57

بلا عنوان/تحریر/سمیرا صدیق

کمرے کے فرش پر جھاڑو لگاتے ہوئے میری چیخ گردو نواح میں گونجتے گونجتے رہ گئی۔۔۔جب انا انزلنه فی لیلة القدر کی آواز میرے کانوں میں پڑی۔۔۔لیکن ڈر کی وجہ سے وجود پر ابھی تک کپکپی طاری تھی۔۔۔
وما ادرك ما لیلۃ القدر اس کی آ واز کا تسلسل میرے وجود پر چھائے ڈر کو کافور کرتا گیا۔۔۔ میں پورے انہماک سے اسے سن رہی تھی۔۔۔اور اس کا بغور جائزہ لے رہی تھی۔۔۔کمرے کے سامنے کی دیوار پر لگے فریم میں سورت قدر جگمگا رہی تھی۔۔۔ ہمیشہ کی طرح اچانک ہی وہ کمرے میں داخل ہوئی۔۔۔اور میرے مد مقابل آن کھڑی ہوئی۔۔۔ اس کی اس طرح آمد پر مجھ سمیت بہت سارے لوگ اکثر اوقات ڈر جایا کرتے۔۔۔لیکن آج اس کی اچانک آمد نے نہ صرف مجھے خوفزدہ کیا بلکہ حیرت زدہ بھی کر دیا۔۔۔
کہنے والوں نے کہا کہ کبھی وہ خوبصورت تعلیم یافتہ لڑکی تھی۔۔۔جو بیاه کر سسرال گئی۔۔۔ تو سسرال میں اس کے ساتھ ناروا سلوک برتا گیا۔۔۔بہرحال وہ انہی حالات میں تین،چار بچوں کی ماں بن گئی۔۔۔پھر اس کے بچے چھین کر اسے طلاق کا دھبہ لگا کر سسرال سے نکال دیاگیا۔۔۔بچوں کی جدائی نے ماں کو دیوانہ بنا دیا۔۔۔
گرمی کے تپتے دن ہوتے یا جھاڑے کی یخ بستہ ہوائیں۔۔۔۔وہ علاقے کی گلی گلی اور نکڑ نکڑ پر تیز رفتاری سے چلتی دکھائی دیتی ہے۔۔۔خود سے بے نیاز ماں بظاہر ابنارمل نظر آتی ہے۔۔۔لیکن گلیوں میں سے گزرتے ہوئے چھوٹے بچوں پر ہلکا سا پیار بھرا ہاتھ ضرور پھیرتی ہے۔۔۔کبھی روتے بچوں کو آہستہ آواز میں تسلیاں دیتی نظر آتی ہے۔۔۔
اس کی حیران کن بات یہ ہے کہ جہاں کچھ خاص لکھا نگاہ سے گزرتا ہے تو اسے پڑھتی ہے۔۔۔
آج بھی وہ سورت قدر پڑھ کر جا چکی تھی۔۔۔وہ ہر گھر میں بلا روک ٹوک داخل ہو کر دس روپے لے کر چلی جاتی ہے۔۔۔لپک کر سوال نہیں کرتی۔۔۔بس مانگتی ہے اور چل پڑتی ہے۔۔۔جو کوئی دے دے تو لے لیتی ہے۔۔۔مگر نہ لالچ نہ کوئی طمع۔۔۔
ظالم انٹرنیٹ کا زمانہ کیا آیا کہ ایسی دکھوں اور غموں کی ماری ماں کو بھی نہ بخشا۔۔۔اس کی ویڈیو بنا کر۔۔۔۔ان میں گانے ایڈ کر کے۔۔۔یوں دھڑا دھڑ پھیلا کر قہقے لگاتے ہیں۔۔۔کہ چہار جانب سے اقبال کی صدائیں سنائی دیتی ہیں۔۔۔
ہے دل کے لیے موت مشینوں کی حکومت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں