میں آغا خان ہوسپٹل میں اپنی کیموتھراپی کے لئے گئی ہوئ تھی۔
میں ادھر اُدھر نظریں گھما کر لوگوں کی آمدورفت دیکھ رہی تھی کہ اچانک ایک دبلی پتلی سانولی سی تیرہ چودہ سالہ لڑکی ایک خاتون کے ساتھ میرے سامنے سوفے پر آکر براجمان ہوگئی۔ میں نے اس پر سرسری سی نظر ڈالی اور اپنے موبائل فون پہ مصروف ہوگئی۔ کچھ دیر بعد میں نے نظر اٹھا کر دیکھا لوگ آرہے تھے اپنے مریضوں کو لیکر، ایک دم میری نظر اسی نازک سی لڑکی پہ پڑی تو وہ مجھے ہی دیکھ رہی تھی۔ جیسے ہی ہماری نظر ملی وہ دوسری طرف دیکھنے لگی۔ ایسا کئی بار ہوا۔ کچھ دیر بعد میں اپنی کیموتھراپی کے لئے وہاں سے چلی گئی۔ میرے ذہن سے اس نازک لڑکی کا خیال نکل چکا تھا میں اپنے کمرے میں چلی گئی تھی کیونکہ اب مجھے خود ایک تکلیف دہ عمل سے گزرنا تھا۔ اللہ اللّٰہ کرکے میرا ٹریٹمنٹ ختم ہوا تو میں تکلیف سے نڈھال اپنے کمرے سے نکلی اور آہستہ آہستہ چلتی ہوئی باہر کی جانب بڑھنے لگی۔ میں ڈے کیئر سینٹر (Day care center) سے گزری تو اچانک میری نظر اسی نازک لڑکی پہ پڑی،میں نے دیکھا کہ اسکا بلڈ ٹرانسفیوژن ہورہا ہے اور دوسرے ہاتھ پر بھی مختلف ڈرپس لگی ہوئی تھیں۔ میرا دل ایک دم جیسے رک گیا میں نے اس کی طرف مسکرا کر ہاتھ ہلایا تو وہ بھی مسکرا دی۔ اس کی اتنی پیاری مسکراہٹ تھی کہ میرے قدم بے ساختہ اس کی جانب بڑھ گئے۔ اس کی والدہ غالباً کسی کام سے گئی ہوئ تھیں۔وہ اکیلی لیٹی ہوئی تھی۔میں نے پیار سے اس کے سر پہ ہاتھ پھیرا اور اس کا نام پوچھا۔ اس نے ہلکی سی آواز میں مسکرا کر کہا “سمپل” ، میں نے کہا تمہارا نام بھی تمہاری طرح سمپل ہے! اس کا تعلق ہندو گھرانے سے تھا۔ میں اپنی تکلیف بھول گئی تھی اس کو دیکھ کر، وہ کس اذیت و تکلیف سے ہر ہفتے گزرتی ہے اس کا اندازہ وہ لوگ تو بلکل نہیں لگا سکتے جو کینسر کو بس ایک سرسری بیماری ہی سمجھتے ہیں، خدا نہ کرے کہ اللہ کو سمجھانے کے لئے ، احساس دلانے کے لئے ان لوگوں کو بھی اس بیماری سے گزرنا پڑے۔
خیر مجھے سمجھ نہیں آرہا تھا میں اس پیاری بچی کو کیا کہوں، میں نے اس کو دعا دی اور کہا کہ بس ہمت نہ ہارنا پیاری بیٹی، تمہیں ہر حال میں اپنی طاقت اور ہمت سے اس بیماری کو ہرانا ہے۔ پھر یک دم میں نے اپنے گلے سے ہار (necklace) اتارہ گو کہ وہ مجھے بہت پسند تھا،اور اس کے گلے میں پہنانے لگی، وہ نقاہت بھری آواز میں کہنے لگی،” ارے نہیں یہ کیوں کرہی ہیں آپ؟” میں نے اس کے ماتھے پہ پیار کرتے ہوۓ کہا “یہ میری طرف سے تمہارے لئے گفٹ ہے،منع نہیں کرنا!” اور وہ مجھ سے لپٹ گئی،اس کا چہرہ خوشی سے دمکنے لگا،شاید وہ توقع نہیں کر رہی تھی کہ بحیثیت ہندو بچی کے میرا رویہ اس کے ساتھ ایسا ہوگا!میری آنکھ بھی بھر آئ اور میں نے دل میں اللّٰہ کو بہت شدت سے پکارا کہ یا اللّٰہ اس بچی کو جلد مکمل صحتیاب کردینا اور اس کو ایمان کی نعمت سے سرفراز کرنا۔۔۔
پھر میں بوجھل قدموں سے اس کو مسکراتا چھوڑ کر باہر نکل گئی۔
آہ سچ ہے کہ صحت سے بڑھ کر کوئی نعمت نہیں!کسی نے صحیح کہا ہے کہ
اللہ تعالی سے معافی اور صحت کا سوال کرتے رہا کرو۔ کیونکہ ایمان کی نعمت نصیب ہو جانے کے بعد تندرستی سے بہتر کوئی نعمت نہیں ۔ اللہ تعالیٰ ہر بیمار کو شفاء عطا کرے . آمین یارب العالمین
67