
*عنوان: 7ستمبر 1974 تحفظ ختم نبوت:*
*از قلم: حسیبہ انور*
7ستمبر 1974 کا دن تاریخ اسلام کا ایک روشن دن ہے ، 7 ستمبر پاکستان کی دینی ،آئینی اور نظریاتی تاریخ کا وہ مبارک دن ہے ۔ جب پاکستان کی قومی اسمبلی نے متفقہ طور پر قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا ۔ یہ فیصلہ امت مسلمہ کے ایک طویل دینی ، قانونی جد وجہد کا نتیجہ تھا ، جسکا مقصد عقیدہ ختم نبوت کا تحفظ تھا ۔ تحریک ختم نبوت کا آغاز 19 ویں صدی کے آخر میں مرزا غلام احمد قادیانی جھوٹی نبوت کا دعویٰ کیا۔ خود کو مسلمان ظاہر کر کے مسلمانوں کو دھوکا دینا شروع کیا ۔ اس وقت برصغیر کے علماء ، عوام اور مشائخ نے اس فتنے کے خلاف آواز بلند کی ۔
عقیدہ ختم نبوت دین کی اساس ہے ، ختم نبوت ایمان کی بنیاد ہے۔ قرآن کریم میں ارشاد ہے ۔
” محمد تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ، بلکہ اللہ کے رسول اور خاتم النبیین ہیں ” ( سورۃ احزاب:40)
یہ عقیدہ ہر مسلمان کے دل کی دھڑکن ہے ، کوئ نبوت کا جھوٹا دعویٰ کرے تو دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ نبی کریم نے فرمایا: ” میرے بعد کوئی نبی نہیں”
7ستمبر کا دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ : عقیدہ ختم نبوت پر کوئ سمجھوتا نہیں ، اسکی حفاظت ہر مسلمان کا فریضہ ہے ۔ یہ دن ان علماء ، وکلاء ، عوام اور ان شہداء کو سلام پیش کرنے کا دن ہے جنہوں نے قربانیاں دی ۔
تحریک ختم نبوت میں لاکھوں مسلمانوں نے شرکت کی ، کئیں شہید ہوئے ، علماء نے قیدو بند کی صعوبتیں برداشت کی ،
خاص طور پر خواتین نے بھی اپنا بھر پور کردار ادا کیا ، اسمبلی اور مناظر گاہوں میں مرد حضرات کا اپنا کردار نمایاں تھا ، لیکن ! پس پردہ خواتین کی قربانیاں ، دعائیں اور جذباتی وابستگی اس تحریک کی روح تھی۔ انہوں نے خاموشی سے وہ کردار ادا کیا جو میدان جنگ میں سپاہیوں کو حوصلہ دیتا تھا ،
اپنی اولاد کو ختم نبوت کی عظمت سکھائیں، معاشرے کو باطل فتنوں سے بچائیں ، دین کی بقاء کے لئے اور حضور کی عزت پر ہر وقت جان مال تیار رہیں۔
یہی اصل خاتون مسلمہ کا کردار ہے ! خاموش مگر مؤثر ،پس پردہ مگر فیصلہ کن :
کہ تمام مکاتب فکر کے مرد حضرات نے اتحاد و یکجہتی کی شاندار مثال قائم کی اور قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا ، جو تاریخ اسلام اور تاریخ پاکستان کا سنہری باب ہے ۔
یہ کردار آج بھی ھم سے تقاضا کرتا ہے کہ ھم ختم نبوت کے تحفظ کے لئے بیدار رہیں ، باطل فتنوں سے بچائیں ، اور امت کو جوڑنے والے بنیں ناکہ توڑنے والے ، علماء کرام نے تحریک کی قیادت کی ، علمی و فکری محاذ پر قادیانیت کے باطل کے باطل عقائد کو رد کیا ۔
حضرت مفتی محمود ،
مولانا عبد الحکیم ،
شاہ احمد نورانی ،
جیسے عظیم علماء نے پارلیمنٹ میں مدلل انداز سے قادیانیت کو بے نقاب کیا ۔
علمی مقالات، کتب اور دلائل کے ذریعے عوام میں شعور بیدار کیا گیا۔
29 مئی 1974 کو ربوہ ریلوے اسٹیشن پر چناب نگر ایکسپریس کے ذریعے سفر کرنے والے ملتان نشتر میڈیکل کالج کے طلباء پر قاتلانہ حملہ کیا۔
ربوہ واقعے کے بعد طلبہ کی جدوجہد نے تحریک کو نئی روح دی۔
نوجوان سڑکوں پر نکلے، جلسے کیے، پوسٹرز لگائے، لٹریچر تقسیم کیا، اور پرامن احتجاجسے حکومت کو سنجیدگی پر مجبور کیا۔
عوام الناس نے کاروبار، روزگار اور آرام چھوڑ کرعقیدہ ختم نبوت ﷺ کے لیے قربانیاں دیں۔
گرفتاریاں، تشدد، جیلیں… سب کچھ برداشت کیا مگر حق سے پیچھے نہ ہٹے۔
اس تحریک میں *میڈیا و صحافت کا کردار* اگرچہ اسٹیج یا منبر پر براہِ راست نہ تھا، لیکن *پسِ پردہ یہ کردار اتنا ہی مؤثر، جاندار اور تاریخی* ہے۔
*تحریک کی آواز عوام تک پہنچائی:*
اس وقت اخبارات ہی واحد ذریعہ تھے جو قوم کو باخبر رکھتے تھے۔ صحافیوں نے جلسوں، جلوسوں، گرفتار مظاہرین، اور پارلیمنٹ کی کاروائی کو روزانہ کی بنیاد پر نمایاں کیا۔
بعض مذہبی جرائد اور اخبارات نے *خصوصی شمارے* شائع کیے جن میں:
– قادیانی عقائد کا تفصیلی رد
– علما کی تقاریر
– تاریخی پس منظر
– امت مسلمہ کا متفقہ مؤقف
یہ سب کچھ عام فہم انداز میں عوام تک پہنچایا گیا،
ملک کے نامور کالم نگاروں نے قادیانیت کو ایک *غیر اسلامی فتنہ* قرار دیا اور واضح انداز میں حکومت پر زور دیا کہ اسے غیر مسلم قرار دیا جائے۔
*اس دور میں قادیانی لابی اور غیر ملکی دباؤ کے باعث کچھ صحافیوں کو *دھمکیاں، مالی نقصان یا دباؤ* کا سامنا بھی کرنا پڑا، مگر کئی بہادر صحافیوں نے *قلم کی حرمت کو بیچنے سے انکار کر دیا*۔
جب قومی اسمبلی میں قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کا تاریخی فیصلہ آیا،
تو میڈیا نے *اسے قوم کی کامیابی* کے طور پر پیش کیا۔
صحافت نے اسے صرف سیاسی فیصلہ نہیں بلکہ *اسلامی فتح* کے طور پر اجاگر کیریں
– میڈیا صرف تفریح یا سیاست کا ذریعہ نہیں،
بلکہ *دین، عقیدہ، نظریہ اور شعور کا محافظ* بھی ہے۔
– آج بھی صحافت پر لازم ہے کہ *باطل فتنوں، قادیانیت، لادینیت اور گستاخی کے خلاف* کھڑے ہوں۔
– سچ لکھنے کا حوصلہ، اور حق کے لیے آواز بلند کرنا
یہی وہ جذبہ ہے جو 1974 کی صحافت کو *یادگار اور باوقار* بناتا ہے ۔