47

سوچ کا سفر/مجھے یقین ہے کہ میرا صبر ایک دن معجزوں کے دروازے ضرور کھولے گا/تحریر/یسریٰ شیخ/اسلام آباد

زندگی ایک ایسا تھکا دینے والا سفر ہے جس کو جتنا نصیب میں ہے انسان کو گزارنا ہے۔ اس سفر کے دوران انسان دھوپ بھی دیکھتا ہے اور چھاؤں بھی ۔ مشکلات بھی برداشت کرتا ہے اور خوشیوں کو خوش آمدید بھی کہتا ہے۔ اس دنیا کا دستور ہے جو گرتا ہے اس کو اٹھاتے نہیں آتے جاتے ایک ایک دفع پھر دھکا دیتے ہیں کہ کہیں آٹھ نہ جائے دوبارہ۔، کہیں آٹھ کر ہمارے مقابلے پر نا آجائے، دکھ میں تو سایہ بھی ساتھ چھوڑ جاتا ہے تو دوست اور اپنے رشتوں سے انسان بھلا کیا شکوا کرے۔ لیکن جناب دل کا کیا کریں جو دکھتا ہے۔ برداشت نہیں کر پاتا جیسے تکلیف ہوتی ہے اپنوں کے برے روئیوں، طنز آمیز باتوں سے۔ لیکن یہ بات ہر کوئی سمجھنے سے کاسِر ہے۔ دل میں یہ سب باتوں کا غبار ایک ناثور کی طرح انسان کو کہیں کا نہیں چھوڑتا۔وہ ہار جاتا ہے مکمل طور پر ٹوٹ جاتا ہے۔ اس کی حالت ایک ایسے راستہ بھولِ پرندے کی جیسی ہو جاتی ہے جیسے رات کے اندھیرے میں کچھ سمجھ نہیں آتا کہ وہ کہاں جائے۔ ایسے مشکل وقت میں جب انسان بلکل اکیلا ہو جاتا ہے۔اس کو کچھ سمجھ نہیں آتی وہ کیا کرے، کہاں جائے۔ تب اس ٹوٹے پھوٹے انسان کو اللہ دلاسہ دیتا ہے۔وہ تو بہت بے نیاز ہے۔ رحمن ہے۔ وہ ہمارے زخموں پر ایسی مرحم لگاتا ہے کہ ہم دکھوں سے نڈھال جی اٹھتے ہے۔ اللہ فرماتا ہے ” ہر مشکل کہ بعد آسانی” اور ہم بے خبر اور جلد باز لوگ اس حقیقت سے ۔ اللہ فرماتا ہے اے میرے بندے تو گمان کر میں تجھے عطا کروں گا۔ لیکن جلد باز انسان کو کیا پتہ گمان کرنا کیسے ہے ۔ ہمارے ارادوں میں پختگی نہیں تو گمان کا تو لیول ہی الگ ہے۔ میری سمجھ کے مطابق یہ ایک لفظ انسان کو شعور سے لا شعوری کے عالم میں لے جاتا ہے۔ جس پر گمان کی حقیقت واضح ہو جائے تو گویا اس نے زندگی کا فلسفہ سمجھ لیا۔ ہماری زندگی سے جوڑے کسی کام میں تحمل مزاجی نہیں ہم ہر کام کو جلدی کرنا چاہتے ہیں۔ چاہے وہ ٹھیک ہو یا نہ ہو ۔بس ہم چاہتے ہیں کہ بلا سر سے اتر جائے یہی ہماری اولین غلطی ہے جسے ہم ہر روز جانتے بھجتے ہوئے کئی بار دھراتے ہیں۔ کہ ہم لوگوں پر بھروسہ کرتے ہیں ان سے مدد کی امید کرتے ہیں ۔اللہ کو بھولے بیٹھے ہیں جو بھرسے کے لائق ہے جو کبھی کسی کی امید نہیں توڑتا۔ اور سب کچھ دے کر جتاتا بھی نہیں بلکہ اپنی رحمت کے سایہ میں سمیٹ لیتا ہے۔ ہم تو اتنے کمزور ہیں . سورہ ابقرا میں اللہ فرماتا ہے” کہہ دو میرے ان بندوں سے جو ہار گئے ہیں میں کسی بھی جان کو اس کی طاقت سے زیادہ نہیں آزماتا۔” ہمارا رب تو ہمیں آزماتا بھی ہماری قوت کے مطابق اور ہم اپنے آپ کو لوگوں کے حوالے کر دیتے ہیں اور پھر دکھتے بھی ہیں ان کے ہتک آمیز رویوں پر۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں