59

رمضان المبارک اور عید الفطر بطور انعام خداوندی/تحریر/بنت شفیق مصطفائی

اسلامی کیلنڈر میں رمضان المبارک ایک نہایت ہی بابرکت اور برساتے انعامات والا مہینہ ہے ۔اس بابرکت مہینے میں مسلمان روزے رکھتے ہیں روزے کو عربی زبان میں صوم کہتے ہیں اسی مناسبت سے رمضان المبارک کو ماہ صیام بھی کہا جاتا ہے ۔یہ اسلام کے پانچ ارکانوں میں سے ایک رکن ہے ۔

اسلامی کیلنڈر میں رمضان المبارک ایک نہایت ہی بابرکت اور برساتے انعامات والا مہینہ ہے ۔
اس بابرکت مہینے میں مسلمان روزے رکھتے ہیں روزے کو عربی زبان میں صوم کہتے ہیں اسی مناسبت سے رمضان المبارک کو ماہ صیام بھی کہا جاتا ہے ۔
یہ اسلام کے پانچ ارکانوں میں سے ایک رکن ہے ۔

روزے میں مسلمان صبح صادق سے غروب افتاب تک کھانے اور پینے ،جب کہ میاں بیوی اپس میں جنسی تعلق سے باز رہتے ہیں ۔

روزہ رکھنے کے لیے صبح صادق سے قبل کھانا کھایا جاتا ہے جسے سحری کہتے ہیں ۔جب کے غروب افتاب کے وقت اذان مغرب کے ساتھ روزہ کھول لیا جاتا ہے جسے افطار کرنا کہتے ہیں ۔

رمضان المبارک کے روزے دو ہجری میں فرض کیے گئے اور نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے اپنی زندگی میں نو برس رمضان المبارک کے روزے رکھے۔
امام نووی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے نو سال رمضان المبارک کے روزے رکھے ،اس لیے کہ ہجرت کے دوسرے سال شعبان میں رمضان المبارک کے روزے فرض ہوئے تھے اور نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم 11 ہجری ربیع الاول کے مہینے میں دنیا فانی سے کوچ کر گئے تھے ۔

قران پاک میں روزے کی اہلیت کو اجاگر کرتے ہوئے اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا “اے ایمان والو تم پر روزے فرض کیے گئے جس طرح تم سے پہلی قوموں پر فرض کیے گئے تاکہ تم پرہیزگار بنو ۔
اس ایت مبارکہ سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ روزہ ہمیں پرہیزگار بناتا ہے اور تقوے کا نور حاصل ہوتا ہے ۔

حضرت سلیمان فارسی سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا شعبان سے قبل ایک ایسا مہینہ انے والا ہے کہ جس میں جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں شیاطین جکڑ دیے جاتے ہیں نفل کا ثواب فرض کے برابر ہوتا ہے اور فرض کا ثواب 60 گنا ہوتا ہے اور دنیا کی ہر چیز روزہ دار کے لیے دعائے مغفرت کرتی ہے یہاں تک کہ جس برتن میں سحر و افطار کی جائے وہ برتن بھی روزے دار کے لیے دعائے مغفرت کرتا ہے جس بستر پر سویا جائے وہ بستر بھی دعائے مغفرت کرتا ہے اور جو لباس پہنا جائے وہ لباس بھی دعائے مغفرت کرتا ہے ۔

رمضان المبارک میں جو نوافل ادا کیے جاتے ہیں ان میں ایک عبادت صلوۃ تسبیح ہے صلاۃ تسبیح ایک نفلی عبادت ہے ۔

ایک واقعے سے اخذ کیا گیا ہے کہ ایک بار حضور اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ممبر پر تشریف فرما تھے اپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ممبر پر تشریف فرما ہوتے جاتے اور امین کہتے جاتے صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہ نے حضور اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے اس کی وجہ پوچھی تو حضور اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابھی ابھی جبرائیل علیہ السلام میرے پاس تشریف فرما تھے اور کہہ رہے تھے کہ بدبخت ہے وہ انسان جو ماہ رمضان کو پائے اس کے روزے بھی رکھے مگر خدا کو راضی نہ کر سکے ۔

کہا جاتا ہے کہ اگر رمضان میں بھی انسان خود کو بہتر نہ کر سکے تو اس کا نفس اس پر بھاری ہوتا ہے کیونکہ بعض اوقات انسان کہتا ہے کہ ہمیں شیطان نے ورگلایا تھا مگر ماہ رمضان المبارک کو یہ خاصیت حاصل ہے کہ اس مقدس مہینے میں اللہ رب العزت شیطان کو جکڑ لیتا ہے ۔

بہتر ہے کہ رمضان المبارک میں کم سویا جائے کم کھانا کھایا جائے اور کم بولا جائے ۔

بعض لوگ ایسے ہیں جن کے روزہ نہ رکھنے پر انہیں کوئی گناہ نہیں ہوتا ۔حاملہ عورت ,دودھ پلانے والی ماں ،بہت ہی شدید بیمار ،بہت ہی زیادہ بوڑھا ،اور طویل مسافت کرنے والا شخص وغیرہ وغیرہ

کہا جاتا ہے کہ اگر انسان کو رمضان المبارک کا صحیح سے علم ہو تو انسان سارا سال رمضان المبارک کے لیے دعا کریں ۔

روزے داروں کے لیے اللہ رب العزت نے فرمایا روزہ میرے لیے ہے اور بے شک میں ہی اس کا اجر دوں گا ۔

رمضان المبارک کی اتنی فضیلت ہے کہ کہا جاتا ہے کہ رمضان المبارک میں اگر کوئی عورت گھر میں جاڑو دیتے ہوئے اللہ تعالی کو یاد کر لے تو اس عورت کی مثال اس طرح ہے کہ وہ بیت اللہ میں جھاڑو لگا رہی ہے ۔
رمضان المبارک کے مہینے میں جمعہ پڑھنا جہنم سے بچاتا ہے ۔فرمان ہے کہ صبح سے شام اور شام سے صبح تک کوئی ایسی مخلوق نہیں ہوتی جو تمہارے لیے دعائے مغفرت نہ کرے ۔

کہا جاتا ہے کہ جب جمعہ کا خطبہ ہوتا ہے تو خطبہ سننے والوں کی دعا قبول ہوتی ہے یہ فضیلت ماہ صیام کے جمعہ کی ہے ۔

جس طرح ہم میدان جنگ میں ڈھال اگے کر دیتے ہیں اور تیر ڈھال سے ٹکرا کر نیچے گر جاتے ہیں ہمیں کوئی نقصان نہیں پہنچاتے اسی طرح روزہ بھی جہنم سے بچانے کے لیے ڈھال ہے روزے دار کے اوپر اللہ تعالی کی خاص برکات ہوتی ہیں ۔

روزہ اسلامی ارکان میں سے ۔چوتھا رکن ہے یہ نہ صرف جسمانی صحت کو برقرار رکھتا ہے بلکہ اسے بڑھاتا ہے روزہ دل کی پاکیزگی کا باعث بنتا ہے روح کی صفائی ہوتی ہے ۔

روزہ امیر غریب مسکین یتیم ساری قوم میں مساوات کے اصول کو تقویت دیتا ہے ۔روزہ جسم کو مشکلات کا عادی اور سختیاں جیلنے کا عادی بناتا ہے ۔روزے سے ہمیں غریب لوگوں کا احساس ہوتا ہے ان کی بھوک پیاس کا بھی احساس ہوتا ہے ۔روزہ ہمیں صبر سکھاتا ہے ۔

نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا ارشاد ہے میری امت کو ماہ رمضان میں پانچ باتیں دی گئیں جو کہ مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہ ملی ۔
وہ باتیں درج ذیل ہیں ۔
اول یہ کہ جب رمضان المبارک کی پہلی رات ہوتی ہے اللہ رب العزت مسلمانوں کی طرف نظر فرماتا ہے اور جس کی طرف نظر رحمت فرمائے گا اس سے کبھی بھی عذاب نہ کرے گا ۔
دوسری یہ کہ شام کے وقت ان کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک مشک سے زیادہ اچھی ہے ۔
تیسری یہ کہ ہر دن اور رات میں فرشتے ان کے لیے استغفار کرتے ہیں ۔
چوتھی یہ کہ اللہ عزوجل جنت کو حکم فرماتا ہے کہتا ہے مستعد ہو جا اور میرے بندوں کے لیے مزین ہو جا قریب ہے کہ دنیا کی مشقت سے یہاں ا کر ارام کرے ۔

اللہ تعالی رمضان المبارک میں ہر روز 10 لاکھ افراد کو جہنم سے ازاد فرماتا ہے اور جب رمضان المبارک کی 29ویں رات ہوتی ہے تو مہینے بھر میں جتنے ازاد کیے ان کے مجموعہ کے برابر اس ایک رات میں ازاد کرتا ہے پھر جب عید الفطر کی رات اتی ہے ملائکہ خوشی کرتے ہیں اور اللہ عزوجل اپنے نور کی خاص تجلی فرماتا ہے اور فرشتوں سے فرماتا ہے اے گروہ ملائکہ اس مزدور کا کیا بدلہ ہے جس نے کام پورا کر لیا ؟فرشتے عرض کرتے ہیں “اس کو پورا اجر دیا جائے “اللہ عزوجل فرماتا ہے میں تمہیں گواہ کرتا ہوں کہ میں نے ان سب کو بخش دیا ۔۔

عید الفطر کا دن اللہ تعالی کی طرف سے انعام کا دن ہے اور عام معافی کا دن ہے ،مسلمانوں کے لیے اج کا دن خوشی کا تہوار ہے اور اللہ کریم اپنے بندوں سے راضی ہو جاتا ہے اور یوم عید ماہ صیام کی تکمیل پر اللہ تعالی کی طرف سے انعامات پانے کا دن ہے تو اس سے زیادہ خوشی و مسرت کا موقع اور کیا ہو سکتا ہے ؟

یہی وجہ ہے کہ امت مسلمہ میں اس دن کو ایک خاص مقام اور اہمیت حاصل ہے “عید کا لفظ “عود” سے مشتق ہے ،جس کے معنی “لوٹنا” کے ہیں ،یعنی عید ہر سال
لوٹتی ہے اور اس کے لوٹ انے کی خواہش کی جاتی ہے ۔اور “فطر “کے معنی “روزہ توڑنے یا ختم کرنے “کے ہیں ۔چونکہ عید الفطر روز ،روزوں کا سلسلہ ختم ہوتا ہے اور اس روز اللہ تعالی بندوں کو عبادت رمضان کا ثواب عطا فرماتے ہیں تو اسی مناسبت سے اسے “عید الفطر “کہتے ہیں۔

حضرت انس سے روایت ہے کہ اہل مدینہ دو دن بطور تہوار مناتے اور ان میں کھیل تماشے کیا کرتے تھے ۔رسول اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ان سے دریافت فرمایا “یہ دو دن ،جو تم مناتے ہو ،ان کی حقیقت اور حیثیت کیا ہے ؟”تو انہوں نے کہا “ہم عہد جہالیت میں (یعنی اسلام سے پہلے )یہ تہوار اسی طرح منایا کرتے تھے ۔”یہ سن کر نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا “اللہ تعالی نے تمہارے ان دونوں تہواروں کے بدلے میں ان سے بہتر دو دن مقرر فرما دیے ہیں ۔یوم عید الفطر اور یوم عید الاضحی ۔(ابو داؤد)نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عیدین کے موقع پر شرعی حدود میں رہتے ہوئے خوشیاں منانے کی اجازت دینے کے ساتھ ،دوسروں کو بھی ان خوشیوں میں شامل کرنے کی ترغیب دی،

نیز ان موقعوں پر عبادات کی بھی تائید فرمائی کہ بندہ مومن کسی بھی حال میں اپنے رب کو نہیں بھولتا۔

احادیث مبارکہ میں شب عید اور یوم عید کی بہت فضیلت بیان فرمائی گئی ہے ۔حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا “جب عید الفطر کی رات ہوتی ہے ،تو اسے اسمانوں پر “لیلۃ الجائزہ “یعنی “انعام کی رات “کہ عنوان سے پکارا جاتا ہے اور جب صبح عید طلوع ہوتی ہے ،تو اللہ رب العزت فرشتوں کو تمام بستیوں میں بھیجتا ہے اور وہ راستوں کے کونوں پر کھڑے ہو جاتے ہیں اور ایسی اواز سے ،جسے جنات اور انسانوں کے سوا ہر مخلوق سنتی ہے ،پکارتے ہیں کہ “اے امت محمدیہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم اس رب کریم کی بارگاہ کرم میں چلو ،جو بہت زیادہ عطا فرمانے والا ہے ۔جو لوگ عید گاہ کی طرف نکلتے ہیں ،تو اللہ رب العزت فرشتوں سے فرماتا ہے “اس مزدور کا کیا بدلہ ہے ،جو اپنا کام پورا کر چکا ہو؟
فرشتے عرض کرتے ہیں “اے ہمارے معبود!اس کا بدلہ یہی ہے کہ اس کی مزدوری اور اجرت پوری پوری ادا کر دی جائے ۔”تو اللہ تعالی فرماتا ہے “اے فرشتو !میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے انہیں رمضان کے روزے اور تراویح کے بدلے میں اپنی رضا اور مغفرت عطا فرما دی “”اور پھر بندوں سے ارشاد ہوتا ہے کہ “اے میرے بندو !مجھ سے مانگو ،میری عزت و جلال اور بلندی کی قسم !اج کے دن اخرت کے بارے میں جو سوال کرو گے ،عطا کروں گا ۔دنیا کے بارے میں جو سوال کرو گے ،اس میں تمہاری مصلحت پر نظر کروں گا ۔میرے عزو جلال کی قسم !میں تمہیں مجرموں اور کافروں کے سامنے رسوا نہ کروں گا ۔۔میں تم سے راضی ہو گیا۔

بلا شبہ وہ لوگ نہایت خوش قسمت ہے کہ جنہوں نے ماہ صیام پایا اور اپنے اوقات کو عبادات سے منور رکھا ۔پورا رمضان اللہ کی بارگاہ میں مغفرت کے لیے دامن پھیلائے رکھا۔

یہ عید ایسے ہی خوش بخت افراد کے لیے ہے اور اب انہی مزدوروں کو مزدوری ملنے کا وقت ہے ۔تاہم ،صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہ اور بزرگان دین اپنی عبادات پر اترانے کی بجائے اللہ تعالی سے قبولیت کی دعائیں کیا کرتے تھے۔

حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے عید کی مبارک باد دینے کے لیے انے والوں سے فرمایا “عید تو ان کی ہے جو عذاب اخرت اور مرنے کے بعد کی سزا سے نجات پا چکے ہیں “۔

کتنی ہی افسوس کی بات ہے کہ ہمارے ہاں “چاند رات”ایک شر ہے لحاظ سے پابندیوں سے فرار کی حیثیت حاصل ہو گئی ہے ،حالانکہ چاند رات کو حدیث شریف میں” لیلۃ الجائز “یعنی “انعام والی رات” کہا گیا ہے۔

چاند رات کو گناہوں کے بخش جانے کی حیثیت سے چاند رات کو بہت اہمیت حاصل ہے۔

ایک ہم انسان ہیں کہ چاند رات کو گلیوں اور بازاروں میں اور پارکوں میں گزارا کرتے ہیں۔

اس کے متعلق ایک حدیث مبارکہ میں اس رات میں عبادات کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔
حضرت ابو امامہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا “جو شخص عید الفطر اور عید الاضحی کی راتوں میں عبادات کی نیت سے قیام کرتا ہے “تو اس شخص کا دل تب بھی فوت نہ ہوگا جس دن تمام دل فوت ہو جائیں گے “۔

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا “جو شخص پانچ راتیں عبادت کرے ،اس کے لیے جنت واجب ہو جاتی ہے ۔وہ راتیں یہ ہیں ۔ذوالحجہ کی اٹھ نو دسویں رات ،شب برات ،اور عید الفطر کی رات۔

لہذا ہمیں چاہیے کہ اس رات میں بے مقصد گھومنے کی بجائے نوافل ،نماز تہجد ،تلاوت قران پاک اور دیگر عبادات میں مشغول رہے ہیں تاکہ اس کی برکات حاصل ہوتی رہیں۔
ہمیں چاہیے کہ رمضان المبارک میں ہی اپنا فطرانہ ادا کر دے تاکہ غریب لوگ بھی عید کی تیاری کر سکیں یہ طریقہ بالکل درست بھی نہیں ہے کہ ہم عید کی نماز پڑھنے جائیں اور اپنا فطرانہ ساتھ لے جائے کہ واپسی پر غریبوں میں تقسیم کر دیں گے ہمیں فطرانہ ادا کرنے میں جلدی ہی کرنی چاہیے تاکہ غریب لوگ بھی اپنی عید کی تیاریاں کر سکیں۔
اور عید الفطر کے موقع پر اپنے گھر والوں رشتہ داروں اور مفلس لوگوں کے ساتھ دسترخوان سجائیں ۔اور اس موقع پر اپنے سے کمتر لوگوں کو بھی یاد رکھیں۔
اللہ تعالی سے دعا ہے کہ اللہ پاک ہم سب کو عمل کی توفیق عطا فرمائے ۔

آمین ثم آمین یارب العالمین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں