حفیظ چودھری 0

سب سے پہلے پاکستان/تحریر/حفیظ چودھری

پاکستانی قوم دنیا بھر میں ذہانت، صلاحیت اور فہم و فراست کے حوالے سے جانی جاتی ہے۔ تعلیم، طب، سائنس، ٹیکنالوجی اور دیگر شعبوں میں پاکستانیوں کی کامیابیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ قوم کسی سے کم نہیں۔ قوم بخوبی جانتی ہے کہ “سب سے پہلے پاکستان کا نعرہ” سابق صدر جنرل پرویز مشرف نے متعارف کروایا تھا۔ اگرچہ یہ الگ بحث ہے کہ ان کے دورِ حکومت میں اس نعرے پر کس حد تک عمل ہوا، مگر یہ نعرہ عوامی ذہن میں ضرور نقش ہوا۔
اس نعرے کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان، اس کی سلامتی، خودمختاری اور عوامی مفادات سب سے اہم ہیں، اور ان پر کوئی سمجھوتا قابلِ قبول نہیں۔ بدقسمتی سے بعض جوشیلے نوجوان اس نعرے کی مخالفت کرتے ہیں، شاید وہ اس کے مفہوم سے مکمل آگاہ نہیں۔ اس نعرے کا تعلق کسی مذہب دشمنی یا دینی پہلو سے نہیں، بلکہ ریاست کو ترجیح دینے کی سوچ سے ہے۔
تاہم عملی صورتِ حال اس کے برعکس رہی ہے۔ مختلف ادوار میں کئی حکمرانوں نے اقتدار کو طول دینے کے لیے بیرونی قوتوں کو ملکی معاملات میں دخل اندازی کا موقع دیا۔ ان فیصلوں نے پاکستان کو بین الاقوامی اور علاقائی طاقتوں کے مفادات کا مرکز بنا دیا ہے۔
اگر ہم واقعی “سب سے پہلے پاکستان” کے نعرے پر یقین رکھتے ہیں تو پھر ریاستی فیصلوں میں عوامی بھلائی، ملکی خودمختاری اور اصولوں کی پاسداری کو مقدم رکھنا ہوگا۔ نعرے صرف زبان سے نہیں، عمل سے معتبر بنتے ہیں۔
یاد رکھیں! قومیں نعروں سے نہیں نظریات سے بنتی ہیں، اور نظریہ تبھی زندہ رہتا ہے جب اس پر ایمان لانے والے ہر لمحہ اس کی روح کو اپنے کردار، فیصلوں اور طرزِ فکر میں جگہ دیں۔ وطن سے محبت کوئی وقتی یا جذباتی کیفیت نہیں، بلکہ یہ ایک شعوری فیصلہ ہے۔ ایک ایسا عہد جو انسان کو اس کی ذات، مسلک، جماعت، رنگ، زبان، علاقہ اور مفاد سے بلند کر کے ایک اجتماعی خواب سے جوڑتا ہے۔ پاکستان کا قیام بھی ایک ایسے ہی خواب کی تعبیر تھا۔ جہاں مسلمان اپنے دین، ثقافت، تشخص اور نظریاتی آزادی کے ساتھ جی سکیں۔ لیکن اس آزاد ملک کی حقیقت صرف مسلمانوں تک محدود نہیں، اس کی فضاؤں میں وہ گیت بھی گونجتے ہیں جو ہندو، عیسائی، سکھ، پارسی، اور دیگر اقلیتوں نے پاکستان کے ساتھ وفا کرتے ہوئے گائے۔ یہ ملک ہم سب کا ہے۔ وہ سب جو اس کی سرزمین پر بستے ہیں، اس کی ہواؤں میں سانس لیتے ہیں، اس کی مٹی سے جُڑے ہیں، اور جن کے دل میں ایک ہی صدا ہے: سب سے پہلے پاکستان۔
یومِ آزادی کا موقع 14 اگست تاریخ میں ہر سال آتا ہے، اور ہمیں ہر برس یہ موقع دیتا ہے کہ ہم خود سے سوال کریں: کیا ہم نے اس ملک و نعمت کی قدر کی؟ کیا ہمارے سیاسی رہنما، مذہبی قائدین، سماجی دانشور، تعلیمی ماہرین، اور عام شہریوں نے وطن کو اپنی اولین ترجیح بنایا؟ یا ہم نے اسے صرف ایک نعرے، ایک پرچم، اور ایک دن کی تقریبات تک محدود کر دیا؟ کیا سیاستدانوں نے کبھی اپنا محاسبہ کیا کہ اقتدار کی کرسی سے زیادہ قیمتی ریاست کا استحکام ہے۔ مذہبی رہنماؤں نے کبھی یہ تسلیم کیا کہ مسلکی اختلاف کے باوجود وحدتِ امت اور وحدتِ ملت کا تقاضا یہی ہے کہ ہم پاکستان کو مقدم رکھیں۔ اہلِ قلم، میڈیا، طلبہ، اساتذہ، تاجروں، ڈاکٹروں، فوجیوں، کسانوں، مزدوروں، بیوروکریٹس، حتیٰ کہ ہر اُس فرد کو جو اس ملک کا شہری ہے، اس کا سب سے پہلا فرض یہ ہے کہ وہ اپنے ہر مفاد، وابستگی اور جذبات سے بلند ہو کر صرف ایک سوچ کو اپنائے: سب سے پہلے پاکستان۔
اگر ہم واقعی چاہتے ہیں کہ یہ وطن ترقی کرے، تو ہمیں اختلافات کو نفرت نہیں بلکہ تنوع کی طاقت سمجھنا ہوگا۔ زبانوں کی رنگارنگی ثقافتوں کی خوشبو، نظریات کا تنوع، یہ سب اگر پاکستان کی چھتری تلے ہم آہنگ ہوں، تو قوم وہ اکائی بن سکتی ہے جو ہر آندھی کے سامنے بے خوف ہو کر ایک صف میں کھڑی ہو۔ ہمیں یہ آزادی مفت نہیں ملی، یقیناً لاکھوں قربانیوں، بے شمار آہوں، اور خون سے لکھی گئی داستانوں کا نتیجہ ہے۔

14 اگست 2025 کا دن ہمیں ایک بار پھر یاد دلا رہا ہے کہ یہ وطن ہمیں یونہی نہیں ملا، بلکہ اس کے پیچھے لاکھوں قربانیاں اور ان گنت لہو سے لکھی گئی داستانیں ہیں۔ آج جب دشمن سازشوں میں مصروف ہے، داخلی اختلافات گہرے ہو چکے ہیں، نظریاتی یلغار جاری ہے، لسانی و صوبائی تعصبات سے نکل کر ہمیں وطن سے اپنی وابستگی کا عملی ثبوت دینا ہوگا۔
آئیں! اس یومِ آزادی پر ہم سب تجدیدِ عہد کریں کہ وطن کی حرمت، خودمختاری اور سالمیت کے تحفظ کے لیے اگر جان کا نذرانہ بھی دینا پڑا تو دریغ نہیں کریں گے۔ اور ہم سب کا نعرہ ہوگا: “سب سے پہلے پاکستان” کیونکہ پاکستان ہے تو ہم ہیں، پاکستان نہیں تو کچھ بھی نہیں
لکھو کے ساتھ لکھو

یوم آزادی
حفیظ چودھری

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں