خاموش صدائیں/تحریر/پروفیسر فضل فطرت 0

خاموش صدائیں/تحریر/پروفیسر فضل فطرت

خاموش صدائیں/تحریر/پروفیسر فضل فطرت

خاموش صدائیں — سرزمینِ انبیا کی پکار
؎ خونِ صد معصوم سے روشن ہے یہ داستان
اے امتِ مسلمہ! کب تک رہے گی خاموش یہ اذان
یہ وہ زمین ہے جسے تاریخ ارضِ انبیا کہتی ہے۔ یہاں حضرت ابراہیمؑ نے توحید کے لیے آگ کو قبول کیا، حضرت موسیٰؑ نے فرعون کی سنگدل طاقت کے خلاف حق کی آواز بلند کی، حضرت عیسیٰؑ نے رحم، محبت اور عدل کی تعلیم دی۔ یہی خطہ عدل و انصاف کی شہادتوں سے جگمگاتا رہا۔
لیکن آج اسی سرزمین سے ایک اور آواز اٹھتی ہے۔ یہ کوئی بلند نعرہ نہیں، نہ ہی شوریدہ ہجوم کی للکار ہے۔ یہ ایک دبکی ہوئی، تھمی ہوئی، لرزتی ہوئی آواز ہے۔ یہ صدا ان معصوم بچوں کی ہے جو یہودی ظلم و ستم کی بھینٹ چڑھ کر اپنی جانیں قربان کر گئے۔ یہ صدا ان ماؤں کی ہے جن کے بازو خالی ہو چکے ہیں، اور ان بہنوں کی ہے جن کے گھروں کی چادریں اجڑ گئیں۔
یہ خاموشی سب کچھ کہہ دیتی ہے۔ ملبے کے نیچے دبے وہ معصوم لب جو کبھی قہقہوں سے گونجتے تھے، اب خون آلود سکوت میں لپٹے ہیں۔ اسکول کی گھنٹیوں کی آواز گم ہو گئی، بازار کی ہنسی ماند پڑ گئی، کھلونوں کی چھوٹی چھوٹی ٹن ٹن اب صرف یادوں میں باقی ہے۔ یہ سب چھوٹی چھوٹی آوازیں، یہی روزمرہ کی رونقیں — ان سب کا قتلِ عام ہو رہا ہے۔
یاد کیجیے، ایک ننھی بچی نے ملبے تلے دم توڑنے سے پہلے کہا تھا: “میں اللہ کو سب کچھ بتاؤں گی۔” یہ الفاظ تاریخ کے اوراق پر ایک انمٹ نوٹ ہیں۔ یہ بچی نہ عالم تھی نہ خطیب، لیکن اس کی معصوم زبان سے نکلی ہوئی پکار امتِ مسلمہ کے لئے سب سے بڑا سوال ہے: کیا ہم صرف تماشائی ہیں؟ کیا ہم سننے کے بعد بھول جانے والے لوگ ہیں؟
اور پھر ایک تلخ طنز بھی ہے۔ ہم وہ امت ہیں جو جمعہ کے خطبوں میں ایک جسم ہونے کا دعویٰ کرتی ہے، لیکن جب جسم کا ایک عضو کٹتا ہے تو باقی جسم خاموش رہتا ہے۔ ہم وہ قوم ہیں جو اپنے نبی ﷺ کی محبت میں اشک بہاتی ہے، مگر ان کے وارثوں کی چیخوں پر کان بند کر لیتی ہے۔ ہماری بیداری صرف سوشل میڈیا پوسٹ تک محدود ہو جاتی ہے۔
کیا یہ وہی امت ہے جس نے بدر اور احد جیسے معرکے رقم کیے؟ یا یہ وہی ہجوم ہے جو اپنی غفلت اور بے عملی سے ظلم کو اور مضبوط کر رہا ہے؟
یہ خموش صدائیں ہم سے سوال کر رہی ہیں۔ وہ معصوم بچی، وہ غمزدہ ماں، وہ ویران گھر — سب ہم سے پوچھ رہے ہیں کہ ہم کب تک تماشائی رہیں گے۔ تاریخ ہمیں طنز کے ساتھ یاد کرے گی:
“یہ وہ امت تھی جو خانہ کعبہ کے طواف پر تو فخر کرتی تھی، لیکن مسجدِ اقصیٰ کی چیخوں پر خاموش رہی۔”
آج ضرورت ہے کہ یہ امت اپنے خوابِ غفلت سے بیدار ہو۔ یہ خاموش صدائیں ہمارا امتحان ہیں۔ اگر ہم نے اب بھی ایک نہ ہوئے، تو کل یہ بچے ہمارے خلاف گواہی دیں گے، اور کہیں گے:
“ہم نے اللہ کو سب کچھ بتا دیا، لیکن ہماری امت خاموش رہی۔”

خاموش صدائیں/تحریر/پروفیسر فضل فطرت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں