
محمد عرفان اللہ اختر
irfanakhtar930@gmail.com
قائدِ اعظم محمد علی جناحؒ برصغیر کے وہ مایہ ناز رہنما تھے جنہوں نے نہ صرف ایک عظیم قوم کی قیادت کی بلکہ ایک آزاد مسلم ریاست کے قیام کی بنیاد بھی رکھی۔ اُن کی جدوجہد، حکمت، سیاسی بصیرت اور اصولی قیادت نے تاریخ کا دھارا موڑ دیا۔ آپ کی قیادت میں برصغیر کے مسلمان ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوئے اور ایک الگ وطن “پاکستان” کے خواب کو حقیقت کا روپ ملا۔
قائدِ اعظم محمد علی جناح 25 دسمبر 1876ء کو کراچی میں پیدا ہوئے۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ انگلینڈ سے وکالت کی ڈگری حاصل کر کے ہندوستان واپس آئے۔ ابتدا میں آپ کانگریس کے رکن تھے اور ہندو مسلم اتحاد کے حامی سمجھے جاتے تھے۔ لیکن وقت کے ساتھ آپ نے یہ محسوس کیا کہ کانگریس ہندو مفادات کی نمائندہ جماعت ہے اور مسلمانوں کے حقوق کا تحفظ اس کے بس کی بات نہیں۔
قائداعظم برصغیر کے مسلمانوں کے لیے ایک ایسے ہی قائد بن کر اُبھرے۔ قائد اعظم ایک ایسی شخصیت تھے، جن کی عظمت اور بلندیٔ کردار کے مخالفین بھی معترف تھے۔
بھارت کے پہلے وزیراعظم جواہر لعل نہرو کی ہمشیرہ وجے لکشمی پنڈت نے کہا تھا، ’’اگر سو گاندھی، سو نہرو اور سو پٹیل مسلم لیگ کے پاس ہوتے اور کانگریس کے پاس صرف اور صرف محمد علی جناح ہوتا، تو پاکستان کبھی نہ بنتا‘‘۔
قائدِ اعظم نے 1913ء میں مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی اور جلد ہی مسلم لیگ کی قیادت سنبھالی۔ انہوں نے مسلمانوں کو ایک الگ قوم تسلیم کرانے کے لیے نہایت دانشمندی، سیاسی حکمتِ عملی اور اصولی مؤقف اختیار کیا۔بعد ازاں دہلی میں اپنے مشہور “چودہ نکات” پیش کیے جن میں مسلمانوں کے مذہبی، ثقافتی، تعلیمی اور سیاسی حقوق کا واضح دفاع کیا گیا۔ یہ نکات بعد ازاں تحریکِ پاکستان کی بنیاد بنے۔
یہ قائدِ اعظم کی قیادت ہی تھی کہ 1940ء کو مسلم لیگ نے لاہور میں قراردادِ پاکستان منظور کی، جس میں واضح طور پر ایک الگ مسلم ریاست کا مطالبہ کیا گیا۔ اس موقع پر قائدِ اعظم نے کہا:
“ہم مسلمان ایک الگ قوم ہیں۔ ہمارا دین، ہمارا تمدن، ہماری تاریخ، ہماری روایات، ہماری اقدار، سب کچھ ہندوؤں سے الگ ہیں۔ ہمیں ایک آزاد وطن کی ضرورت ہے۔”
قائدِ اعظم نے مسلم لیگ کو ایک مضبوط جماعت بنایا۔ 1945-46ء کے انتخابات میں مسلم لیگ نے زبردست کامیابی حاصل کی، جس نے یہ ثابت کر دیا کہ برصغیر کے مسلمان صرف قائدِ اعظم کی قیادت کو مانتے ہیں۔
قائدِ اعظم کے فرمودات ایک مسلم قوم کے سیاسی و اخلاقی رہنما اصول بنے۔
دسمبر 1943 کو کراچی میں آل انڈیا مسلم لیگ کے 31 ویں اجلاس سے خطاب کے دوران قائد اعظم نے فرمایا:
”وہ کون سا رشتہ ہے جس سے منسلک ہونے سے تمام مسلمان جسد واحد کی طرح ہیں، وہ کون سی چٹان ہے جس پر ان کی ملت کی عمارت استوار ہے ، وہ کون سا لنگر ہے جس پر امت کی کشتی محفوظ کر دی گئی ہے ؟ وہ رشتہ ، وہ چٹان ، وہ لنگر اللہ کی کتاب قرانِ کریم ہے۔ مجھے امید ہے کہ جوں جوں ہم آگے بڑھتے جائیں گے ، قرآنِ مجید کی برکت سے ہم میں زیادہ سے زیادہ اتحاد پیدا ہوتا جائے گا۔ ایک خدا ، ایک کتاب ، ایک رسول ، ایک امت “
11 اگست 1947ء کی تقریر میں آپ نے فرمایا کہ اے قوم ” آپ آزاد ہیں، آپ اپنے مندروں میں جانے کے لیے آزاد ہیں، آپ اپنی مسجدوں میں یا کسی اور عبادت گاہ میں جانے کے لیے آزاد ہیں۔“
قائد اعظم نے نوجوانوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ ” کام، کام، اور صرف کام۔ ایک لمحہ ضائع کیے بغیر مسلسل محنت کرو۔“
آپ نے فرمایا کہ ”اتحاد، ایمان اور قربانی ہماری کامیابی کی بنیاد ہے۔ اگر ہم ان اصولوں کو اپنالیں تو دنیا کی کوئی طاقت ہمیں شکست نہیں دے سکتی۔“
10 ستمبر 1945 ء کو عید الفطر کے موقع پر قائد اعظم نے فرمایا ” ہمارا پروگرام قرآنِ کریم میں موجود ہے۔ تمام مسلمانوں پر لازم ہے کہ قرآن مجید غور سے پڑھیں۔ قرآنی پروگرام کے ہوتے ہوئے مسلم لیگ مسلمانوں کے سامنے کوئی دوسرا پروگرام پیش نہیں کر سکتی۔“
بانی پاکستان نے فرمایا کہ ”پاکستان اس دن وجود میں آ گیا تھا جب پہلا ہندو مسلمان ہوا تھا۔”یعنی دو قومی نظریہ کوئی سیاسی مفروضہ نہیں بلکہ تاریخی حقیقت ہے۔“
13 اپریل 1948 ء کو اسلامیہ کالج پشاور میں تقریر کرتے ہوئے بانی پاکستان نے فرمایا ” ہم نے پاکستان کا مطالبہ زمین کا ایک ٹکڑا حاصل کرنے کے لیے نہیں کیا بلکہ ہم ایسی جائے پناہ چاہتے تھے جہاں ہم اسلامی اصولوں کے مطابق زندگی بسر کر سکیں۔“
قائدِ اعظم کی قیادت، اصولوں پر ثابت قدمی، بے مثال قربانی اور سیاسی حکمت نے 14 اگست 1947ء کو پاکستان کی صورت میں ایک آزاد اسلامی ریاست کا خواب پورا کر دیا۔ برطانوی راج کا خاتمہ ہوا اور مسلمان ایک آزاد قوم بن کر دنیا کے نقشے پر ابھرے۔
قائدِ اعظم محمد علی جناح پاکستان کو ایک ایسی ریاست بنانا چاہتے تھے جہاں اقلیتوں کو مکمل آزادی حاصل ہو،عدل و انصاف کا بول بالا ہو،کرپشن نہ ہو، تعلیم عام ہو اور اسلامی اصولوں کے مطابق ایک جدید، خوددار ریاست ہو۔
قائداعظم نے اپنی بیماری اور کمزوری کے باوجود دن رات پاکستان کے قیام کے لیے جدوجہد کی۔ وہ سیاسی محاذ پر انگریزوں سے بھی ڈٹے اور کانگریسی رہنماؤں کو بھی منطق اور دلیل کے ذریعے جواب دیا۔ ان کی سچائی، اصول پسندی، دیانت اور عزم و استقلال نے مسلمانوں کو ایک پرچم تلے متحد کر دیا۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم قائدِ اعظم کے نظریات کو اپنائیں، اُن کے بتائے ہوئے راستے پر چلیں اور پاکستان کو وہی ریاست بنائیں جس کا خواب انہوں نے دیکھا تھا۔
قائدِ اعظم محمد علی جناح کی جدوجہد، عزم، قیادت اور فرمودات ہمارے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ اگر ہم ان اصولوں پر عمل کریں تو پاکستان ترقی، امن اور خوشحالی کا گہوارہ بن سکتا ہے۔ قائد کا یہ فرمان ہمیں ہمیشہ یاد رکھنا چاہیےکہ ”میری زندگی کی واحد تمنا یہ ہے کہ مسلمانوں کو آزاد اور سربلند دیکھوں۔“