لفظ استاد فارسی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں سکھانے والا ،معلم ،آزمودہ کار ،رہنما وغیرہ ۔انگریزی زبان میں اس لفظ کے لیے ٹیچر کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔استاد ایک ایسا چراغ ہے جو اپنے علم کی روشنی سے معاشرے سے جہالت کے اندھیرے کو ختم کرتا ہے ۔استاد ایک ایسا پھول ہے جس کی خوشبو سے معاشرہ معطر ہو جاتا ہے۔ استاد ایک ایسا شجر سایہ دار ہے جو موسم کی شدت کو ،دنیا کی رنگینیوں کو ،اپنے مسائل کو ہمیشہ نظر انداز کر کے ہمیشہ مسکرا کر اپنے شاگردوں پر محنت کرتا ہے تاکہ وہ کامیاب انسان بنیں ۔بچوں کی قسمت لکھنے والا استاد ہی ہوتا ہے جو انہیں علم کے ذریعے ان کی صلاحیتوں کو نکھار کر وقت کا بادشاہ بنا دیتا ہے۔ استاد قوم کا محسن اور معمار ہے قوم کی تعمیر میں استاد کا بنیادی کردار ہے ۔استاد اور شاگرد کا تعلق علم کی بنیاد پر ہوتا ہے ۔استاد ایک دریا ہے جس میں علم کا پانی موجیں مارتا ہے اور شاگرد اس دریا میں غوطے لگا کر اس کی گہرائی سے موتی اور ہیرے جواہرات نکال کر اپنے دامن میں بھرتا ہے ۔استاد کی وجہ سے ایک باشعور اور تعلیم یافتہ معاشرہ وجود میں آتا ہے۔ استاد اور شاگرد تعلیمی نظام کے دو نہایت اہم عنصر ہیں ۔
معلم کی ذمہ داری
معلم کی ذمہ داری صرف سکھانا ہی نہیں بلکہ تربیت دینا بھی ہے اللہ تعالی اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جو کائنات کے معلم اعظم ہیں کے بارے میں فرماتے ہیں
یعلمھم الکتاب والحکمتہ ویزکیھم اور وہ نبی لوگوں کو کتاب و حکمت (سنت)کی تعلیم دیتے ہیں اور ان کا تزکیہ و تربیت کرتے ہیں اس وجہ سے اس اہم فریضے کی اہمیت و عظمت مزید بڑھ جاتی ہے جس سے استاد اور شاگرد دونوں کی ذمہ داریوں کو پورا کرنا ان کے ذمہ فرائض میں شامل ہے۔ درس و تدریس انبیا ء کی وراثت ہے جو کہ استاد اپنے شاگردوں میں تقسیم کرتا ہے اس لیے استاد کا مقام مزید بڑھ جاتا ہے۔
رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کا مفہوم ہے بے شک میں معلم بنا کر بھیجا گیا ہوں قران کی روشنی میں بار بار علم والوں اور جاہلوں کا آپس میں فرق بیان کیا گیا ہے ۔
ایک جگہ ارشاد ہوتا ہے کیا جاننے والے عالم اور نہ جاننے والے جاہل برابر ہو سکتے ہیں۔
حدیث شریف میں آتا ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ علم سیکھو اور علم کے لیے سکینت اور وقار اختیار کرو اور جس سے علم سیکھتے ہو اس کے ساتھ ادب و تواضع سے پیش آ ئو۔۔۔!
اس حدیث شریف میں علم حاصل کرنے کی ترغیب کے ساتھ ساتھ استاد کے ادب و احترام اور تواضع انکساری سے پیش آنے کا حکم دیا گیا ہے ۔استاد کا ادب و احترام شاگرد پر لازم ہے بغیر ادب کے وہ اپنے استاد سے فیض یاب نہیں ہو سکتا۔ استاد کے ادب کی وجہ سے علم کی راہیں آسان ہو جاتی ہیں ۔
اکابرینِ امت اپنے اساتذہ کا انتہائی احترام کرتے تھے ۔
امام اعظم ابو حنیفہ اپنے استاد حضرت حماد کا بہت زیادہ ادب کرتے تھے حتی کہ اپنے بیٹے کا نام بھی اپنے استاد کے نام پر رکھا۔
امام شافعی رحمہ اللہ ادب کی وجہ سے کتاب کا ورق بھی آہستگی سے پلٹتے تھے کہ مبادا ان کو تکلیف ہو۔
امام احمد بن حنبل ایک بار ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے دوران گفتگو ان کے استاد ابراہیم بن طعمان کا ذکر آیا ان کا نام سنتے ہی فورا سیدھے ہو کر بیٹھ گئے ۔
صحابہ کرام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایسے بیٹھتے گویا ان کے سروں پر پرندے بیٹھے ہوئے ہیں ۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جس نے مجھے ایک لفظ سکھایا وہ میرا استاد ہے اور میں اس کا غلام ہوں چاہے تو مجھ کو آزاد کر دے ۔چاہے رکھ لے ۔۔۔
استاد بمنزلہ والدین کے ہے ۔ والدین جسمانی نشوونما کا ذریعہ ہیں جبکہ استاد روحانی تربیت کا سبب ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انما انا لکم بمنزلة الوالد اعلمکم میں تمہارے لیے بمنزلہ والد ہوں تمہیں تعلیم دیتا ہوں۔
چنانچہ شاگرد کو چاہیے روحانی والدین کی تعظیم و تکریم کرے استاد کے سامنے ادب و شائستگی سے بیٹھے ان کے سامنے اپنی آواز بلند نہ کرے ۔طالب علم کو تکبر اور بڑائی سے دور رہنا چاہیے اور اپنے اندر عجز و انکساری پیدا کرنی چاہیے اگر سبق سمجھ نہ آئے تو طالب علم استاد سے پوچھ لے ۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انما شفا ء العی السوال (علم کی)محتاجی کا علاج سوال کرنے میں ہے ۔
شاگرد کو چاہیے کہ استاد کی برائی سے اجتناب کرے اس کے عیبوں کی پردہ پوشی کرے اور خوبیوں کو اجاگر کرے اگر استاد کی شان میں کوئی گستاخی ہو جائے تو فوراً انتہائی عاجزی سے معافی مانگے ۔
علم بغیر ادب کے نہیں آتا ۔با ادب با نصیب، بے ادب بے نصیب ۔
اللہ تعالی سب کو اساتذہ کا ادب کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین
قسم ہے شان وحدت کی تجھے آباد کر دے گا
ادب استاد کا ایک دن تجھے شاد کر دے گا
47