Apa Munza Javed 0

عالمی یومِ خواتین/ عورت کا وقار، کردار اور ذمہ داریاں/آپا منزہ جاوید اسلام آباد

8 مارچ کو دنیا بھر میں یومِ خواتین منایا جاتا ہے۔ اس دن کا مقصد عورت کے مقام اس کی جدوجہد اور معاشرے میں اس کے کردار کو تسلیم کرنا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ عورت صرف حقوق کا مطالبہ کرنے والی ہستی نہیں بلکہ ذمہ داریوں کو نبھانے والی ایک عظیم کردار کی مالک بھی ہے۔ اگر ہم معاشرے کی بنیادوں پر غور کریں تو اس کی تعمیر اور مضبوطی میں عورت کا کردار نہایت اہم اور بنیادی نظر آتا ہے۔
عورت سب سے پہلے ماں کے روپ میں ایک نئی نسل کی پرورش کرتی ہے۔ ماں کی گود وہ پہلی درسگاہ ہے جہاں بچے کو محبت، اخلاق، صبر اور انسانیت کا سبق ملتا ہے۔ ایک باشعور اور باکردار ماں اپنے بچوں کی تربیت کے ذریعے ایک بہتر معاشرے کی بنیاد رکھتی ہے۔ ماں کے الفاظ اس کا اندازِ گفتگو اور اس کا رویہ بچوں کی شخصیت پر گہرا اثر چھوڑتا ہے۔
عورت اولاد کے لیے ایک درسگاہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ اسے چاہیے کہ اپنے وقار، کردار اور اخلاق کو اس قدر مضبوط اور پختہ بنائے کہ بچے اور بچیاں اسے اپنا آئیڈیل سمجھیں۔ مائیں اپنے کردار اور عمل سے اپنے بچوں کو یہ سکھائیں کہ زندگی کس طرح عزت، دیانت اور صبر کے ساتھ گزاری جاتی ہے۔
ماں کو چاہیے کہ وہ ہمیشہ اچھی بات کرے، صبر اور حوصلے کو اپنے مزاج کا حصہ بنائے۔ جب بولے تو خوش اخلاقی اور نرمی کے ساتھ بولے اور جب سمجھائے تو محبت اور دلیل کے ساتھ سمجھائے۔ ماں کو ہر لمحہ یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ اس کے سپرد اولاد کی تربیت کی ایک عظیم ذمہ داری ہے اور اس کی ایک ایک بات بچوں کی شخصیت کو سنوارنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
اسی طرح عورت بیٹی کے روپ میں گھر کی رونق اور رحمت ہوتی ہے۔ بیٹی اپنے والدین کے دلوں کا سکون اور گھر کے ماحول کی خوشبو ہوتی ہے۔ وہ اپنے حسنِ سلوک، ادب اور محبت سے گھر کے ماحول کو خوشگوار بناتی ہے۔ ایک نیک اور باادب بیٹی اپنے کردار سے نہ صرف اپنے گھر بلکہ پورے خاندان کا نام روشن کرتی ہے۔
عورت جب بیوی بنتی ہے تو وہ اپنے شریکِ حیات کی رفیق اور ہم سفر بن جاتی ہے۔ زندگی کے نشیب و فراز میں وہ اپنے شوہر کے ساتھ کھڑی رہتی ہے مشکلات میں حوصلہ دیتی ہے اور خوشیوں میں شریک ہوتی ہے۔ ایک سمجھدار اور بااخلاق عورت اپنے حسنِ سلوک اور برداشت سے گھر کے ماحول کو سکون اور محبت سے بھر دیتی ہے۔
عورت معاشرے کا ایک مضبوط ستون ہے وہ کمزور نہیں ہے۔ اگر عورت کمزور ہوتی تو اللّٰه تعالیٰ اسے ایک معصوم بچے کی پرورش اور تربیت جیسی عظیم ذمہ داری نہ سونپتے۔ درحقیقت عورت کے اندر بے شمار صلاحیتیں موجود ہوتی ہیں ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ وہ اپنی ان صلاحیتوں کو پہچانے اور اپنی اصل طاقت کو سمجھے۔ اسے یہ جان لینا چاہیے کہ وہ صرف بچوں کی پرورش کرنے والی نہیں بلکہ ان کی نگہبان، رہنما اور محافظ بھی ہے۔
وقت کی ایک اہم ضرورت یہ بھی ہے کہ عورت کو تعلیم کے ساتھ ساتھ عملی اور دفاعی مہارتیں بھی سکھائی جائیں۔ اسے اپنے بچاؤ اور اپنے خاندان کے تحفظ کے طریقے آنا چاہئیں۔ مثال کے طور پر کراٹے، گھڑ سواری، سائیکل اور گاڑی چلانا جیسی مہارتیں اس کے اعتماد میں اضافہ کرتی ہیں۔ اسی طرح اگر ضرورت پیش آئے تو وہ لاٹھی یا دیگر دفاعی طریقوں کے ذریعے اپنا اور اپنے اہلِ خانہ کا تحفظ کر سکے۔
اس کے ساتھ ساتھ عورت کو ابتدائی طبی امداد یعنی فرسٹ ایڈ کا علم بھی ہونا چاہیے تاکہ کسی چوٹ یا اچانک تکلیف کی صورت میں وہ فوری طور پر اپنی یا دوسروں کی مدد کر سکے۔ دراصل ایک باشعور عورت کو زندگی کے مختلف پہلوؤں سے آگاہ ہونا چاہیے تاکہ وہ ہر مشکل وقت میں ثابت قدم رہ سکے۔
یوں عورت صرف ماں، بیٹی یا بہن ہی نہیں بلکہ ایک رہنما، ایک محافظ، ایک مددگار اور ایک مضبوط ساتھی بھی بن سکتی ہے۔ جب عورت اپنی صلاحیتوں کو پہچان لیتی ہے تو وہ نہ صرف اپنے خاندان بلکہ پورے معاشرے کے لیے طاقت اور استحکام کا باعث بن جاتی ہے۔
یومِ خواتین ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ عورت کی عزت اور قدر صرف ایک دن کی تقریبات تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ اسے معاشرے میں ہمیشہ احترام، تحفظ اور اعتماد دیا جانا چاہیے۔ اسی کے ساتھ عورت کو بھی چاہیے کہ وہ علم، کردار اور خدمت کے ذریعے اپنی ذمہ داریوں کو سمجھتے ہوئے معاشرے کی بہتری میں اپنا مثبت کردار ادا کرے۔
اگر عورت اپنے اندر محبت، صبر، برداشت اور تربیت کے ان اوصاف کو زندہ رکھے تو وہ نہ صرف ایک گھر بلکہ پورے معاشرے کو سنوار سکتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایک باکردار عورت ہی ایک مہذب، مضبوط اور خوشحال معاشرے کی بنیاد ہوتی ہے.
لکھو کے ساتھ لکھو

یوم خواتین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں