مذہبی انتہاپسندی کا سدباب ضروری، مگر کیسے؟ 122

مذہبی انتہاپسندی کا سدباب ضروری، مگر کیسے؟

انتہاپسندی کے معنی حد سے تجاوز کرنا یعنی حالات یا نظام کو بالکل بدل دینے کی کوشش کرنا۔ انتہاپسندی کا کسی معاشرے میں موجود ہونا اس معاشرے کی رسوائی وگِراوٹ کی نشانی ہے، کیونکہ اختلاف رائے ہر انسان کا حق ہے، تاہم اسے ناجائز سمت لے کرچلنا یا اپنی رائے کو دوسروں پر زبردستی مسلط کرنے کی کوشش کرنا اور اس سے معاشرے کو نقصان پہنچانا قابل قبول نہیں۔ اسلام نے اس رجحان کی حوصلہ شکنی کی ہے، اس کے باوجود انتہاپسندی سے کام لینا، اسلام کی قائم کردہ حدود کوتوڑنے اور پامال کرنے کے مترادف ہے۔انتہاپسندی کا سلسلہ حضرت آدم علیہ السلام کے دوبیٹوں کے قضیے سے شروع ہو ا اور وراب تک مختلف صورتوں میں،وقتاً فوقتاً کبھی انفرادی سطح  پر تو کبھی اجتماعی سطح  پر،کبھی کسی بات کی آڑ میں تو کبھی کسی اور بات کی آڑ میں، قوموں، ملکوں، معاشروں اورسوسائٹیز کے سامنے آتا رہا ہے۔
انتہاپسندی اور اس کے نتیجے میں انسانی رویوں کو تشدد کی طرف مائل کرنے والے مختلف اسباب ہوتے ہیں۔ اس کاایک بڑا سبب ناجائز قوانین بھی ہیں جس معاشرے میں منصف کا قلم انصاف کے تقاضوں کے بجائے دوسرے اسباب ومحر کات کی بنیاد پر چلنے لگے ،جہاں قانون کی حکمرانی کے نام پر مخصوص لوگوں  کے لیے قانون کی عمل داری کے پیمانے مختلف ہوں، جس معاشرے میں قانون امیر کے ہاتھ کی چھڑی،کلائی کی گھڑی اورگھر کی باندی بن جائے،جہاں انصاف بکنے لگ جائے،جہاں دلائل وشواہد کے بجائے بیرونی عوامل کی بنیاد پر فیصلے کیے جانے کا چلن عام ہو،ایسے معاشرے انتہاپسندی کی آماج گاہ بن جاتے ہیں۔معاشی تنگی اوربے روزگاری کی وجہ سے بھی معاشرہ تشدداور انتہاپسندی کی طرف مائل ہوجاتا ہے۔ تعلیم کی کمی بھی انتہاپسندی اور تشدد کے رجحانات کو بڑھانے اور فروغ دینے کا سبب بنتی ہے۔ مذہبی تعصب بھی انتہاپسندی کی ایک بڑی وجہ ہے، جہاں افراد، اپنے اثر ورسوخ کو استعمال کرکے ، اپنے مذہبی عقائد کو دوسروں پر تھوپنا اور ان کے عقائد ونظریات پر قدغن لگانا چاہتے ہیں ،چنانچہ  دوسرے عقائد کے ماننے والے بھی جواباً تشدد کا راستہ اپنانے پرمجبورہوجاتے ہیں۔معاشرتی فساد اور خوف کا احساس بھی انتہا پسندی کو بڑھاتا ہے، کیونکہ ایسی صورت میں لوگ تشدد کوہی اپنے مسائل کا حل تصور کرنے لگتے ہیں۔ اسی طرح ریاست کا غیر معتدل رویہ بھی انتہاپسندی سبب بنتا ہے۔
چونکہ مسلم معاشروں کو سب سے زیادہ مذہبی انتہاء پسندی کے مسائل کاسامناہے، اس لیے یہی ہمارا موضوع ہے۔ مذہبی انتہاپسندی عموماً اس وقت جنم لیتی ہے جب ایک مذہب وعقیدے کے ماننے والے اپنے مذہبی عقائداورمخصوص نقطہ نظر کو دوسروں پر لاگو کرنےکی کوشش کرتے، دوسرے مذاہب یا عقائد کے وجود کو برداشت نہیں کرتے، اس کے ماننے والوں کو نفرت و حقارت کے ساتھ دیکھتے اور اُن کو اپنا مخالف سمجھتے ہیں۔
اسلام میں انتہا پسندی کا پہلا اور سب سے بڑا واقعہ خلیفہ ثالث، امیر المؤمنین حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی مظلومانہ شہادت کی شکل میں رونما ہوا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ مسلمانوں  کے چوتھے خلیفہ ، بڑے دانش مند، اسلام کے جرنیل، بہادر اور صاحبِ مناقب کثیرہ ہیں، آپ کی محبت جزو ایمان ہے،تینوں خلافتوں میں ان کا بڑا مقام رہا۔ آپ کی ذات گرامی کو آڑ بناکر ایک یہودی عبداللہ بن سبا نے امت مسلمہ میں خانہ جنگی ا ور فتنہ و فساد برپا کیا کہ خلافت کے وصی حضرت علی رضی اللہ عنہ ہیں، حضرت عثمان ناحق خلیفہ بن بیٹھے ہیں۔عبداللہ بن سبا نے یہ ایسی من گھڑت بات ایجاد کی تھی، جس کا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور خلافت صدیقی و فاروقی و عثمانی میں کوئی ذکر نہیں تھا، مگر نام چونکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ جیسے عالی منقبت کا تھا، اس لیے کئی سادہ لوح لوگوں پر اس یہودی کا یہ جادو چل گیا۔ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شہادت کا اندوہناک واقعہ اسی فتنے کی بنا پر ہوا۔ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شہادت سے امت کا نظام ایسا منتشر ہوا جو آج تک قائم ہے، اس واقعے کے بعد اسلام میں فتنوں کا دروازہ کھل گیا اور یہ دروازہ اس طرح کھلا کہ پھر کبھی اس دروازے کو بند نہ کیا جا سکا۔ اس کی طرف مخبر صادق صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ فرمایا تھا، چنانچہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسلام کی چکی 35 یا 36 یا 37 ھ تک گردش میں رہے گی۔(واضح رہے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت 35ھ میں ہوئی ہے۔)
اسلام انتہا پسندی ،پر تشدد واقعات اورکسی شخص کو جبراً مسلمان بنانا حرام قراردیتاہے۔ اسلام نے اقلیتوں کے حقوق کو قرآن وحدیث میں واضح طور پر بیان کیا ہے۔ اسلام میں صراحت ہے کہ انسانوں کے حقوق کی پامالی اور غیر مسلمانوں کے ساتھ بھی بُرا سلوک کرنا کبیرہ گناہ ہے۔ اسلامی تعلیمات میں فرقہ واریت، جنسی تشدد، مذہبی انتہاپسندی، انسانی حقوق کی پامالی اور معصوموں کے خلاف زیادتی کی کسی قسم کی اجازت نہیں دی گئی۔
اسلام کا مطلب ہی سلامتی ہے، اللہ نے ہمیں اسلام جیسا حسین مذہب عطا فرمایاہے، جس میں ہر ایک کے حقوق وفرائض اور حدود وقیود کی وضاحت کردی گئی ہے۔لہٰذاہمیں چاہیے کہ ہم اسلام کے بنیادی عقائد کو جان کر، شریعت کے احکام اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک اسوہ حسنہ کو سامنے رکھتے ہوئے ان پر عمل کریں اور اس بات کو مد نظر رکھیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مخالفین کے ساتھ کتنے بہترین انداز سے سلوک کیا۔ ہمیں بھی اپنے عمل کو بہترین بنانا اوراپنے اندر برداشت کا مادہ پیدا کرنا ہوگا۔ اپنی تعلیم کے معیار کو ایسا بہتر بنانا ہوگا، جس سے شخصیت کی مثبت تعمیر ہوسکے۔ اگر ہم دوسرے کی رائے اور اس کے خیالات کا احترام کریں، اپنی رائے کو براہ راست دلائل کے ساتھ پیش کریں، نرمی کا مظاہرہ کریں، دوسروں کو بھی اس معاشرے کا آزاد شہری تصور کریں، ہر شخص کو حاصل شدہ حقوق کاپاس ولحاظ رکھیں، اپنے اپنے فرائض کی بجاآوری کریں، فرد اور ریاست کے حقوق وفرائض نیز حدودِکار کو سامنے رکھ کر ہر قدم اٹھائیں توانتہا پسندی کا خاتمہ ممکن ہے۔

تحریر مولانا ڈاکٹر محمد جہان یعقوب

لکھو کے ساتھ لکھو

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں