جنرل حمید گل سکول آف ملٹری انٹیلی جنس کے قابل فخر سپوت/انتخاب/حفیظ چودھری
وہ جرنیل جس نے اپنے کیریئر کے دوران ہر پروموشن پہلے لی اور درکار کورس بعد میں کیا۔
جو پہلی بار بطور کیپٹن انٹیلی جنس سروس میں آیا اور دیکھتے ہی دیکھتے اس مقام پر جا پہنچا کہ خود میجر تھا لیکن اس کی تخلیق کردہ انٹیلی جنس حکمت عملی سکول آف ملٹری انٹیلی جنس میں کرنل رینک کے آفیسرز کو پڑھائی جا رہی تھی۔
جس نے بطور بریگیڈئر برطانیہ کے “رائیل وار کالج” کا کورس یہ کہہ کر مسترد کیا “انگریز کون ہوتا ہے مجھے سکھانے والا۔ ملک کا دفاع اپنی مٹی کے فہم سے آتا ہے اور یہ فہم میرے پاس ہے”
جو پاکستان آرمی کی تاریخ کا سب سے کم عمر لیفٹنٹ جنرل بنا۔
جس نے فوجی سروس کے دوران کبھی گاڈز نہیں رکھے۔
جو بطور کور کمانڈر پہلی بار راولپنڈی آیا اور ٹین کور کی سیکیورٹی ٹیم نے ایئرپورٹ پر حصار میں لیا تو اس ٹیم کو یہ کہہ کر چلتا کر دیا “تمہیں تمہاری ماؤں نے وطن کے دفاع کے لئے جنا ہے۔ حمید گل کے دفاع کے لئے نہیں”
جو صرف مسجد کی صف میں محمود و ایاز کے یکجا ہونے کا قائل نہ تھا بلکہ کور کمانڈر کی حیثیت میں دسترخوان پر بھی محمود و ایاز کو یکجا کردیا کرتا تھا۔
جس نے ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کا چارج یہ کہہ کر لینے سے انکار کردیا “میں فوج چلانے کے لئے آیا ہوں۔ میں کسی فیکٹری کا منیجر نہیں فوجی ہوں” اور نتیجتا وقت سے قبل ریٹائرمنٹ قبول کرلی۔
جو آرمڈ سروسز سے تو ریٹائر ہوا لیکن “سروسز” مرتے دم تک انجام دیتا رہا۔
جس نے ڈی جی آئی ایس آئی ہوتے ہوئے اپنی بیٹی کے قاطل شوہر کو معاف کردیا۔
جو پاکستان آرمی کی تاریخ کے سب سے طاقتور جرنیل کی حیثیت سے مدتوں یاد رکھا جائے گا۔ اللہ پاک اس عظیم انسان کو کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائے.
جنرل حمید گل سکول آف ملٹری انٹیلی جنس کے قابل فخر سپوت/انتخاب/حفیظ چودھری
فیلڈ مارشل، آرمی چیف سید عاصم منیر کا دورہ امریکہ اور بھارت میں کھلبلی/تحریر/حافظ بلال بشیر