*عنوان :* *”اردو ناگزیر ہے “**تحریر:* *نوید شہزاد*
ہندوستان میں دوسرے ممالک سے لوگ مختلف مقاصد کے تحت، اور فاتحین آتے رہے. یہ اپنے ساتھ اپنی زبانوں کو بھی لائے. ان تمام زبانوں اور مقامی باشندوں کی زبانوں کے اشتراک سے ایک نئی زبان اردو وجود میں آئی. چونکہ اس زبان کو لانے اور بنانے والے اکثر مسلمان تھے، اس لیے ابتدا اسے” مسلمانی” بھی کہا جاتا تھا. لیکن اسے ہندوستان کے تمام لوگ ہی بولا کرتے تھے. 1837 میں فارسی کی جگہ اردو کو عدلیہ اور ریاست کی زبان قرار دیا گیا تو کسی نے اعتراض نہ کیا. مغلیہ سلطنت کے زوال پر ہندو اردو کو حملہ آوروں کی زبان سمجھنے لگے اور انگریزوں نے حکومت مسلمانوں سے چھینی تھی اس لیے دونوں نے مل کر مسلمانوں کی زبان کو چھیننا چاہا اور اس مقصد کیلئے انیسویں صدی کے شروع میں راجہ رام موہن، رائے راجہ شو پرشاد، لکشمن سنگھ، ہریش چندرا، اور بنکام چترجی نے نئی زبان “ہندی” کی بنیاد رکھی جس میں عربی، فارسی اور ترکی کے الفاظ کو حذف کر کے سنسکرت کے الفاظ ڈال دئیے گئے. اور اسکا رسم الخط عربی سے بدل کر سنسکرت کر دیا گیا. 1857 کی جنگ آزادی کے بعد ہندوؤں نے موقع کو غنیمت جانا اور 1867 میں بنارس کے ہندوؤں نے حکومت کو درخواست دی کہ اردو کی جگہ ہندی کو سرکاری و دفتری زبان قرار دیا جائے. مختصراً میرے نزدیک ہندی اردو تنازع نے ہی مسلمانوں اور ہندوؤں کے راستے جدا کیے، یہ ہی تنازع ہندوؤں سے علیحدگی کا باعث بنا اور پاکستان کے قیام کی صورت میں اختتام کو پہنچا. اردو زبان بلاشبہ دنیا کی شیریں ترین زبانوں میں سے ایک ہے. اردو تو گویا ایک آسمانی زبان ہے. 663 کی تعداد میں اردو ترجمہ و تفسیر قرآن ہیں . بعض زبانیں عربی و انگریزی کی طرح زندہ و آباد ہیں. اور بعض پالی و سنسکرت کی طرح مردہ و ویران ہیں. فارسی کا مرکز ایران ہے. ترکی کا گہوارہ ترکستان ہے. پشتو کا پشت پناہ افغانستان ہے. لیکن چھ سو تریسٹھ (663) کی تعداد دیکھ کر سب کی عقل حیران ہے. چونکہ اردو دنیا کی چوتھی یا پانچویں بڑی زبان ہے اس لیے علماء کرام نے اردو زبان کو دعوت و تبلیغ کا ذریعہ بنایا، اور کمال حیرت کی بات یہ ہے کہ علماء حق نے اردو کی مختصر سی تاریخ میں دین اسلام اور اسلامی تعلیمات کا وہ لافانی ذخیرہ جمع کر دیا جو عربی زبان کے بعد دنیا کی کسی اور دوسری زبان میں نہیں. اردو صرف غالب، انیس، دبیر، سودا، میر، جوش، فیض، ن م راشد، میرا جی، احسان دانش، اختر شیرانی، فانی، حفیظ جالندھری، جگر اور حسرت جیسے شعراء ہی سے زندہ نہیں بلکہ اسے اقبال جیسا شاعر بھی ملا جس کے افکار تازہ سے مسلمان نسلوں میں نمود ہے. جس زبان کو اقبال جیسا شاعر ملا اس کی تازگی کبھی ماند نہیں پڑ سکتی… اقبال کی انقلاب آفریں اسلامی شاعری کے علاوہ اردو زبان کو علماء اسلام نے اپنی تحریروں سے مالا مال کیا، اسے مولانا حالی، شبلی نعمانی، حکیم الامت حضرت تھانوی، ابوالکلام آزاد، سید سلیمان ندوی، شبیر احمد عثمانی، عبدالماجد دریابادی، مناظر احسن گیلانی، ابو الحسن علی ندوی، جیسے یگانہ روز گار اہل علم نے اپنے مضامین، کتابوں اور تحریروں سے مالا مال کیا اور شاید ہی اسلامی علوم کا کوئی پہلو ایسا ہو جس پر اس خطے کے ممتاز علماء نے قلم نہ اٹھایا ہو، برصغیر کے اس خطے میں پھیلے ہوئے لاکھوں دینی مدارس نے اردو کو اپنا واحد ذریعہ تعلیم بنایا اور ان مدارس نے اپنی دینی خدمات کے اظہار کے لئے اردو زبان کو سب سے بڑا محور بنایا! جس کی وجہ سے اسلام کا وہ درخشاں کتب خانہ تیار ہوا جس کی نظیر عربی زبان کے بعد کسی دوسری زبان میں نہیں ملتی. یہ حقیقت اردو کی شاندار تاریخ ہی کی ترجمان نہیں، اس کے تابناک مستقبل کی بھی ضامن ہے.