0

اظہار بیاں/تحریر/مالک تمیمی

اظہار بیاں/ تحریر / ملک تمیمی

اظہار بیاں/تحریر/مالک تمیمی

جو لکھتا ہے اس کی تحاریر متنازع ہوں گی….. جو بولتا ہے اس کا کلام بخیے ادھیڑے گا …… ہر لکھنے والا اور بولنے والا زندگی کے اس دورانیے سے لازما گزرتا ہے جب اس کے لکھے ہوئے الفاظ ، پیش کردہ خیالات اور اظہار کردہ بیانات قابل ”تعزیر“ ٹھیرتے ہیں ….. اس بنا پر وہ بیک وقت تحسین کے طعنے اور تنقید کے پھول اپنے دامن میں بھرتا ہے ……

مگر ایک لکھنے اور بولنے والا اس صفت کا لازمہ رکھتا ہے کہ اسے کسی کی پرواہ کیے بغیر وہی لکھنا اور بولنا ہے جو نظر آ رہا ہے ….. وہی کہنا ہے اس کا ضمیر کہتا ہے ….. تحقیق کی بنیاد پر اس کا قلم برف کا سوا بن جائے یا پھولوں کی طشتری بن جائے ….. پھر اسے رکنا نہیں ہے …… اس کے سامنے ظلم ہو تو اسے ظالم کے ہاتھ کا پتہ لکھنا ہے….. اس کے سامنے حق تلفی ہو تو غاصب کے چہرے کے نین نقش واضح کرنے ہیں ، اس کے سامنے نظریاتی یا انتظامی پہلو خرابیاں ہوں تو اس نے خلا کو واضح کرنا ہے ، اسباب بیان کرنے ہیں ، پس پردہ کار فرما نفوس کی نشاندہی کرنی ہے …… یہ اس صلاحیت کا حق ہے …. یہ ہر اس شخص کا حق ہے جس کو یہ سب نظر آتا ہے …. پردہ ڈال کر یا مفادات لے کر یا گول مول کر کے وقتی طور پر بہت کچھ حاصل ہو سکتا ہے لیکن!! اس ضمیر کا کیا کریں گے جو فطرت خالص پر بنا ہے …….

پھر جو ردعمل آئے گا وہ بہت کچھ کھونے کی صورت میں بھی ہو سکتا ہے ….. یعنی رشتے ، تعلقات ، مواقع اور بہت سے قیمتی لوگ بھی ….. مگر جو اظہار بیان کی صلاحیت رکھتا ہے اور اسے اپنی اس صلاحیت کی قدر کرنی ہے تو پھر اس قربانی کیلیے تیار رہنا چاہیے ……
ہاں احتیاط یہ کہ جھوٹ بیان نہیں کرنا ، بغیر تحقیق کے بات نہیں کرنی ، بغیر دلیل کے قول نقل نہیں کرنے ، سطحی خیالات کو پھیلاتے نہیں رہنا ، طنز و تحقیر کا پہلو بالکل ختم کردیں ……. یہ رویہ اظہار کی طاقت کو گہنا دے گا…… اور شخصیت کو تباہ کر دے گا ……
ہم نے اپنے اساتذہ سے یہی سیکھا ، ہم نے اسلاف کی کتب میں یہی پڑھا ، ہم نے انقلابیوں کی زندگی میں یہی دیکھا ، ہم نے اسلام کی تعلیمات سے یہی پایا …… کہ تمہارے ہاتھ میں وہ قلم ہے ، جس کی قسم کھائی گئی ہے …
. وہ سب لوگوں کو وہ دکھا سکتا ہے جو کوئی نہیں دیکھ رہا….. وہ سب کو وہ بتا سکتا ہے جو سب کے دل میں ہے مگر کوئی کہہ نہیں پاتا …. وہ سچ کو کسوٹی سے گزار کر تصدیق کی مہر لگا سکتا ہے….. وہ جھوٹ کو طشت از بام کر سکتا ہے …… وہ فرسودہ ذہنیت پر ہتھوڑے برسا سکتا ہے….. وہ اپنے اظہار کی قوت سے ہزاروں لوگوں کو اپنا ہمنوا بنا سکتا ہے ….. وہ تقدیس کے جھوٹے لبادوں کو چاک کر کے حقائق دکھلانا جانتا ہے …… کیونکہ وہ اظہار ما فی الضمیر کی طاقت سے نوازا گیا ہے ……۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں