پرانے زمانے کے بادشاہوں کے بھی نرالے شوق ہوا کرتے تھے ہر ایک کی ہی یہی خواہش رہتی تھی کہ کوئی ایسا کام کر گزروں جو اس سے پہلے کسی نے نہ کیا ہو اور اسکے گزرنے کے بعد رہتی دنیا میں یاد کیا جائے ۔یونہی ایک بادشاہ سلامت کے دل میں انوکھا شوق پیدا ہوا اس نے اپنی مملکت کے تمام ماہر دزیوں کو اکٹھا کیا اور خواہش ظاہر کی کہ میں ایسا لباس پہننا چاہتا ہوں جو اج تک کسی نے نہ زیب تن کیا ہوبادشاہ سلامت کی خواہش ہو اور اس کی تکمیل نہ ہو یہ کیسے ممکن ہے۔۔؟بادشاہ نے 40 دن کا ٹائم بھی دیا اور ایک چت آوںی بھی سنائی کہ مقرروقت میں میرا مطلوبہ لباس تیار نہ ہوا تو تمام درزیوں کا سر قلم کر دیا جائے گا۔خیر دربار ختم ہوا درزیوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ یہ کیسے ممکن کہ کوئی ایسا لباس بچا ہو جو اج تک کسی نے نہ پہنا ہو ۔اپنے جان کے لالے اور بادشاہ کی خواہش نے درزیوں کو کافی پریشان کر رکھا تھا اسی محفل میں ایک درزی کا بیٹا جو کافی سیانا تھا موجود تھا کھڑا ہو کر اس نے تمام درزیوں کو پریشانی کو یہ کہہ کرختم کر دیا کہ بادشاہ سلامت کا مطلوبہ لباس میں تیار کروں گا وقت مقررہ پر بادشاہ کو پیش کروں گا اپ سب بے فکر ہو جائیں ۔بلا آخر 40 دن مکمل ہوئے بادشاہ کا اشتیاق بھی دیدنی تھا اور دربار بھی کھچا کھچ بھرا ہوا تھا آج بادشاہ انوکھا لباس زیب تن کرنے والا ہے اسی اثنا میں درزی کا بیٹا دربار میں داخل ہوا بادشاہ کو نقارش بجا لائی اور عرض کیا بادشاہ سلامت اپ کا مطلوبہ لباس تیار ہے ہم اسے نورانی لباس کہتے ہیں اس کی خاصیت ہے کہ یہ کسی بھی حرامی شخص کو نظر نہیں آئے گا ۔اس لباس کو صرف ٹناٹن ٹن حلالی ہی دیکھ پائے گا۔ یہ خواص سنتے ہی بادشاہ سلامت تھوڑا سا پریشان بھی ہوا اور پھر دل ہی دل میں خوش ہونے لگا کہ آج دربار وچ حرامیوں دا لگ پتہ جاسیں۔خیر بادشاہ سلامت کو لباس پہنایا گیا اور لا کر دربار میں مجمعے کے سامنے تخت پر لا بٹھایا ۔اور ساتھ ہی اعلان کیا گیا کہ آج بادشاہ سلامت نے ایسا انوکھا لباس پہنا ہے جو آج تک کسی نے نہیں پہنا مزید اس کی خاصیت ہے کہ یہ کسی حرامی بندے کو نظر نہیں ائے گا۔پھر کیا تھا اعلان کے سنتے ہی وزیر ، مشیر ،درباری مبارکبادیں دینے لگے کہ کیا خوب لباس پہنا ہے ۔ بادشاہ سلامت فٹنگ بھی ایک دم مست ہے ۔بادشاہ پورا دن بہت مسرور رہا ۔دربار جب تمام ہوا تو بادشاہ نے اپنے وزیر خاص کو پاس بلا کر کان میں کہا یار (شکور) میں تمہیں اور تم مجھے بچپن سے جانتے ہو میں تمہارے اور تم میرے والدین کو اچھی طرح جانتے ہو سب شریف اور با حیا لوگ تھے۔ تمہیں تمہارے والدین کی قسم سچ بتانا مجھے تو درزی کے بیٹے کا دیا گیا نورانی لباس نظر ہی نہیں آرہا بادشاہ کی بات سنتے ہی وزیرخاص تڑپ کر بولا ظل الٰہی آپ کی عزت و جلال کی قسم نورانی لباس نظر تو مجھے بھی نہیں آرہا مگر اس لیے خاموش تھا کہ کہیں سب ” درباری مجھے حرامی سمجھنے نہ لگ جائیں “بادشاہ نے نے کہا مطلب یہ کہ پورا دن دربار میں میں ننگ پنگ بیٹھا رہا اس درزی کے بیٹے کو نشان عبرت بنا دوں گا ۔وزیر خاص کہنے لگا ایسا نہ کیجئے گا خضور خاموشی بہتر ہے یہ نہ ہو کہیں لوگ ہمیں حرامی سمجھنے لگ جائیں ۔محترم قارین ! اس کہانی سے آپ میری مدعا سمجھ ہی چکے ہوں گے کہ موجودہ سیاسی منظر نامے میں ایک ایسے شخص کو نورانی لباس پہنا کر لایا گیا جسے پہلے ذلیل کر کے نکالا گیا اور وطن واپسی کے تمام تر دروازے بند کر دیے گئے ۔پھر کیا ہوا صبح کے تخت نشیں شام کو مجرم ٹھہرےہم نے پل بھر میں نصیبوں کو بدلتے دیکھا ہےمجرم کو محرم بنا کرایک باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت واپس لایا گیا وہ کہتے ہیں نا آتے ہیں وہی جنہیں سرکار بلاتے ہیں سرکار سے ہمارا معصومانہ سا سوال ہے اگر اتنے اچھے تھے تو نکالا کیوں گیا۔۔؟ اور اگر بہت برے تھے تو لایا کیوں گیا۔۔؟ ہمارے ملک میں گدھا وہی رہتا ہے بس کاٹھیاں تبدیل ہوتی ہیںملک کی سیاست کو تختہ مشق بنانے والوں کو یہ کھلواڑ بن کر دینی چاہیے سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے معیشت تباہ ہو چکی ہے قرضوں کے بوجھ تلے دبتے جا رہے ہیںملک ہر باشندہ راہ فرار چاہتا ہے ۔۔دو وقت کی روٹی روزی پیدا کرنا مشکل ہو رہی ہے ۔عالمی دنیا میں ہمارا ایمج مجروح ہو رہا ہے ۔
84
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل