0

ہم یومِ آزادی منانا چاہتے ہیں/تحریر/عذبہ جالب

 

ملکِ عزیز کے دربدر ہوتے معصوم بچے

ملکِ عزیز کے دربدر ہوتے معصوم ںچے
بچپن چھیننے کا حق کسی کو نہیں

ہم نے جب سے ہوش سنبھالی ہے اپنے گھروں میں یوم آزادی کے دنوں کو عید کی طرح مناتے دیکھا ہے ، کھانے ، گھروں کی سجاوٹ و صفائی ستھرائی ، مہمانوں کی دعوت ، کپڑے
غرض سب کچھ عید کے ہی جوش کی مانند ہم چودہ اگست پر دیکھتے آ رہے ہیں ۔۔۔۔۔
مگر اس بار ۔۔۔۔
اس بار ایک عجیب سا دکھ ہے ، روح تک زخمی ہے ، دل انجانی تکلیف میں مبتلا ہے ، لوگوں کی بے رخی اب وہ تکلیف نہیں دیتی جتنا کے ملکی حالات ۔۔۔۔
چاہ کر بھی بےپرواہ نہیں ہوا جاتا ۔۔۔۔
کیا آزادی اسی چیز کا نام تھا کہ ہم بھی اپنے حکمرانوں کی طرح بےپرواہ کٹھ پتلیاں ہوکر بےحس بن جاتے ؟؟غزہ
کی چھ لاکھ ابادی ہماری بےحسی و بزدلی اور ایٹمی  طاقت ہونے پر طمانچہ نہیں ہے کیا ۔۔۔۔۔
باجوڑhttps://www.facebook.com/share/1Btp9kowmq/ و وزیرستان کے مظلوم بھوک سے بلکتے پاکستانی ، آزادی کے نام پر گہرا سوالیہ نشان نہیں ہیں کیا ؟؟؟۔۔۔۔
بجلی کے بلوں سے پریشان باپ کا خودکشی کے باعث لاشہ ان حکمرانوں کی فرعونیت پر سوال نہیں اٹھاتا کیا ۔۔۔۔
انصاف کیلئے نسل در نسل رلتے بیچارے لوگ کس منہ سے اس آزادی کی خوشیاں منائیں گے ؟؟؟؟
مساجد سوال کررہی ہیں ، ہے کوئی ہمارا پرسان حال۔۔۔۔۔۔
کھلے عام چلتے کلب و میخانے ہمارا منہ چڑا رہے ہیں اور ہم ہیں کہ خاموش تماشائی ۔۔۔۔۔
یہ ملک جس مذہب کے نام پر آزاد کیا گیا تھا ، اسی مذہب کو یہاں مشکلات کا سامنا ہے ۔۔۔۔۔
ہم آزادی کا جشن پھر سے بچپن کے دنوں کی مانند منانا چاہتے ہیں مگر شرط ہے ہمیں مجبور والدین کے مہنگائی سے تنگ آ کر خودکشی کے باعث لاشے نہیں چاہییں
ہمیں انصاف کیلئے رلتی نسل در نسل بیچاری عوام نہیں دیکھنی ۔
ہمیں باجوڑ و بلوچستان و وزیرستان کے مسلمانوں کو اپنے ہی ملک میں پرایا ہوتے نہیں دیکھنا ۔
ہمیں غیرت اسلامی دیکھنی اور پیدا کرنی ہے نا کہ انگریز کے آگے پیچھے ہوکر دنیا کے عظیم مسلمانوں کے قاتل کا حواری بننا ہے ۔۔۔۔۔

خدارا یہ دردِ دل سمجھیے گا ، ہم آج بھی بچپن کے دنوں کی مانند یوم آزادی منانا چاہتے ہیں
ج-ا-ل-ب 🥀 ♠️

https://www.facebook.com/share/1FAKzH8cWe/

 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں