0

ذہین لوگ زیادہ سنتے ہیں، کم بولتے ہیں /تحریر /علی کاکڑ

علی کاکڑ
علی کاکڑ

ذہین لوگ زیادہ سنتے ہیں، کم بولتے ہیں
تحریر: علی کاکڑ

انسان کی کامیابی کا انحصار صرف علم یا تجربے پر نہیں ہوتا بلکہ اس بات پر بھی ہوتا ہے کہ وہ دوسروں کو کتنا سن سکتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ “اگر آپ ذہین ہونا چاہتے ہیں تو 70 فیصد سنیے اور صرف 30 فیصد بولیے۔” یہ جملہ بظاہر سادہ ہے، مگر اس کے اندر زندگی کا ایک گہرا فلسفہ پوشیدہ ہے۔

جب ہم زیادہ سنتے ہیں تو ہم سیکھتے ہیں، سمجھتے ہیں اور دوسروں کے نقطۂ نظر کو جاننے کی صلاحیت پیدا کرتے ہیں۔ ایک خاموش اور متوجہ سننے والا شخص دراصل ایک بالغ، باشعور اور ذہین انسان ہوتا ہے۔ وہ جلدی فیصلے نہیں کرتا بلکہ بات کو سمجھ کر جواب دیتا ہے۔ یہی عادت آگے چل کر دانشمندی میں بدل جاتی ہے۔

اس کے برعکس، جو لوگ ہر وقت بولنے کی عادت رکھتے ہیں، وہ اکثر دوسروں کی رائے کو اہمیت نہیں دیتے۔ نتیجتاً وہ سیکھنے کے مواقع کھو دیتے ہیں۔ ایک مفکر کا قول ہے: “Wisdom begins when you start listening.” یعنی دانائی کی شروعات سننے سے ہوتی ہے۔

زندگی میں کامیابی حاصل کرنے والے زیادہ تر لوگ وہی ہوتے ہیں جو گفتگو سے پہلے سننے کو ترجیح دیتے ہیں۔ چاہے دفتر ہو، تعلیمی ادارہ ہو یا گھر — ایک اچھا سامع ہمیشہ احترام پاتا ہے، کیونکہ وہ بولنے سے پہلے سمجھتا ہے۔

لہٰذا اگر آپ واقعی ذہین، دانشمند اور مؤثر انسان بننا چاہتے ہیں، تو اپنی باتوں سے زیادہ دوسروں کی باتوں کو سنیے۔ یاد رکھیے، زبان سے ادا ہونے والے الفاظ محدود ہوتے ہیں، مگر کانوں سے سنی جانے والی باتیں ایک نئی دنیا کھول دیتی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں