71

تسبیح ٹوٹ رہی ہے/تحریر/عائشہ شیخ

اللہ رب العزت نے انسانوں کو اس دنیا میں وجود بخشا جس کا سلسلہ حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت بیبی حواء علیھا السلام سے چلتا آ رہا ہے۔ اللہ رب العزت نے نجات “یکتہ پرستوں” کے لیے رکھی یعنی جو ایک خدا کو ماننے والے ہوں ہر شرک سے پاک ہوں، جیسے جیسے وقت گزرتا گیا، ادوار بدلتے گئے، انبیاء علیھم السلام آتے رہے لوگوں کی رہنمائی کے لیے، کچھ کو اللہ رب العزت نے آسمانی کتابیں دیں اور کچھ کو صحیفے، یہ سب اللہ رب العزت کی کامل حکمت و منشاء پہ مبنی تھا۔ اسی سارے سلسلوں میں مختلف قسم کے ادیان اس دنیا کا حصہ رہے، جب کسی نبی یا رسول کو اللہ رب العزت تاج نبوت دیتا تو ساتھ اس کے شریعت بھی ہوتی جو اس وقت اس دور کے لوگوں کے لیے نجات کا ذریعہ تھیں۔ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، امام الانبیآء و خاتم النبیین جب اللہ کی طرف سے منصب نبوت پہ فائز ہوئے تو چونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آخری نبی ہیں اسی لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شریعت آخری شریعت ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت آخری امت ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد چونکہ کسی اور نبی یا رسول نے نہیں آنا لہذا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی امت کو قیامت تک کے احوال سے واقف کیا اور اس کے مطابق راہنمائی بھی دی۔
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے امت کو قرآن کو حدیث سے جڑے رہنے پہ تاکید کی جیسا کہ حدیث مبارکہ میں ہے:
عَنْ مَالِکٍ رضي الله عنه أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم قَالَ: تَرَکْتُ فِيْکُمْ أَمْرَيْنِ، لَنْ تَضِلُّوْا مَا تَمَسَّکْتُمْ بِهِمَا: کِتَابَ اﷲِ وَسُنَّةَ نَبِيِّهِ.

رواه مالک، والحاکم عن أبي هريرة.

”امام مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ان تک یہ خبر پہنچی کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تمہارے پاس دو چیزیں چھوڑے جاتا ہوں، اگر انہیں تھامے رکھو گے تو کبھی گمراہ نہ ہوگے یعنی اللہ کی کتاب اور اُس کے نبی کی سنت۔“
اور آج ہم کس قدر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات سے دور آ گئے ہیں اس کا اندازہ لگانا اب شاید بالکل بھی مشکل نہیں رہا!
ایک اور حدیث مبارکہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
عن النعمان بن بشير رضي الله عنه مرفوعاً: «مَثَلُ المُؤْمِنِينَ في تَوَادِّهِمْ وتَرَاحُمِهِمْ وتَعَاطُفِهِمْ، مَثَلُ الجَسَدِ إذا اشْتَكَى مِنْهُ عُضْوٌ تَدَاعَى له سَائِرُ الجَسَدِ بالسَّهَرِ والحُمَّى».
[صحيح] – [متفق عليه]

نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مومنوں کی آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ محبت و مودت اور باہمی ہمدردی کی مثال جسم کی طرح ہے کہ جب اس کا کوئی عضو تکلیف میں ہوتا ہے تو سارا جسم اس تکلیف کو محسوس کرتا ہے بایں طور کہ نیند اڑ جاتی ہے اور پورا جسم بخار میں مبتلا ہو جاتا ہے“۔
صحیح – متفق علیہ
ان دونوں احادیث کو ذہن کو رکھتے ہوئے ذرا پوری امت مسلمہ کا ایک جائزہ لیجیے بخوبی اس بات کا اندازہ ہو جائے گا کہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنہری و قیمتی تعلیمات سے میلوں میل دور جا چکے ہیں۔
ہم یہ دیکھ سکتے ہیں کہ جب کسی غیر مسلم ملک کو کوئی معاملہ پیش آتا ہے تو باقی سارے غیر مسلم ممالک اور افسوس کے ساتھ کہ کچھ مسلم ممالک بھی اس کا ساتھ دیتے نظر آتے ہیں جب کہ وہ کھلم کھلا ظلم و بربریت کرتے ہیں لیکن اس کے بر عکس جو ملک مسلمانوں کا ہو جہاں ہمارے مسلمان بہن بھائی ہوں ان کو کوئی معاملہ پیش آئے تو باقی کے مسلم ممالک “نظر چراتے” نظر آتے ہیں! ایسا کیوں ہے؟ کیوں ہم نے دین اسلام کو ہلکا لے لیا ہے؟ کیوں مسلمانوں کے احوال کو نظر انداز کر دیا ہے؟ جب کہ “جسد واحد” کی تعلیم تو ہم مسلمانوں کو ایک امت ہونے پہ ملی تھی لیکن اس تعلیم پہ عمل کرتے وہ غیر مسلم نظر آتے ہیں۔ عجیب ہی بات ہے!!!!
بہرحال
ہم مکلف اس کے ہی ہیں جو ہمارے بس میں ہو اور دعا مانگنا، حق کے لیے آواز بلند کرنا(لیکن اس کے لیے جوش میں آ کے ہوش نہیں گنوانا بلکہ مناسب حکمت عملی کے ساتھ کرنا ہے)، امداد بھیجنا، سوشل میڈیا کا مثبت استعمال، لایعنی چیزوں کو چھوڑ کہ ذرا سنجیدگی کی طرف آنا یہ سب ہمارے بس میں ہے، ہاں یہ بات الگ ہے کہ ہم کرنے میں کوتاہی کر لیتے ہیں یا ہم کرنا ہی نہیں چاہتے یا ہم اتنے سنگ دل ہوگئے ہیں کہ ہمیں اپنے مسلمان بہن بھائیوں کی پرواہ نہیں! تو بس عرض یہ ہے کہ ذرا سنجیدہ ہو جائیں۔
یہ امت مسلمہ کیوں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگئی ہے!
یہاں ہر مسلمان تسبیح کے ایک دانے کی مانند ہے، یہ تسبیح ٹوٹ رہی ہے اس کو ٹوٹنے نا دو۔
ایک ہی تسبیح میں رہو گے تو قیمت بھی ہوگی ٹوٹ کہ بکھر گئے تو پاؤں تلے روندے جاؤ گے۔
اللہ پاک خیر و عافیت کے معاملات فرمائیں اللہ پاک اس امت پہ خاص رحم و کرم فرمائیں، اللہ ہمارے گناہوں کو کمی کوتاہیوں کو بخش دیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں