0

اسلحہ کلچر معاشرتی بگاڑ کا خاموش ہتھیار / تحریر / حافظ محمد صدیقی مدنی

اسلحہ کلچر معاشرتی بگاڑ کا خاموش ہتھیار / تحریر / حافظ محمد صدیقی مدنی
اسلحہ کلچر معاشرتی بگاڑ کا خاموش ہتھیار / تحریر / حافظ محمد صدیقی مدنی

اسلحہ کلچر معاشرتی بگاڑ کا خاموش ہتھیار
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر: حافظ محمد صدیق مدنی

اسلحہ کلچر ایک ایسا رویہ ہے جس میں افراد یا گروہ ہتھیاروں کو طاقت اور برتری کی علامت سمجھتے ہیں اور ان کی نمائش کو فخر کا باعث سمجھتے ہیں اس ماحول میں ہتھیار رکھنا دکھانا اور استعمال کرنا معمول بن جاتا ہے اور اسے معاشرتی حیثیت کا معیار تصور کیا جاتا ہے اسلحہ کلچر صرف ہتھیار رکھنے تک محدود نہیں رہتا بلکہ یہ ایک ذہنیت کو جنم دیتا ہے جو امن علم دلیل اور رواداری کے برخلاف تشدد خوف اور دھونس پر یقین رکھتی ہے. تعلیم یافتہ معاشروں میں اسلحہ کلچر کا رواج ایک خطرناک رجحان ہے کیونکہ ایسے معاشرے کی بنیاد علم اخلاق قانون اور مکالمے پر ہوتی ہے جب وہاں اسلحہ کو برتری کی علامت بنا دیا جائے تو سب سے پہلے خوف کا ماحول پیدا ہوتا ہے جس میں نہ طالب علم سکون سے تعلیم حاصل کر سکتا ہے نہ استاد آزادی سے تعلیم دے سکتا ہے ایسے ماحول میں تعلیمی عمل شدید متاثر ہوتا ہے اور نوجوانوں کی توجہ ہتھیاروں کی طرف مبذول ہو جاتی ہے۔ اسلحہ کلچر تعلیم کی اہمیت کو کم کر دیتا ہے اور لوگوں کو اس سوچ کی طرف مائل کرتا ہے کہ عزت اور طاقت علم سے نہیں بلکہ بندوق سے حاصل ہوتی ہے اس سے نوجوانوں میں شدت پسندی جنم لیتی ہے اور وہ تعمیری سوچ کے بجائے تخریبی رویوں کو اپناتے ہیں جو نہ صرف ان کے مستقبل کے لیے تباہ کن ہے بلکہ پورے معاشرے کے لیے نقصان دہ ہے۔ اسلحہ کلچر سے جرائم میں اضافہ ہوتا ہے معمولی جھگڑوں میں جان لینا عام ہو جاتا ہے اور قانون کی عملداری کمزور پڑ جاتی ہے اس سے معاشرتی انصاف کا نظام متاثر ہوتا ہے اور عوام کا اعتماد اداروں سے اٹھ جاتا ہے نتیجتاً تعلیم یافتہ افراد بھی احساس محرومی کا شکار ہو جاتے ہیں اور ملک ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ جاتا ہے۔ ایک تعلیم یافتہ معاشرہ اس وقت ہی ترقی کر سکتا ہے جب وہاں امن کا ماحول ہو اور ہر شخص کو اپنی بات کہنے اور سوچنے کی آزادی حاصل ہو اسلحہ کلچر اس آزادی کو چھین لیتا ہے اور ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیتا ہے جہاں خوف عدم برداشت اور نفرت کا راج ہوتا ہے اس لیے اسلحہ کلچر کا خاتمہ صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہر باشعور فرد کا فرض ہے کہ وہ اپنی سوچ رویے اور کردار سے اس کے خلاف آواز بلند کرے اور امن علم اور تہذیب کے کلچر کو فروغ دے۔ چمن جو بلوچستان کا دوسرا بڑا تجارتی اور سرحدی ضلع ہے ایک عرصے سے امن و امان کے حوالے سے ایک خاص شناخت رکھتا رہا ہے۔ یہ شہر نہ صرف افغانستان کے ساتھ سرحدی رابطے کا مرکز ہے بلکہ یہاں کی قبائلی، ثقافتی، مذہبی اور تعلیمی فضا نے ہمیشہ اپنی ایک الگ پہچان بنائی ہے۔ لیکن گزشتہ چند دہائیوں میں اس شہر میں ایک ایسا ناسور تیزی سے پنپنے لگا ہے جس نے نہ صرف یہاں کے پرامن ماحول کو متاثر کیا بلکہ تعلیم یافتہ معاشرے کے خواب کو بھی مجروح کیا۔ یہ ناسور ہے اسلحہ کلچر جو تیزی سے ہمارے معاشرے میں سرایت کرتا جا رہا ہے۔ اسلحہ کلچر صرف بندوق اٹھانے یا ہتھیار کی نمائش تک محدود نہیں رہا بلکہ یہ اب ایک رویے ، ایک فخر، ایک برتری کے اظہار کی علامت بنتا جا رہا ہے جو ہمارے سماجی، تعلیمی، اخلاقی اور ثقافتی اقدار کو تباہی کی طرف لے جا رہا ہے۔ اسلحہ کلچر کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ یہ عدم برداشت، انتقام، خوف، اور معاشرتی عدم تحفظ کو فروغ دیتا ہے۔ جب ایک معاشرے میں اسلحہ کی کھلم کھلا نمائش ہوتی ہے تو اس سے نوجوان نسل میں یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ ہتھیار طاقت کی علامت ہے ، عزت کا ذریعہ ہے اور انسان کا مقام بندوق سے متعین ہوتا ہے۔ اس سوچ کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ تعلیم، شعور، اخلاق، تحمل اور گفت و شنید جیسی اقدار کمزور پڑ جاتی ہیں۔ اسلحہ کلچر نہ صرف جرائم کو فروغ دیتا ہے بلکہ تعلیمی اداروں، مساجد، مدارس ، بازاروں اور عوامی مقامات پر خوف اور بے یقینی کا ماحول پیدا کرتا ہے۔ تعلیم یافتہ معاشروں کی بنیاد ہمیشہ امن، برداشت، قانون کی بالا دستی اور شعور پر رکھی جاتی ہے لیکن جہاں ہتھیار طاقت کی علامت بن جائیں وہاں علم بے وقعت ہو جاتا ہے استاد کی عزت ختم ہو جاتی ہے اور دلیل کی جگہ گولی لے لیتی ہے۔ چمن جیسے شہر میں جہاں کے لوگ مذہبی، قبائلی اور ثقافتی اقدار کے پابند رہے ہیں وہاں اسلحہ کلچر کی موجودگی نہایت تکلیف دہ ہے۔ یہاں جب کوئی شخص دولت حاصل کرتا ہے ، سرمایہ دار بنتا ہے یا کسی سیاسی اثرورسوخ میں آتا ہے تو سب سے پہلا اظہار وہ ہتھیاروں کی شکل میں کرتا ہے۔ بڑی گاڑیوں کے قافلے جن میں اسلحہ بردار لوگ بیٹھے ہوتے ہیں اور شہر کی سڑکوں پر فخر سے گھومتے ہیں جیسے یہ کوئی طاقت کا مظاہرہ ہو۔ یہ رویہ نہ صرف ایک افسوسناک سوچ کو جنم دیتا ہے بلکہ چمن جیسے شہر کی پرامن فضا کو بھی آلودہ کر دیتا ہے۔ عوام میں ایک انجانا خوف سرایت کر جاتا ہے اور نوجوانوں کے ذہن میں یہ تاثر بیٹھ جاتا ہے کہ اگر عزت چاہیے تو ہتھیار اٹھانا پڑے گا۔ یہ وہ خطرناک سوچ ہے جو کسی بھی مہذب اور تعلیم یافتہ معاشرے کے لیے زہر قاتل ہے۔ ہم بطور ایک باشعور اور تعلیم یافتہ شہری چمن میں اسلحہ کلچر کی اس نمائش کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ اسلحہ دکھا کر خوف پھیلانا ، گاڑیوں میں ہتھیار لٹکانا اور خود کو طاقتور ظاہر کرنا نہ صرف غیر اخلاقی عمل ہے بلکہ معاشرتی امن کے لیے سنگین خطرہ بھی ہے۔ ایسے سرمایہ دار اور بااثر افراد کو یہ سوچنا چاہیے کہ اگر انہوں نے دولت حاصل کی ہے تو اس دولت کا سب سے بہترین مصرف یہی ہے کہ وہ اپنی قوم کی فلاح و بہبود میں لگائیں۔ اسلحہ کلچر کو فروغ دینے کے بجائے انہیں تعلیمی، اسلامی اور پشتون ثقافتی اقدار کو اجاگر کرنا چاہیے۔ چمن میں ایسے تعلیمی اداروں کی ضرورت ہے جہاں نوجوان علم، شعور، اخلاق، امن اور بھائی چارے کی تعلیم حاصل کریں۔ اگر یہی سرمایہ دار طبقہ اپنی توجہ اسلحہ کی نمائش سے ہٹا کر اسکولوں، کالجوں اور دینی مدارس کی تعمیر و ترقی کی طرف مبذول کرے تو چمن ایک مثالی شہر بن سکتا ہے۔ اسلحہ کلچر نہ صرف امن کو نقصان پہنچاتا ہے بلکہ معیشت، سیاحت، تعلیم اور ثقافت جیسے شعبوں کو بھی متاثر کرتا ہے۔ کوئی بھی سیاح اس شہر کا رخ نہیں کرے گا جہاں ہر طرف ہتھیاروں کی نمائش ہو، ہر دوسرا شخص خوفزدہ ہو اور سڑکوں پر بندوق برداروں کا راج ہو۔ اسی طرح کوئی بھی والدین ایسے شہر میں اپنے بچوں کو تعلیم کے لیے نہیں بھیجیں گے جہاں تعلیمی ادارے محفوظ نہ ہوں۔ اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ چمن کے باشعور اور تعلیم یافتہ افراد مل کر اسلحہ کلچر کے خلاف آواز بلند کریں۔ ہر محفل، ہر فورم، ہر تعلیمی ادارے اور ہر مسجد سے یہ پیغام دیا جائے کہ ہتھیار ہماری شناخت نہیں بلکہ علم، امن، تہذیب اور ثقافت ہماری اصل پہچان ہے۔ چمن شہر کے سرمایہ دار طبقے کو چاہیے کہ وہ شہر کی بہتری کے لیے عملی اقدامات کریں۔ وہ اسلحہ رکھنے اور نمائش پر خرچ ہونے والی رقم کا ایک حصہ تعلیمی اداروں کی تعمیر و مرمت، اسکالرشپ اور تعلیمی سرگرمیوں پر خرچ کریں۔ وہ چاہیں تو شہر میں ایک خوبصورت اور جدید طرز کا تفریحی پارک قائم کر سکتے ہیں جہاں نوجوان وقت گزار کر مثبت سرگرمیوں کی طرف مائل ہوں۔ آج کے نوجوان کو ہتھیار نہیں بلکہ علم، تربیت اور ایک صاف ستھرا ماحول درکار ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ چمن آنے والے وقتوں میں ترقی کرے تو ہمیں فوری طور پر اسلحہ کلچر کی بیخ کنی کرنی ہوگی اور ایک تعلیمی، ثقافتی اور امن پسند فضا قائم کرنی ہوگی۔ اسلام نے بھی ہمیشہ امن، سلامتی اور بھائی چارے کا درس دیا ہے۔ حضور اکرم ﷺ نے جنگ کے میدان میں بھی بے جا خونریزی سے منع فرمایا اور عام زندگی میں تو اسلحہ کی نمائش اور بے جا استعمال کو سراسر فتنہ قرار دیا۔ اسلام کا پیغام یہ ہے کہ اگر کسی کے پاس طاقت ہے تو اسے دبا کر رکھنے کی بجائے عاجزی اور خدمت خلق میں استعمال کرے۔ اسی طرح پشتون روایات میں بھی جرگہ کا تصور امن، گفت و شنید اور مسئلہ حل کرنے کی علامت رہا ہے۔ ہتھیار صرف اس وقت اٹھایا جاتا تھا جب کوئی دوسرا راستہ باقی نہ رہے لیکن آج کے دور میں جبکہ ہر مسئلہ گفت و شنید سے حل کیا جا سکتا ہے وہاں اسلحہ کی کھلی نمائش صرف جہالت اور برتری کے جھوٹے زعم کا اظہار ہے۔ حال ہی میں ڈپٹی کمشنر ضلع چمن نے چمن کے بعض عمائدین کے نام ایک نوٹس جاری کی ہے کہ چمن میں اسلحہ کی نمائش پر پابندی ہے اور اسلحہ کی نمائش کی اجازت نہیں دی جاسکتی ۔ اس نوٹس جاری کرنے کا خیر مقدم کرتے ہیں اور چمن کے نوجوانوں کو بھی چاہیے کہ وہ اسلحہ کلچر کو مسترد کریں اور اپنی تمام تر توانائیاں تعلیم، سیاحت، ادب، ثقافت اور کھیلوں کی سرگرمیوں کی طرف مرکوز کریں۔ اگر ہم سب مل کر یہ عزم کر لیں کہ ہم اسلحہ کلچر کو اپنے معاشرے سے ختم کریں گے تو کوئی وجہ نہیں کہ چمن ایک بار پھر امن و آشتی کا گہوارہ نہ بن جائے۔ ہمیں ہر اس رویے کی مذمت کرنی ہوگی جو معاشرے میں خوف، تفریق اور بدامنی کو فروغ دیتا ہو۔ ہمیں ہر اس شخص کی حمایت کرنی ہوگی جو علم، امن، اور خدمت کے راستے پر چلتا ہو۔ ہم چمن کے ان تمام بااثر افراد، سرمایہ داروں، نوجوانوں اور تعلیم یافتہ طبقے سے دست بستہ اپیل کرتے ہیں کہ وہ ہتھیار کی جگہ قلم کو ترجیح دیں، خوف کی جگہ محبت کو عام کریں اور اسلحہ کی نمائش کی بجائے تعلیمی اداروں، ثقافتی مراکز اور تفریحی مقامات کے قیام میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔ یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں ترقی، امن اور عزت کی حقیقی منزل تک لے جائے گا۔ چمن کا مستقبل ہمارے آج کے فیصلوں پر منحصر ہے۔ ہمیں ابھی فیصلہ کرنا ہے کہ ہم اپنے بچوں کو ہتھیاروں کا ماحول دیں گے یا علم و امن کی فضا فراہم کریں گے۔ اور امید ہے کہ ہم سب ایک مہذب، تعلیم یافتہ اور پرامن چمن کے خواب کو شرمندہ تعبیر بنانے کے لیے متحد ہو کر جدوجہد کریں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں