یقینا یہ عنوان اچھنبا سا محسوس ہو رہا ہوگا کیونکہ ایک لفظ سے تو ہماری قوی حد تک مناسبت ہے لیکن دوسرا سننے کو بھی نہیں ملتا۔ اس لیے کہ آج تک ہم نے یہ تو سنا “دوسروں پر جو ہمارے حقوق ہیں انہیں چاہیے کہ وہ ادا کریں” اور یہ شاید ہی کسی سے یا کسی نے سنا ہوگا “دوسروں کے جو حقوق ہم پر ہیں ان کو ادا کرنا ہمارا فرض ہے “
اندازہ کریں! بچہ پیدا ہوتا ہے اور لاشعوری دور سے شعور تک کا سارا زمانہ “حقوق دو، حقوق دو” کہ رٹ لگاتے گزرتا ہے نتیجتا بڑھاپے میں اپنی اگلی نسل کو بھی یہی درس اور سبق پڑھاتا سکھاتا ہے۔ پیدائش ہوئی رو رو کے دودھ مانگا۔ کچھ بڑا ہوا مدرسے یا سکول بھیجا،استاذِ محترم نے مارا ،رونا شروع کر دیا اور سکول جانے کے بجائے گھر پہ بیٹھ کر اپنے سکون کا حق مانگا۔کچھ بڑا ہوا گلی محلے کے دوستوں سے کھیلتا ہوا بال کو چھکا مارا ،بال سامنے والے گھر کسی کو جا لگی احتجاج کرکے اپنی بال کا مطالبہ کیا۔ والدین نے کوئی کام کرنے کا کہا آگے سے دوسرے بھائی کو یہ کام نہ کہنے کی دلیل دے کر خود کی جان چھڑائی ۔ کمپنی جاب لگی ساری زندگی تنخواہ کی کمی کا شکوہ رہا۔ ٹیچر لگے ہمیشہ طلبہ کے بدتمیز اور بے ادب ہونے کی شکایت رہی۔ بیوی کو ہمیشہ یہ فکر رہی کہ خاوند مجھے پورا خرچہ نہیں دے رہا۔ اور شوہر کو یہ شکوہ کہ بیوی پوری پوری خدمت نہیں کر رہی ۔ بلکہ اب المیہ تو یہ ہے کہ اس وقت عالمی تنظیمیں بھی ساری حقوق کی ہی ہیں فرائض کی شاید کوئی تنظیم ہو۔ جب 30 ، 35 سال تک اپنے حقوق کی جنگ لڑتے لڑتے گزر گئے ۔ 35 سال بعد خاک اپنی اگلی نسل کو فرائض کا سبق پڑھائیں گے۔ اگلی نسل تو پہلے ہی ہمارے دھرنوں سے حقوق مانگنا سیکھ چکی۔ اس دوران زندگی کے کسی موڑ پر کسی نے پوچھ لیا “کون ہو؟” بولے “مسلمان۔۔۔۔۔۔۔”
اب آئیے قران و حدیث اور شریعت کی روشنی میں اسلامی تعلیمات کا جائزہ لیتے ہیں۔
غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے جہاں کہیں بھی کوئی ارشاد ہوا شریعت میں فرائض کی ادائیگی کا ہوا حقوق وصولی کا نہیں بلکہ اپنے حقوق معاف کرنے کی ترغیب دی گئی۔ قران کریم کی چند مثالیں دیکھتے ہیں
سورۃ النور میں کامیاب لوگوں کی علامات بیان کی گئیں کہ ان اوصاف سے متصف لوگ کامیاب ہیں اب دوسروں کو ترغیب دی گئی کہ وہ بھی ان اوصاف سے متصف ہونے کی کوشش کریں تاکہ وہ بھی کامیاب ہو سکیں نا یہ کہ اللہ تعالی کے محض فضل و کرم کا سہارا لے کر ہاتھ باندھ کے بیٹھ جائیں ۔
*سورۃ ابراہیم میں فرمایا “اگر تم شکر کرو گے تو میں زیادہ نعمتیں دوں گا” یعنی ہمارا فریضہ یہ ہے کہ ہم باری تعالی کا بار بار شکر ادا کریں اللہ تعالی خود بخود زیادہ سے زیادہ دیں گے۔ یہ نہیں سکھایا گیا کہ ہم اللہ پاک سے زیادہ مانگیں بلکہ زیادہ دینا یہ اللہ پاک کا فضل ہے ہمارا فرض یہ ہے کہ ہمیں جو دیا گیا ہے اس پر شکر کریں۔
حدیث پاک میں ارشاد فرمایا گیا کہ” تم میں سے ہر ایک نگران ہے اور ہر ایک سے اس کے ماتحتوں کے بارے میں قیامت کے دن سوال کیا جائے گا” یعنی رعیت اور عوام کو نہیں کہا گیا کہ تمہارے حکمران کیسے ہیں بلکہ حکمرانوں کو مخاطب کر کے ان کا فریضہ بتلا یا گیا، تمہاری ذمہ داری یہ ہے کہ تم دیانتداری سے اپنے فرائض مکمل ادا کرو ۔ دوسری طرف رعایا کو یہ حکم دیا کہ تم اطاعت کرو اگرچہ تم پر حبشی غلام ہی کیوں نہ حکمران بنا دیا جائے۔ تو حکمران کا فریضہ رعایا کی دیکھ بھال جبکہ رعیت کا فریضہ حکمرانوں کی اطاعت ہے۔
کسی کو مزدوری کے لیے رکھا ،کام مکمل ہوا، مزدور کو نہیں فرمایا کہ اپنی اجرت کا مطالبہ کرو بلکہ مالک کو حکم دیا گیا “تمہارا فریضہ ہے کہ اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے اجرت ادا کرو” جبکہ مزدور کو دیانت داری سے کام کا حکم دیا گیا کہ اپنے عہد کو پورا کرو کیونکہ عہد کے بارے میں قیامت کے دن پوچھا جائے گا۔
*اسی طرح ایک اور حدیث میں آتا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا” جو آدمی حق پر ہوتے ہوئے اپنا حق چھوڑ دے قیامت کے دن جنت کے بیچوں بیچ اس کے لیے محل کا میں محمد ضامن ہوں “غور کیجئے اپنا حق ہوتے ہوئے بھی مطالبہ کی ترغیب نہیں ،معافی کی تربیت ہے۔اسی بات کو دوسری لفظوں میں سمجھیے۔ امام احمد رحمہ اللہ نے حضرت حاتم اصم سے عرض کیا” کوئی ایسی نصیحت کریں کہ لوگوں کے قیل وقال سے بچ جاؤں” انہوں نے فرمایا “احمد! تین کام کرو ہمیشہ زندگی سکون سے گزرے گی۔
نمبر ایک ؛ دوسروں کے حقوق ادا کرو اپنا حق نہ مانگو
نمبر دو؛جو کچھ تمہارے پاس ہے وہ دوسروں کو دو لیکن دوسروں سے نہ مانگو
نمبر تین؛ دوسروں کو تکلیف مت پہنچاؤ، دوسرے اگرچہ تمہیں تکلیف پہنچائیں پھر تم معاف کر دو ۔
اب کیجئے اندازہ ہم میں سے کرتا ہے کوئی ایسا ۔۔؟ ان ساری باتوں میں غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی تعلیمات فرض ادائیگی اور حقوق معافی کی ہیں “حقوق طلبی “یہ روِش ہمارے اندر دین سے دوری کی وجہ سے پیدا ہوئی۔ اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ حقوق کے دھرنے دینے کے بجائے فرائض کی ہم خود پہچان کریں اور دوسروں کے حقوق ادا کرنا شروع کریں۔ عصر حاضر میں ایسے ائمہ مساجد، مدرسین ، سوشل میڈیا ورکر اورموٹیوشنل سپیکر کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنے ماحول اور معاشرے کے لوگوں میں دینی فکر پیدا کریں۔اور ان کو ان کے فرائض کی طرف توجہ دلائیں۔ نہ یہ کہ ان کے حقوق کی پہچان کرائیں ایک معروف کالم نگار کے مضمون میں دیکھا عنوان تھا “حقوقِ اساتذہ “اور نیچے تمام تر گفتگو فرائضِ اساتذہ کے حوالے سے کی گئی تھی۔ انتہائی دکھ ہوا کہ حقوق کے رٹ لگاتے لگاتے فرائض کو بھی حقوق بنا دیا گیا۔ اس لیے آج ہی سے عزم کریں! اساتذہ صحیح تعلیم دینے کی فکر کریں ،طلبہ صحیح پڑھنے کے ساتھ استاد کے ادب کا فرض ادا کریں ،فیکٹری مالکان بروقت پورا محنتانہ دینے کی کوشش کریں ،اور ملازمین پورا ڈیوٹی ٹائم دفاتر کو دینے کا اہتمام کریں، بیوی شوہر کو مکمل راضی رکھنے کی کوشش کرے ۔شوہر نان و نفقے کی اور دیگر حقوق کی ادائیگی یقینی بنائیں۔ عوام حکومت کا ساتھ دیں اور حکومتیں عوام پر رحم و کرم کریں۔
کسی کے ساتھ مجلس ہوئی مجلس کا اختتام پر اسے کہہ دیں “بھائی! آپ کے جو حقوق بنتے تھے میں وہ صحیح معنوں میں ادا نہ کر سکا ۔مجھے معاف کرنا۔” خلاصہ یہ کہ دنیا سے جب ہم جائیں تو اپنے فرائض پورے ادا کر کے جائیں۔ قیامت کے دن اللہ تعالی کے بارگاہ میں ہمارے حقوق دوسروں سے دلوائے جائیں، دوسروں کے حقوق کا ہم سے مطالبہ نہ ہو۔ اگر مطالبہ ہو گیا تو پھر یہ بہت بڑے گھاٹے کا سودا ہوگا۔