
کتنی خوشگوار ہو جائے ہر اس جوڑے کی ازدواجی زندگی کہ جو ، یہ مہک اپنی زندگی میں شامل کرلے ۔۔۔۔۔
ایک دفعہ حضرت عائشہ صدیقہ(رضی اللہ عنھا) منہ ہاتھ دھو رہی تھیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) ان کے پاس سے گزرے۔حضرت عائشہ صدیقہ نے محبت سے حضور(ص) پر پانی کا چھینٹا دے مارا۔حضور (ص) نے بھی چلو بھر کر حضرت عائشہ پر پانی پھینکا۔ پھر دونوں مسکرانے لگے۔ حضور(ص) نے فرمایا ،،دیکھو عائشہ میں نے زیادتی نہیں کی بدلہ لیا ہے اور بدلے کا حکم قرآن میں موجود ہے۔۔۔۔۔
ام المومنین حضرت عائشہ (رض) ایک دفعہ آپ(صلعم) کے ساتھ سفر پر گئیں۔ حضور(ص) نے فرمایا ،، عائشہ آو دوڑ لگائیں،،
ام المومنین فرماتی ہیں ،، میں نے کہا ٹھیک ہے جب ہم دوڑے تو میں رحمت عالم سے آگے نکل گئ۔ کچھ عرصہ بعد پھر آپ (ص) میں اور مجھ میں دوڑ ہوئ تو اس مرتبہ رسول اللہ (صلعم) آگے نکل گئے۔ تب آپ(صلعم) نے مسکراتے ہوے کہا ،، عائشہ تلک بتلک (عائشہ حساب برابر ہوگیا)۔۔۔۔۔۔۔
حضرت عائشہ (رض) حضور (صلعم) پر جان نچھاور کرتی تھیں۔ دل وجان سے بڑھ کے محبت کرتی تھیں۔ جب غربت کا زمانہ تھا تو کئ کئ دن حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر کچھ نہیں پکتا تھا۔ایک دن کسی نے چند کھجوریں بھیجیں۔ نبی کریم(ص) کی طرح حضرت عائشہ بھی کئ دن سے فاقہ میں تھیں۔ بھوک کے باوجود یہ کھجوریں جوں کی توں نبی کریم (ص) کے لئیے رکھ چھوڑیں۔ حضور(صلعم) جب گھر تشریف لائے تو محترمہ صدیقہ نے یہ کھجوریں حضور صلعم کو پیش کر دیں۔حضور(ص) نے کھا لیں۔ بعد میں خیال آیا تو پوچھا،، عائشہ ! تم نے بھی کچھ کھایا؟ عرض کیا ،، حضور! میرے لئیے رب کی رضا کافی ہے،، حضور(ص) سمجھ گئے کہ عائشہ صدیقہ نے کچھ نہیں کھایا آپ(ص) کو بڑا افسوس ہوا فرمایا،، عائشہ تم نے کھا لینی تھیں،، اس پر ام الموءمنین مسکرائیں اور عرض کیا،، اللہ کے رسول(ص) نے کھالیں گویا میں نے کھالیں،،
اسی وقت نبی کریم (صلعم) نے دعا فرمائ ،، اے اللہ عائشہ کو اس صبر کا بدلہ عطا فرما،،
حضرت عائشہ (رض) نے عرض کیا ،، حضور! میرے لئیے دعا فرمائیے کہ اللہ مجھے جنت میں آپ (صلعم) کی بیوی بنادے ،،
آپ (ص) نے ارشاد فرمایا ،،جنت میں میری رفاقت مطلوب ہے تو زاہدہ اور صابرہ بن جاو کل کے لئیے سامان خوراک جمع نہ کرو جو زائد ہو صدقہ کر دیا کرو،،
عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا نے زندگی بھر اس ارشاد کی تعمیل کی۔۔۔
قارئین! ہزار ٹوٹکے آزما لیں، مغرب و یورپ کی مادی ترقی کے گن گا لیں ، مال و دولت کے ڈھیر لگا لیں ، مہارت اور کاریگری میں نام پیدا کرلیں۔۔۔۔
سکون ، برکت ، رحمت ،یکسوئ کہیں سے نہیں ملنے والی۔۔۔ واللہ کہیں سے نہیں۔۔
یہ سب ملے گا تو صرف رحمت عالم(صلعم) کو رہبر کامل مان کر۔۔۔۔
آج سے اس شعر کو محض اپنے بچے کو تقریر لکھ کے دینے لئیے ۔۔۔ یا بس اقبال کاشعر سمجھ کے نہیں پڑھئیے۔۔۔
اسے اپنے دل کی آواز بنا کے دہرائیے ۔۔۔ بار بار دہرائیے۔ ایمان کی حرارت کے ساتھ گنگنائیے۔۔
۔۔ کی محمد(ص) سے وفا تو نے تو ہم ترے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح وقلم ترے ہیں۔#
79