0

مغربی کنارے کو ہڑپنے کا منصوبہ/تحریر/ضیاء چترالی

مغربی کنارے کو ہڑپنے کا منصوبہ/تحریر/ضیاء چترالی

اسرائیلی کنیسٹ (پارلیمنٹ) نے ایک ایسی قرارداد کی ابتدائی منظوری دی ہے، جو بظاہر محض ایک پارلیمانی کارروائی دکھائی دیتی ہے، مگر درحقیقت مشرقِ وسطیٰ کی سیاسی، مذہبی اور اخلاقی بنیادوں کو ہلا دینے والی پیش رفت ہے۔ یہ قرارداد غربِ اردن، یعنی دریائے اردن کے مغربی کنارے کے اُس علاقے کو باضابطہ طور پر اسرائیلی حاکمیت میں شامل کرنے سے متعلق ہے، جسے اسرائیلی انتہا پسند “یہوداہ و سامریہ” (Judea and Samaria) کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ گو کہ وزیر اعظم نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی کے چند ارکان نے ظاہری طور پر اس کی مخالفت کی یا غیرجانبدار رہے، مگر کسی نے بھی اسمبلی سے واک آؤٹ نہیں کیا، نہ ہی کورم توڑنے کی کوشش کی۔ یہ طرزِ عمل اس ’’خاموش رضامندی‘‘ کا ثبوت ہے، جو برسوں سے اسرائیل کے اندر موجود سخت گیر حلقے مغربی کنارے پر قبضے کی راہ ہموار کرنے کے لیے بروئے کار لا رہے ہیں۔
یہ قرارداد کسی وقتی اشتعال یا عارضی سیاسی جوش کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک طویل منصوبہ بندی کا حصہ ہے۔ اسرائیلی مذہبی و قوم پرست گروہ کئی دہائیوں سے اس نظریئے کو فروغ دیتے آ رہے ہیں کہ 1967ء کی عرب اسرائیل جنگ میں قبضہ کیا گیا یہ خطہ دراصل تاریخی یہوداہ و سامریہ ہے۔ یہی وہ نظریہ ہے جس کے تحت اسرائیلی سرکاری ادارے، عدالتی فیصلے اور تعلیمی نصاب تک اس علاقے کے عربی نام ’’غربِ اردن‘‘ کو ترک کرکے عبرانی شناخت کو رائج کر رہے ہیں۔ یہ محض لسانی تبدیلی نہیں، بلکہ ایک فکری اور سیاسی عمل ہے، جس کا مقصد فلسطینی ورثے کو مٹانا اور مذہبی تاریخ کے پردے میں ایک نئی قومی ملکیت کو قائم کرنا ہے۔
غربِ اردن جغرافیائی لحاظ سے فلسطین کا دل ہے۔ تقریباً چھ ہزار مربع کلومیٹر رقبے پر پھیلا یہ علاقہ مشرق میں دریائے اردن، مغرب میں اسرائیل، جنوب میں بحیرئہ مردار اور شمال میں فلسطین کے دیگر حصوں سے جڑا ہوا ہے۔ آبادی کے لحاظ سے یہاں تقریباً 30 لاکھ فلسطینی بستے ہیں، جبکہ یہودی آبادکاروں کی تعداد 5 سے 6 لاکھ کے درمیان پہنچ چکی ہے۔ یہی وہ ’’سیٹلمنٹس‘‘ ہیں، جن کے ذریعے اسرائیلی حکومت نے اس خطے کی آبادیاتی ساخت کو منظم طور پر بدلنے کی کوشش کی ہے۔ ہر نئی بستی دراصل ایک نیا سیاسی کیل ہے جو آئندہ فلسطینی ریاست کے تابوت میں ٹھونکا جا رہا ہے۔
اوسلو معاہدوں کے بعد غربِ اردن کو انتظامی طور پر تین حصوں میں تقسیم کیا گیا تھا: (1) ایریا اے، جہاں فلسطینی اتھارٹی کو مکمل سول و سیاسی اختیار حاصل ہے۔ (2) ایریا بی، جہاں سول انتظام فلسطینیوں کے پاس مگر سیکورٹی اختیار مشترکہ ہے اور (3) ایریا سی، جو کل رقبے کا ساٹھ فیصد ہے، مکمل طور پر اسرائیلی کنٹرول میں ہے۔
یہی ایریا سی وہ خطہ ہے، جہاں اسرائیلی بستیوں کی تعمیر تیزی سے جاری ہے اور جہاں اسرائیلی فوجی و سول قوانین بتدریج نافذ کیے جا رہے ہیں۔ یوں اسرائیل نے عملی طور پر ان علاقوں کو ضم کرنے کا عمل کب کا شروع کر رکھا ہے، اب محض اس کی پارلیمانی توثیق باقی ہے۔
ضم (Annexation) کا مطلب محض انتظامی نظم بدل دینا نہیں، بلکہ کسی علاقے پر اپنی حاکمیت قائم کر دینا ہے۔ بین الاقوامی قانون کے مطابق کسی مقبوضہ خطے کو ضم کرنا ناجائز اور غیرقانونی فعل ہے۔ اقوامِ متحدہ کے چارٹر، چوتھے جنیوا کنونشن اور عالمی عدالتِ انصاف (ICJ) کے فیصلوں میں واضح کیا گیا ہے کہ کوئی بھی ریاست فوجی قبضے کے ذریعے اپنے علاقے میں اضافہ نہیں کر سکتی۔ اگر اسرائیل اس قرارداد کو حتمی منظوری تک پہنچاتا ہے تو یہ نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہوگی بلکہ مشرقِ وسطیٰ کے امن عمل کی آخری امید کو بھی دفن کر دے گی۔ انضمام کے اثرات نہ صرف سیاسی بلکہ وجودی ہوں گے۔ فلسطینی ریاست کا خواب، جسے اوسلو معاہدے نے دو ریاستی حل (Two State Solution) کی بنیاد پر زندہ رکھا ہوا تھا، ہمیشہ کے لیے دفن ہو جائے گا۔ اسرائیل اگر غربِ اردن کو اپنی ناجائز ریاست میں شامل کرتا ہے تو وہ فلسطینی آبادی کو یا تو محدود خودمختاری دے گا یا انہیں وہی نیم شہری حیثیت عطا کرے گا جو آج مشرقی بیت المقدس کے فلسطینیوں کو حاصل ہے۔ نتیجتاً ایک نئی نسل قانونی، سماجی اور شہری حقوق سے محروم پیدا ہوگی۔ یہ دراصل ایک ’’جغرافیائی نسل‌کشی‘‘ (Geographical Erasure) ہوگی، جس میں زمین چھینی جاتی ہے، مگر لاشیں نہیں گرتیں۔
اس کے علاوہ، محمود عباس کی قیادت میں قائم فلسطینی اتھارٹی کے وجود کا جواز ہی ختم ہو جائے گا۔ اگر ایریا سی اسرائیل میں شامل ہوتا ہے تو فلسطینی اتھارٹی کے محدود اختیارات چند شہری مراکز تک سمٹ کر رہ جائیں گے۔ ایک کمزور اور غیر مؤثر انتظامیہ نہ تو مذاکرات کی پوزیشن میں ہوگی اور نہ عوامی حمایت برقرار رکھ سکے گی۔ اس صورت میں اسرائیل یہ دعویٰ کرے گا کہ فلسطینی قیادت امن کے قابل نہیں رہی اور اسی بہانے وہ اپنی مزید عسکری مداخلت کو ’’سیکورٹی آپریشن‘‘ کا نام دے گا۔
امریکی موقف ہمیشہ کی طرح دوغلا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اگرچہ اس قرارداد کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل کو ضم کی صورت میں امریکی حمایت سے محروم ہونا پڑے گا، مگر اس کی باتوں پر یقین کرنا آسان نہیں۔ یہی وہ شخص ہے جس نے شام کے مقبوضہ علاقے گولان کی پہاڑیوں کو اسرائیل کا حصہ تسلیم کیا اور یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دیا۔ فی الوقت اس کا نائب صدر جے ڈی وانس تل ابیب میں اسرائیلی وزیر اعظم کے ساتھ بیٹھ کر مغربی کنارے کی قرارداد کو ’’احمقانہ‘‘ کہہ رہا ہے، لیکن اسی ملاقات میں نیتن یاہو فخر سے اعلان کرتا رہا کہ ’’اسرائیل نے غزہ پر ایک دن میں 153 ٹن بارود برسایا‘‘۔ یعنی جنگ بندی کے بعد۔ امریکی قیادت نے اس کھلی خلاف ورزی پر کوئی بازپرس نہیں کی۔ یوں یہ تمام بیانات محض سفارتی لفاظی کے سوا کچھ نہیں لگتے۔
اصل امکان یہ ہے کہ واشنگٹن اس مخالفت کو ایک نئے سیاسی سودے کے طور پر استعمال کرے۔ یعنی عرب ممالک کو یہ باور کرایا جائے کہ اگر وہ اسرائیل کے ساتھ ابراہیم معاہدوں (Abraham Accords) کی توسیع چاہتے ہیں تو انہیں ضم کے مسئلے پر نرم مؤقف اختیار کرنا ہوگا۔ گویا ’’موت کے خوف سے بخار قبول‘‘ کرنے کی پالیسی۔ اسرائیل کو روکنے کی آڑ میں امریکہ دراصل عرب دنیا سے مزید سفارتی رعایتیں حاصل کرنا چاہتا ہے تاکہ وہ تل ابیب کو اپنا ’’قابلِ نظم اتحادی‘‘ ظاہر کرتا رہے۔
عرب دنیا کے لیے یہ ایک نیا امتحان ہے۔ مصر اور اردن پہلے ہی اسرائیل کے ساتھ امن معاہدوں کے باوجود فلسطینی عوام کے لیے کچھ نہ کر سکے۔ اب اگر سعودی عرب، متحدہ عرب امارات یا بحرین بھی اسی خاموشی کا شکار ہوئے تو غربِ اردن کا الحاق صرف جغرافیہ کا مسئلہ نہیں رہے گا، بلکہ ایک اجتماعی ضمیر کی شکست بن جائے گا۔ اسلامی تعاون تنظیم (OIC)، عرب لیگ اور اقوامِ متحدہ نے ماضی میں درجنوں قراردادیں منظور کیں، مگر اسرائیل نے ہر ایک کی جوتی کی نوک پر رکھا، لہٰذا اگر عالمی ضمیر اب بھی خاموش رہا تو آئندہ کوئی بین الاقوامی اصول باقی نہیں بچے گا۔
یورپی یونین نے اگرچہ رسمی طور پر اس پیش رفت پر ’’گہری تشویش‘‘ ظاہر کی ہے اور اسے دو ریاستی حل کے لیے خطرہ قرار دیا ہے، مگر یورپ کے بیشتر ممالک بھی اسرائیل کے ساتھ تجارتی مفادات میں بندھے ہوئے ہیں۔ روس اور چین نے اصولی طور پر مخالفت کی ہے، مگر عملی اقدام کی توقع کم ہے۔ البتہ اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن اور عالمی عدالتِ انصاف نے اسرائیل کے موجودہ قبضے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ضم کیا گیا تو یہ جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتا ہے۔ لیکن اسرائیل کی طاقت، امریکہ کی پشت پناہی اور عرب دنیا کی بے حسی نے بین الاقوامی قانون کو محض کاغذی ضابطہ بنا دیا ہے۔
اس پورے منظرنامے میں سب سے زیادہ متاثر وہ عام فلسطینی ہے جو روزانہ چیک پوسٹوں پر تذلیل سہتا ہے، جس کی زمین پر بستی تعمیر ہوتی ہے، جس کے بچوں کے اسکول کے اوپر ڈرون منڈلاتے ہیں۔ غربِ اردن کے قصبے نابلس، الخلیل، بیت لحم اور رام اللہ آج بھی محاصرے اور خوف کی فضا میں سانس لے رہے ہیں۔ اب اگر ان علاقوں پر باضابطہ اسرائیلی قانون نافذ ہوتا ہے تو فلسطینی اپنے ہی وطن میں اجنبی بن جائیں گے۔ یہ قبضہ بندوق سے زیادہ قلم کے ذریعے کیا جا رہا ہے، قانون کی سیاہی میں ڈوبا ہوا ایک سیاسی خنجر۔

اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلم ممالک اپنے داخلی اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر ایک متفقہ موقف اختیار کریں۔ عرب لیگ اگر واقعی ’’عرب قومیت‘‘ کے اصول پر قائم ہے تو اسے واشنگٹن کے اشاروں کے بجائے القدس اور غربِ اردن کے مظلوموں کی آواز سننی چاہیے۔ ترکی، ایران، ملائیشیا اور پاکستان جیسے ممالک کو اس مسئلے کو عالمی سطح پر دوبارہ زندہ کرنا ہوگا، کیونکہ اگر یہ الحاق حقیقت بن گیا تو فلسطینی ریاست کا وجود محض نقشے تک محدود رہ جائے گا۔
دنیا کے انصاف پسندوں کے لیے بھی یہ لمحۂ فکریہ ہے۔ آج اگر عالمی برادری نے طاقتور کے خلاف خاموشی اختیار کی تو یہ خاموشی صرف فلسطین کے لیے نہیں بلکہ پورے بین الاقوامی نظامِ انصاف کے خاتمے کی بنیاد بنے گی۔ قومیں جب ظلم کے مقابلے میں مصلحت چنتی ہیں تو ان کی روح مر جاتی ہے۔ غربِ اردن کا الحاق اگر ہوا تو یہ صرف ایک سرحد کی تبدیلی نہیں ہوگی، بلکہ انسانیت کے اجتماعی ضمیر کی موت ہوگی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں