آنسو!
مجھے حیرت کا جھٹکا لگا. میں نے رخسار کو ہاتھ لگا کر تسلی کرنے کی کوشش کی. آج کے دن اور وہ بھی اس لمحے بھلا آنسو کا کیا کام!
میری حیرت بڑھتی جارہی تھی۔
دراصل یہ 16مارچ2017ءکی بات ہے. دن جمعرات کا تھا. اور یہ دن میرے لیے عید سے بھی زیادہ خوشی کا دن تھا. اوریہ رات,میرے لیے شب وصل سے بھی زیادہ اہمیت رکھتی تھی. میں پھولا نہیں سما رہا تھا. رات کا تقریباً نصف حصہ بیت چکا تھا. ہر طرف رات اپنے پرسکون پر پھیلا چکی تھی. رات کی رانی کا جھونکا آتا اور رات اور بھی مسحور کن بن جاتی. آسمان پر ستارے قمقمے لگ رہے تھے. ہر طرف عید کا سماں تھا. میں سر پر سفید ٹوپی اوڑھے دوزانو بیٹھا تھا. دل بلیوں اچھل رہا تھا. میں سفید لباس میں ملبوس دلہا سے بھی زیادہ خوش وخرم تھا اور سر احساس تشکر سے اپنے خالق کے سامنے جھکا ہوا تھا. کبھی کوئ بادل کا ٹکڑا گزرتا تو گماں ہوتا کہ مجھے مبارک باد دینے آیا تھا.الغرض ناقابل بیان سماں تھا۔
آج 6فروری2022 بروز اتوار کو مادر علمی اشرف العلوم (گگو منڈی) میں قدم رکھا تو دیکھا کہ وہی چہل پہل وہی رونقیں… اسٹیج پر خواجہ عبد الماجد صدیقی صاحب بھی تشریف فرما ہیں. پتا ہی نہیں چلا کہ میں کب تصورات کی دنیا میں کھو گیا.
خواجہ عبدالماجد صدیقی صاحب کی آواز کانوں میں رس گھول رہی تھی. “آج ہر طرف فحاشی عام, عیش وعشرت عام, زنا عام ,بد دیانتی عام, قتل وغارت عام, چوری اور ڈاکے عام….. لیکن پھر بھی عذاب الہی کیوں نہیں آتا.. ؟انہی بچوں کی وجہ سے… شائد آپ کو پتا ہو کہ جس وقت ساری دنیا خواب خرگوش کے مزے لے رہی ہوتی ہے. اس وقت, رات کے آخری پہر,اذانوں سے بھی پہلے یہ معصوم سے بچے اٹھتے ہیں.سردی میں اکثر ٹھنڈے پانی سے وضو کرنا پڑتا ہے. وضو کرتے ہیں اوراللہ کے کلام کی تلاوت شروع کر دیتے ہیں. رات گئے تک اسی شغل میں مصروف رہتے ہیں. دنیا دن بھر کے کاموں کی وجہ سے تھکی ہاری سو جاتی ہے. مگر یہ فرشتہ صفت بچے اپنے رب کی حمد وثنا میں پھر بھی نہیں تھکتے……..”
میں اسٹیج پر دوسرےدوستوں (شاہد محمود, ,ذیشان شفقت, حسنین عادل, علی رضا, ناصر حسین )کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا. سب لوگ ہمیں رشک سے دیکھ رہے تھے. جب کہ میری حالت کچھ یوں تھی…
سوچتا ہوں کیسے آیا ؟میں تو اس قابل نہ تھا
شکر ہے تیرا خدایا ! میں اس قابل نہ تھا
اچانک مجھے اپنی گال پر نمی کا احساس ہوا.
آنسو!
مجھے حیرت کا جھٹکا لگا. میں نے رخسار کو ہاتھ لگا کر تسلی کرنے کی کوشش کی. آج کے دن اور وہ بھی اس لمحے… بھلا آنسو کا کیا کام!
میری حیرت بڑھتی جارہی تھی.
آج سے پہلے میں خوشی سے آنسو نکلنے کو محض محاورہ سمجھتا تھا. مگر اب احساس ہورہا تھا کہ
آنکھوں کو بھگوتے ہیں خوشی کے کبھی آنسو
سانسوں کو ڈبوتی کبھی آنکھوں کی تری ہے
یا شائد یہ نقرئ آب اپنے مالک کے انعامات کے استحضار اور اپنی نالائقی اور نااہلی کے احساس پر سجدہ کرنے گرا تھا……..
خیالات کا طلسم ٹوٹا تو احساس ہوا کہ میں اسٹیج پر نہیں ہوں. اور ہوتا بھی کیسے ؟آج تو میری دستار بندی نہیں تھی…!
آہ!وہ پرکیف لمحے…. وہ سہانی گھڑیاں….. میں ان کو کبھی فراموش نہیں کرسکتا…!