0

سینیٹر مشتاق! جو کہا، وہ کر دکھایا/تحریر/عابد محمود عزام

سینیٹر مشتاق! جو کہا، وہ کر دکھایا/تحریر/عابد محمود عزام

سابق سینیٹر مشتاق احمد خان کی جرات، ہمت، استقامت اور بہادری کو دیکھ کر رشک آتا ہے۔ ہر آسائش سے بھرپور زندگی گزارنے والا یہ بوڑھا شیر صرف مظلوموں کی آواز بننے کے لیے گلوبل صمود فلوٹیلا کا حصہ بن کر ایک پرخطر راستے پر نکل کھڑا ہوا۔ بین الاقوامی پانیوں میں صمود فلوٹیلا کے جہازوں کو گھیر کر ان پر خارشی کیمیکل اور اسٹن گرینیڈ برسائے گئے۔ کمانڈوز نے نہتے امدادی کارکنوں پر حملہ کیا، انہیں گرفتار کیا، ہتھکڑیاں لگائیں، پاؤں میں زنجیریں ڈالیں، آنکھوں پر پٹیاں باندھیں، گنیں تانیں، کتے چھوڑے اور قیدیوں کو پانی، ہوا اور طبی سہولیات سے محروم رکھا۔

رہائی کے بعد مشتاق احمد خان اور دیگر قیدیوں نے ان مظالم کی تفصیلات بیان کیں۔ مشتاق احمد خان نے بتایا کہ حراست کے دوران قیدیوں نے تین دن بھوک ہڑتال بھی کی۔ رہائی کے بعد انہوں نے اعلان کیا: “ہم سرزمین انبیاء کی آزادی کی جدوجہد جاری رکھیں گے، گا۔زہ کی ناکہ بندی توڑیں گے اور بار بار جائیں گے۔ گا۔زہ کو بچانے کے لیے ہر کوشش کریں گے۔”

یہ وہی مشتاق احمد خان ہیں جنہیں ماضی میں بھی سرزمین انبیاء کے حق میں احتجاج کرنے پر پاکستان میں موجودہ حکومت دو مرتبہ گرفتار کر چکی ہے۔ اب انہیں ازر۔ ایل کی بدنامِ زمانہ جیل میں قید کا سامنا کرنا پڑا، مگر اس تمام صورتحال کے باوجود انہوں نے جس جرات، حوصلے اور استقامت کا مظاہرہ کیا، وہ قابلِ تحسین ہے۔ انہوں نے واقعی جو کہا، وہ کر دکھایا۔ یہ ثابت کیا کہ کچھ سیاستدان محض گفتار کے غازی نہیں ہوتے، بلکہ عمل کے میدان میں بھی اترنے کی ہمت رکھتے ہیں۔ مشتاق احمد خان کو اس سفر سے پہلے بخوبی اندازہ تھا کہ راستہ کٹھن ہے، خطرات موجود ہیں، حتیٰ کہ جان جانے کا بھی اندیشہ ہے، مگر اس کے باوجود وہ نکل کھڑے ہوئے۔

انہوں نے اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر سرزمین انبیاء سے اپنی وابستگی کا عملی ثبوت دیا۔ اگرچہ ازر۔ایل نے کشتیوں کو منزل تک پہنچنے نہیں دیا، مگر یہ سفر ہرگز رائیگاں نہیں گیا۔ یہ فلوٹیلا اس بات کا پیغام بن کر دنیا کے ہر گوشے تک پہنچا کہ اہلِ غزہ اکیلے نہیں ہیں۔ اس امت میں آج بھی ایسے دلیر، باحمیت اور باشعور لوگ موجود ہیں جو ظلم کے سامنے ڈٹنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ مشتاق احمد خان اور ان جیسے حوصلہ مند انسانوں کو زنجیروں میں قید نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ ان کا عزم، جرات اور آواز تاریخ کے صفحات پر ہمیشہ زندہ رہے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں