110

اچھے دوست، زندگی کا حقیقی اثاثہ/تحریر/محمد زکریا راجا، باغ آزاد کشمیر

حضرت انسان پر پروردگار لم یزل کے لامتناہی احسانات و انعامات میں سے ایک انعام رشتے بھی ہیں۔ انھی رشتوں میں سے ایک دوستی بھی ہے۔ تمام رشثے ہمیں اللہ کی طرف سے ملتے ہیں، ان میں ہمارے پاس اختیار نہیں ہوتا لیکن دوستی وہ واحد رشتہ ہے جس میں ہمارے پاس اختیار ہوتق ہے۔

دوست اگر اچھے مل جائیں تو زندگی کا لطف دوبالا ہو جاتا ہے اور حیات فانی سنور جاتی ہے، اور اگر دوست برے ہوں تو زندگی تباہی کے دہانے پر پہنچ جاتی ہے۔ حیات انسانی میں سچے دوست بڑی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔ وہ اس آئینہ کے مانند ہوتے ہیں جو صرف آپ کی اچھائیاں ہی نہیں بلکہ آپ کی برائیاں بھی آپ پر عیاں کرتے ہیں۔
مخلص دوست وہی ہوتے ہیں جوتنگی اور فراخی میں آپ کو تنہا نہیں چھوڑتے۔ دوستوں کا انسان کی سیرت و کردار پر بھی گہرا اثر ہوتا ہے۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
“آدمی اپنے دوست کے دین و عقیدے پر ہوتا ہے، لہذا تم میں سے کوئی کسی کو دوست بنائے تو دیکھ لے کہ کس سے دوستی کر رہا ہے؟”
سچے دوست آپ کی مسکراہٹ کے پیچھے چھپے کرب کو بڑی آسانی سے سمجھ جاتے ہیں اور اسے دور کرنے کا ہنر بھی رکھتے ہیں۔ ان کے ساتھ آپ صرف خوشی و مسرت والے لمحات ہی نہیں شئیر کرتے، بلکہ غموں اور سختیوں کا بھی تبادلہ کرتے ہیں۔ مخلص دوست آپ کے دل کے ویران کونوں میں آباد ہوتے ہیں۔ وہ آپ کی زندگی میں اتنی اہمیت حاصل کر چکے ہوتے ہیں کہ آپ کو حاصل ہونے والی خوشی جب تک ان کے ساتھ شیئر نہ کریں تو آپ اس خوشی کو خوشی ہی محسوس نہیں کرتے اور خود پر آنے والی مصیبت کا دکھ جب تک نہ سنائیں تو دل کو سکون ہی نہیں ملتا۔

سچے دوستوں کے ساتھ گزرے ہوئے لمحات زندگی کی میموری کے وہ البم ہوتے ہیں جن کی تصویروں کو دل و دماغ سے کبھی ڈیلیٹ نہیں کیا جا سکتا۔ سچے دوست بچھڑ جانے کے بعد بھی خوشبو کی طرح ہمیشہ آپ کی یادوں میں مہکتے رہتے ہیں۔ ہماری کوشش ہونی چاہیے کہ ہم ان لوگوں کو دوست اور ہم راز بنائیں جن کی زیارت سے آنکھیں ٹھنڈی ہوں، نہ یہ کہ وہ مستقل درد سر بنا رہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں