71

بیوہ خواتین اور معاشرتی ذمہ داریاں/تحریر/سمیہ اسد جہلم کینٹ

سید الاولین و الآخرین فخر الانبیاء و المرسلین تمام جہانوں کے لیے رحمۃ للعالمین بنا کر مبعوث کیے گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شانِ رحمت سے کرہ ارض بسنے والی مخلوقات کی کوئ بھی نوع بالخصوص بنی آدم کا کوئی بھی طبقہ ایسا نہیں ہے جو اس بحرِ رحمت سے فیضیاب نہ ہؤا ہو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے قبل بنی آدم کے کمزور طبقات ظلم کی چکی میں پس رہے تھے ان پر طرح طرح کے مظالم ڈھاۓ جا رہے تھےان کا استحصال عروج پر تھا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی تو انسانوں کو ہر طرح کے حقوق ملنے شروع ہوئے قرآن کریم کی رو سے کمزور طبقات کی فہرست تو بہت طویل ہے ان کمزور طبقات میں بیوہ بھی شامل ہے آج ہم بیوہ کے بارے میں ذکر کریں گے
زمانہ جاہلیت میں لوگ مظلوم عورت کو ہمیشہ اپنی عیش و عشرت کے لیے استعمال کرتے اور ان سے حیوانوں جیسا سلوک کرتے تھے ان کو معاشرے میں حقیر و ذلیل سمجھا جاتا تھا یہاں تک کہ عرب میں سے بعض شقی القلب عورت کو عار سمجھتے اور معصوم لڑکی کی پیدائش پر اسے باعث ذلت و عار سمجھتے ہوئے اسے زندہ درگور کر دیتے تھے اسلام نے ان کے اس فعل قبیح کی نفی فرمائی چناں چہ ارشادِ ربانی ہے “اور جب زندہ درگور کی گئی لڑکی سے پوچھا جائے گا کہ وہ کس گناہ کی وجہ سے قتل کی گئی تھی”ایک طرف جہاں ان بچیوں پہ ظلم ڈھانے کی بابت سزا کی وعید سنائی گئی وہیں دوسری طرف ایسے لوگوں کو جنہوں نے لڑکے اور لڑکیوں میں کوئی تفریق نہیں کی جنت کی خوشخبری سنائی گئی
اسلامی نظامِ حیات نے عورت کو ذلت و پستی سے نکال کر بے پناہ حقوق دیے اسلام نے عورت کو اس کی فطرت کے مطابق ذمہ داریاں سونپ کر اس پر خصوصی توجہ دی
قبل اسلام صنفِ ضعیف یعنی بیوہ کی مختلف مذاہب میں حیثیت کا جائزہ لے لیتے ہیں
بیوہ عورت کو عربی زبان میں ارملہ کہا جاتا ہے اصطلاح میں اس عورت کو کہا جاتا ہے جس کا خاوند فوت ہو جائے عورت کا خاوند جب فوت ہوتا ہے تو وہ انتہائی کمزور حالت میں ہوتی ہے کیونکہ اس کا راحت وسکون ختم ہو جاتا ہے بچے ہر قسم کی رعایت سے محروم ہو جاتے ہیں اور وہ بہت تلخی و درد محسوس کرتی ہےاس کا ذریعہ معاش بھی ختم ہو جاتا ہے اس وجہ سے اس کو ارملہ کہا جاتا ہے جبکہ اردو میں ایسی عورت کو بیوہ کہا جاتا ہے کہ اس کی کوئ واہ واہ نہیں اس کا مان اور فخر شوہر کی وفات سے ختم ہو گیا
اسلام سے قبل زمانہ جاہلیت میں یہ رسم تھی کہ جو عورت بیوہ ہوتی اس کو ایک سال کی عدت گزارنا پڑتی اور اس کو نہایت منحوس سمجھا جاتا اور اس کو ایک سال تک نہایت تنگ و تاریک کوٹھڑی میں ٹھرایا جاتا ایک سال تک اسے غسل اور منہ ہاتھ دھونے کے لیے پانی تک نہ دیا جاتا اور نہ پہننے کے لیے لباس فراہم کیا جاتا
اہل عرب میں بیوہ شوہر کے وارثوں کی ملکیت بن جاتی اور وہ جو چاہتے اس کے ساتھ کر سکتے تھے اس سے مہر معاف کروا لیتے اور اس کو اپنی مرضی سے شادی نہیں کرنے دیتے تھے دوسرے حیوانات کی طرح وہ بھی وراثت میں منتقل ہوتی رہتی تھی
یہودی مذہب میں بیوہ کی کوئ حیثیت نہیں تھی عورت مرد کی کنیز اور لونڈی ہوتی تھی اولاد نرینہ کی موجودگی میں حق وراثت کا تصور نہیں کیا جا سکتا تھا وہ دوسری شادی کے حق سے بھی محروم رکھی جاتی تھی یہودی مذہب میں عورت کو منقولہ جائیداد اور شوہر کو مالک کہا گیا ہے یہودی مذہب میں بھائ کی وفات کے بعد بیوہ عورت دوسرے بھائی کی ملک ہو جاتی تھی وہ جس طرح چاہتا اس کے ساتھ معاملہ کر سکتا تھا
عیسائی مذہب میں عورت مکمل طور پر مرد کے قابو میں تھی اسے طلاق وخلع کی اجازت بھی نہ تھی اگرچہ زوجین میں کتنی ہی ناچاقی کیوں نہ ہو وہ ایک دوسرے کے ساتھ زبردستی بندھے رہنے پر مجبور ہوتے تھے
ہندوستان میں ہندو مت کے پیروکاروں میں”ستی” جیسی بھیانک رسم رہی ہے کہ بیوہ عورت کو خاوند کی وفات کے بعد زندہ رہنے کا کوئی حق حاصل نہ تھا اس کو دو حال میں سے ایک حال اختیار کرنا ہوتا یا زندگی بھر بیوہ رہے یا جل کر ہلاک ہو جائے اس کے لیے “ستی” ہونا زیادہ بہتر شمار کیا جاتا جبکہ زندہ رہنے کی صورت میں اس کی حالت موت سے بھی بدتر ہوتی
دین اسلام اور بیوہ عورت: اسلام کی آمد سے قبل دنیا کے معاشرے اور تہذیبوں کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ بیوہ کی تاریخ بڑی درد ناک رہی ہے وہ معاشرے میں دربدر ٹھوکریں کھانے پر مجبور تھی لیکن اسلام نے اسے ظلم کی چکی سے نکال کر اسے انصاف مہیا کیا خود ساختہ دقیانوسی خیالات کا قلعہ قمع کر کے اس اپنے دامن حمایت کا سایہ بخشا معاشرے کو اس کا مقام سکھایا اور اس کو بلند مقام عطا فرمایا
اسلام نے بیوہ عورتوں کے حقوق کے بارے میں اتنا خیال رکھا ہے کہ دنیا کے کسی مذہب و معاشرہ میں اس کی نظیر نہیں مل سکتی اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں ارشاد فرماتے ہیں ” اور جو لوگ مر جاویں تم میں سے اور چھوڑ جائیں اپنی عورتیں تو چاہیے کہ وہ عورتیں انتظار میں رکھیں اپنے آپ کو چار مہینے اور دس دن پھر جب پورا کر چکیں اپنی عدت کو تم پر کچھ گناہ نہیں اس بات میں کہ وہ کریں فائدے کے موافق اور اللہ کو تمہارے تمام کاموں کی خبر ہے” عدت گزرنے کے بعد بیوہ عورتیں دستور کے مطابق جو کریں اس میں ورثاء پر کوئ گناہ نہیں ہے کیونکہ عدت گزرنے کے بعد ان کو زیب وزینت اختیار کرنے اور نئے نکاح کی اجازت ہے وہ اپنے معاملے میں آزاد اور خود مختار ہیں اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ بیوہ کے عقد ثانی کو برا نہ سمجھنا چاہیے نہ ہی اس میں رکاوٹ ڈالنی چاہیے
اسلام انسان کے لیے ازدواجی زندگی گزارنے کی اہمیت پہ بہت زور دیتا ہے اس نے پورے معاشرے کو ازدواجی زندگی گزارنے میں بے نکاح افراد کی مدد کرنے کی ہدایت کی ہے ارشاد باری تعالیٰ ہے”اور نکاح کر دو اپنوں میں ان کا جو بے نکاح ہوں اور اپنے لائق بندوں اور لونڈیوں کا اگر وہ فقیر ہوں تو اللہ انہیں غنی کر دے گااپنے فضل سے اور اللہ تعالیٰ وسعت والا علم والا ہے “اس آیت سے معلوم ہوا کہ بغیر نکاح کے عمر کے کسی مرحلہ میں بھی رہنا مرد وعورت کے لیے مناسب نہیں اسی لیے فقیہ الامت حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اگر میری زندگی کے صرف دس دن باقی ہوں اور مجھے یقین ہو کہ آج میرا مرنا یقینی ہے تو فتنے کے خوف سے میں نکاح کرنا پسند کروں گا
ایک حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بغیر بیوی کے شخص کو مسکین اور بغیر خاوند کے عورت کو مسکینہ فرمایا
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح نہ کرنے کے عمل کو ناپسند فرمایا چنانچہ حدیث میں آتا ہے اے علی تین باتوں کے کرنے میں دیر نہ کیا کرو ایک نماز ادا کرنے میں جبکہ وقت ہو جائے دوسرے جنازے میں جب تیار ہو جائے اور تیسرا بے خاوند عورت کے نکاح میں جبکہ اس کا کفو یعنی ہم پلہ شخص مل جائے
اس حدیث کی رو سے بیوہ عورت کو عقد ثانی میں جلدی کرنی چاہیے جبکہ موجودہ دور میں بیوہ کے نکاح کو انتہائی معیوب سمجھا جاتا ہے اس کے نکاح میں کبھی سسرال کبھی میکہ کی طرف سے رکاوٹیں ڈالی جاتی ہیں یہ ناں صرف اسلام کی روح کے خلاف ہے بلکہ بیواؤں کے جذبات کا گلہ گھونٹ کر ان پر ظلم کے مترادف ہے
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بیوہ عورتوں سے نکاح کرکے انہیں معاشرے میں اہم مقام عطا فرمایا انہیں تحفظ فراہم کیا انہیں معاشرے کا ایک فرد گردانا نیز انسانیت کو بیوہ عورتوں اور یتیموں کی کفالت اور غمخواری کرنے کا درس دیا ۔فرمایا بیوہ عورت اور مسکین کے لیے کوشش کرنے والا راہ خدا میں جہاد کرنے والے کی طرح ہے اور اس کے برابر ہے جو دن بھر روزہ رکھے اور رات بھر نماز پڑھے
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دیکھا دیکھی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے بیوگان سے شادیاں کیں جس سے کئ بے آسرا گھر آباد ہوے اور انہیں تحفظ ملا
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں ان کی مدد کرنے والا اور ان کا دفاع وتحفظ کرنے والا بنائے اور اللہ تعالیٰ ہر بیوہ کی اپنے غیب کے خزانے سے مدد فرمائے آمین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں