
تحریر: محمد کوکب جمیل ہاشمی
پاکستان میں موسم برسات کی بلا انتباہ تباہ کاریوں اور بارشوں کی شدت سے سیلابوں کی آمد نے غم و اندوہ اور ستم رسانیوں پر کمر باندھ رکھی ہے۔ بادلوں نے اپنے سیاہ دامنوں کو پھاڑ کر شہروں اور دیہاتوں پر پانیوں کے جو بم برساۓ ہیں ان کی تباہی دیکھ کر ہوش اڑ گئے ہیں۔ کئی دیہات جو زندگی کے آب رواں سے فصلوں کو سیراب کر رہے تھے، جو باغ اور چشمے حیات بخش احساس سے خوشی اور شوخی سے جھوم رہے تھے یکا یک صفحہ ہستی سے مٹ گئے۔ مکاںات، گلہوں۔اور بازاوں پہ جس آفت ٹوٹی سو ٹوٹی، چٹانوں کے بے رحم بھاری بھرکم پتھروں اور شدت سیلاب کے دھکے دیتے پانیوں نے شہری زندگی کو بھی ویرانوں میں دھکیل دیا ۔ سیلابوں نے انسانوں پر ایسی چڑھائی کی کہ آنآ فانآ سینکڑوں بشری زندگیاں سمندر کی سی گہرائیوں میں غرق ہوگئیں۔ لوہے اور فولاد سے بنی مہنگی گاڑیاں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو کر کاغذی ناؤ کی طرح پانی اور کیچڑ میں دھنس گئیں۔ کچھ گاڑیاں انسانی جانوں سمیت بہہ کر لاپتہ ہو گئیں۔ نہ گاڑیاں ملیں نہ انکی سواریاں۔ تا حال غوطہ خوروں کو کامیابی نہ مل سکیں۔ پاکستان کے بیشتر حصوں جن میں خیبر پختون خوا کے بہت سے علاقے بالخصوص بونیر میں سیلابی پانی اور پانی کے ساتھ بہہ کر آنے والے چٹانوں کے وزنی ٹکڑوں نے جان و مال کو جو ضرب پہنچائی اس کی مثال ماضی میں نہیں ملتی۔ ہر جانب پھیلی تباہی اور بربادی کا منظرقیامت صغریٰ سے کم نہ تھا۔
آج کل میرا دیس، میرا وطن اعضاء انسانی کی مانند درد کی ناقابل برداشت ٹیسوں سے چور چور ہے۔ اس کے انگ انگ سے تیز آب کی شوریدہ سری، تیزاب بن کرجلن اور دکھن کی دکھ بھری آہوں میں تبدیل ہو رہی ہے۔ وطن عزیز کو درپیش مشکلات کے بہتے ریلوں، منوں وزنی چٹانوں کے سنگ دل بھاری پتھروں کی ضرر رسانیوں اور ابتلا کی پیش قدمیوں کے بیچ کچھ صدائیں، کچھ التجائیں اور کچھ گزارشات دل گرفتگی اور گلو گیر پکار کے ساتھ کہہ رہی ہیں کہ اے اس سر زمین کے مکینو! جان رکھو کہ خطرات سے کھیلنا دلیری کے جوہر دکھانے کے مترادف ضرور ہے لیکن خطرات کو دعوت دینا، وطن عزیز کو آفتوں سے دوچار کرنا اور حب الوطنی کے میناروں کو مسمار کرنے کا حیلہ ضرور ہے۔
پاکستان کے طول و عرض میں حالیہ شدید بارشوں اور سیلابوں کے نتیجے میں بڑے پیمانے پرپہنچنے والے جان و مال کے نقصانات اور املاک کی تباہی پر ہر آنکھ اشک بار ہے۔ رنج و غم کا ایک در کھل چکا ہے جس نے دربدر لوگوں کو بے بسی اور بے چارگی کی گرفت میں لے رکھا ہے۔ اپنے وطن سے دوریہ راقم بن برسات کی قطر کی خشک مگر حبس والی فضاؤں میں رہ کر بھی پاکستان پر ٹوٹنے والی قیامت کے بارے میں موصول خبریں سننے اور دیکھنے کا یارا نہیں ہے۔ بے اندازہ جانی نقصانات کی اطلاعات نے ہمیں ناقابل برداشت رنج اور ملال مبتلاا کر رکھا ہے۔ سڑکوں، پلوں، گھروں کی ٹوٹ پھوٹ کےمناظر دیکھ کر قلب و ذہن پر گہری چوٹیں لگ رہی ہیں۔ سیلابوں کی شدت کی نذر ہونے والی جانوں نے پورے خاندان اجاڑ کر رکھ دیئے۔ سڑکیں تو دوبارہ بن جائیں گی، پلوں کی مرمت بھی ہو جائیگی۔ ٹوٹے پھوٹےگھر بھی تعمیر ہو جائییں گے۔ لیکن انسانی جانیں جو ایک پل میں راہ عدم کے پل عبور کر گئیں، لوٹ کر واپس نہ آ سکیں گی۔ بے چارگی اور کسمپرسی کے دوہرے غموں سے فضا کو آزرد گی اور افسوس کے گہرے ساۓ پھیلا دئے ہیں۔ خوشی، اطمینان اور سکون عنقا ہوگئے۔ امدادی کاروائی میں مصروف ہیلی کاپٹروں میں سے ایک گر کر تباہ ہو گیا۔ ہیلی کاپٹر کے عملے کے دو فوجی پائلٹ اس حادثے میں شہید ہو گئے۔ کثیر تعداد میں جانوں کے اتلاف اور شہادتوں پر غمگساروں کے ہاتھ بارگاہ ایزدی میں اٹھے ہوۓ ہیں۔
صرف کے پی کے میں ہی نہیں، گلگت بلتستان، اسکردو، چترال اور ملحقہ علاقوں کے علاوہ، آزاد کشمیر، کراچی اور پنجاب کے کچھ اضلاع میں بھی بھرتے ہوۓ سیلابی پانی نے خون آشام داستانیں رقم کی ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آلام و حزن و ملال کے ان لمحوں اور جانی و مالی نقصانات کی ذمے داری کن پر ڈالی جا سکتی ہے۔ یوں تو موسمی تغیرات اور عالمی سطح پر درجہ حرارت میں اضافے کو سیلابوں اور کثرت کے ساتھ غیر معمولی بارشوں کی وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔ لیکن اس کے زیادہ اثرات صرف ہمارے خطے پر ہی کیوں مرتب ہو رہے پیں۔ ذرا غور کریں تو معلوم ہوتا ہے ہماری عاقبت نا اندیشی ہے کہ جس نے غفلت و لا پروائی برے کر بے جرم و خطا لوگوں کر تباہی کے دہانے کی بھینٹ چڑھایا ہے۔ ان مصائب ، زیاں اور ضیاع کے ذمے دار ہم خود ہیں۔ ہمارے وہ ادارے اور ان کے عمال ہیں جو اپنی ذمے داریوں اور فرائض سے چشم پوشی نہ کرتے تو آج یہ دن نہ دیکھنے پڑتے۔ کہا جا رہا ہےکہ بیشتر نا لوں، نہروں اور دریاؤں کے کناروں پر نا جائز تجاوزات و تعمیرات نے پانی کی گزرگاہوں کو تنگ کررکھا تھا اس لئے سیلابی پانی آبادیوں میں داخل ہونے کا باعث بنا۔ حیف ہے کہ متعلقہ کارندوں اور افسران نے ان تعمیرات کی اجازت کیوں دی جو پانی کے قدرتی راستوں میں رکاوٹ کا ذریعہ بنے۔ اس کے علاؤہ دیکھنے میں آیا کہ سیلابی پانی میں جنگلات کے درختوں کی کٹی لکڑیوں کی ڈھیریاں کثیر تعداد میں بہہ کر آ رہی تھیں۔ یہ سب کچھ محکمہ جنگلات اور ماحولیات سی متعلق اداروں کی غفلت کا مونہہ بولتا ثبوت ہیں کیوں کہ ٹمبر مافیا نے بڑے پیمانے پر پہاڑوں سے درختوں کا صفایا کیا۔ اور کسی کو اس کی خبر تک نہ ہوئی۔ یا سب کچھ علم میں ہونے کے بعد بھی ادارے ٹس سے مس نہ ہوۓ۔ درخت زمین کا زیور ہی نہیں ہوتے بلکہ یہ پہاڑی پتھروں کو دریاؤں میں گرنے میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ درخت شدید بارشوں کے پانی کے بہاؤ اور شدت کو کم کرنے میں بھی مدد دیتے ہیں، جس سے آبادیوں کو پہنچنے والے نقصان میں کمی واقع ہوتی ہے۔ اس لئے نقصانات کے ان ذمہ داروں کو سخت سزائیں دینا از بس ضروری ہے۔ جو جان مال کا نقصان ہوا اس کا ازالہ نہیں ہو سکتا لیکن اسکی وجہ بننے والے کرداروں کو قرار واقعی سزا ملی چاہئیے، جنہوں نے فرائض سے پہلو تہی کی اور غفلت برتی۔ ایسے تمام افراد مثالی سزا اور احتساب کے مستحق ہیں تاکہ آئندہ کے لئے ایسے درد ناک واقعات کا تدارک ہو سکے۔