ذمہ داری بظاہر ایک لفظ ہے، ایک ایسا لفظ جو سننے میں بہت سادہ لگتا ہے، مگر عملی زندگی میں یہ ریاضی کے کسی انتہائی مشکل سوال سے کم نہیں۔ ہم انسان نہ صرف اسے جانتے ہیں ؛ بلکہ مانتے بھی ہیں۔ اس پر تقریریں بھی کرتے ہیں، مگر جیسے ہی اس پر عمل کرنے کا وقت آتا ہے، تو اچانک حالات، موسم، نیند، موبائل، اور قسمت سب مل کر اس کے خلاف سازش کرنے لگتے ہیں۔ اصل میں ذمہ داری کسی کتاب کا خشک باب نہیں کہ طوہا کرھا ایک بار پڑھ لیا جائے؛ بلکہ یہ تو زندگی کا وہ امتحان ہے جس کا پرچہ ہر روز آتا ہے؛ اور مزے کی بات یہ ہے کہ ہم میں سے اکثر بغیر تیاری کے ہی امتحان ہال میں پہنچ جاتے ہیں۔ پھر جب نتیجہ خراب آتا ہے تو ہم بڑے سکون سے کہتے ہیں: “پیپر ہی آؤٹ آف سلیبس تھا!”
ہمارے معاشرے میں ذمہ داری کا تصور بھی خاصا دلچسپ ہے۔ یہاں ہر شخص ذمہ داری کے بارے میں مکمل آگاہی رکھتا ہے — خاص طور پر جب بات دوسروں کی ہو۔ اگر کوئی دکاندار کم تول دے، کوئی استاد دیر سے آئے، یا کوئی ڈرائیور غلطی کرے تو فوراً ہمارے اندر کا “ذمہ داری ایکسپرٹ” جاگ اٹھتا ہے۔ ہم لمبی لمبی باتیں کرتے ہیں، اصول بیان کرتے ہیں، اور بعض اوقات تو ایسا لگتا ہے جیسے ہم خود ذمہ داری کے عالمی سفیر ہوں؛ لیکن جیسے ہی معاملہ اپنی ذمہ داری کا آتا ہے تو ہمیں یہ دنیا کا مشکل ترین کام لگتا ہے۔
گھر کے ماحول میں ذمہ داری کی سب سے خوبصورت مثالیں ملتی ہیں۔ اگر کوئی کام رہ جائے تو فوراً تحقیق شروع ہو جاتی ہے: “یہ کس کی ذمہ داری تھی؟” یہ سوال اتنی سنجیدگی سے پوچھا جاتا ہے جیسے کسی بین الاقوامی کمیشن کی رپورٹ تیار ہو رہی ہو۔ لیکن جیسے ہی کوئی کہتا ہے “آپ کر لیں”، تو سب کی مصروفیات اچانک بڑھ جاتی ہیں۔
دفاتر میں تو ذمہ داری ایک مکمل “ٹرانسفر پالیسی” کے تحت چلتی ہے۔ ایک فائل ایک میز سے دوسری میز تک سفر کرتی رہتی ہے، جیسے وہ دنیا کا چکر لگانا چاہتی ہو۔ اور “دنیا گول ہے” کے مصداق لوٹ کر وہیں آ جاتی ہے جہاں سے اس کا سفر شروع ہوا تھا۔ ہر شخص اسے دیکھ کر کہتا ہے: “یہ میرا کام نہیں ہے، آگے بھیج دیں۔” یوں وہ فائل آخرکار اتنی تجربہ کار ہو جاتی ہے کہ اگر اسے بولنے کی اجازت مل جائے تو شاید پورا سسٹم ہی بے نقاب کر دے۔
تعلیم کے میدان میں بھی یہی کہانی چلتی ہے۔ طالب علم کہتے ہیں کہ استاد اچھا نہیں پڑھاتا، اور استاد کہتے ہیں کہ طالب علم محنت نہیں کرتے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ذمہ داری بیچ میں کھڑی سوچ رہی ہوتی ہے: “آخر مجھے اپنائے گا کون؟”
من حیث القوم ہم سب اپنی اپنی جگہ بے ذمہ دار ہیں۔ ملک میں کچھ گڑ بڑ ہو تو حکومت ذمہ دار ہے جبکہ حکومت کے نزدیک اس کی ذمّہ داری اپوزیشن پر عائد ہوتی ہے۔ دفتر میں کام انجام نہ پانے کا ذمہ دار ہمیشہ ماتحت ہوتا ہے ؛ جبکہ دفتر کی ذمہ داری افسران پر عائد ہوتی ہے۔ امتحان میں نمبر اچھے آ جائیں تو ہماری محنت اور اس کا پھل؛ جبکہ نمبر کم آنے کی صورت میں ذمہ داری ، اساتذہ سے لے کر سوشل میڈیا، واپڈا، محلے والے ، دوست، موسم، آب و ہوا یہاں تک کہ اس پوری کائنات پر دریہ بدرجہ عائد ہوتی ہے۔
سب سے دلچسپ پہلو یہ ہے کہ ہم ذمہ داری کو ہمیشہ ایک “بوجھ” سمجھتے ہیں۔ جیسے یہ کوئی ایسا وزنی سامان ہو جسے اٹھاتے ہی انسان کی خوشیاں ختم ہو جائیں گی۔ حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ ذمہ داری دراصل وہ چیز ہے جو انسان کو ترتیب دیتی ہے، اس کے اندر اعتماد پیدا کرتی ہے، اور اسے دوسروں کی نظر میں قابلِ بھروسا بناتی ہے۔ یہ بوجھ نہیں، بلکہ وہ بنیاد ہے جس پر ایک مضبوط شخصیت کھڑی ہوتی ہے۔ ہم ذمہ داری ہمیشہ دوسروں پر عائد کرتے ہیں۔ اور پاکستانی معاشرے سب سے زیادہ ذمہ دار ہوتی ہے ” گھر کی بہو”
سب سے پہلے تو اس پر گھر کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ ساس سسر کی ذمہ داری بھی اسی پر عائد ہوتی ہے۔ وہ تو اللہ بھلا کرے مولوی صاحبان کا جنہوں نے بہوؤں کو بتا دیا ہے کہ ساس سسر کی خدمت بہو کی ذمہ داری نہیں ہے؛ لیکن پھر بھی اس بوجھ سے بہوؤں کو ابھی تک آزادی نہیں ملی۔ ویسے دیکھا جائے تو ظلم ہی ہے کہ گھر میں مہمان آجائیں ، بہو کی ذمہ داری؛ بچوں کی تربیت، بہو کی ذمہ داری؛ ماسی نے کام ڈھنگ سے نہیں کیا تو ذمہ دار بہو ہے، نند کا رشتہ نہیں ہو رہا تو بھی بہو ذمہ دار ہے۔ دیور کا چھیالیسواں سچا عشق ناکام ہو گیا ذمہ دار بھابھی ہے۔ گھر میں کوئی بیمار پڑ گیا، ذمہ دار بہو ہے؛ اسے بیمار اور تیمار دار دونوں کی دیکھ بھال کرنی ہے۔ گھر میں ، گلی محلے، خاندان میں ،شہر میں ، ملک میں حتی کہ اس دنیا میں کچھ بھی غلط ہو جائے ذمہ داری بہو پر عائد ہوتی ہے۔ کل ہی ایک ساس فرما رہی تھیں، ” اتنے تیز تو ایران کے میزائل بھی نہیں جتنی خیر سے ہماری بہو ہے۔” اور بہو بیچاری اتنی ہی غیر جانبدار ہوتی ہے جتنی کھلے سمندروں میں امریکی بحریہ.
اپنی اپنی نگاہ میں ہر شخص ہی ذمہ دار ہے، نہیں نہیں بہو جیسا ذمہ دار نہیں بلکہ حقیقتاً ایسا ہی ہے؛ مثلاً ہماری ہی بات لیجئے! ہم ایک نہایت ذمہ دار انسان ہیں۔ یہ بات ہم نے پورے یقین، اعتماد اور تھوڑی سی شرمندگی کے ساتھ کہی ہے؛ کیونکہ ابھی تک کسی اور نے اسے ماننے سے صاف انکار کیا ہوا ہے۔
ہماری ذمہ داری کا سب سے بڑا مسئلہ یہی ہے کہ وہ نظر نہیں آتی۔ بالکل ویسے ہی جیسے کچھ لوگوں کا پیار یا حکومت کی کارکردگی، موجود تو ہوتی ہے، مگر دکھائی نہیں دیتی۔سب سے پہلے تو یہ سمجھ لیجیے کہ ہم نے کبھی ذمہ داری کو عام لوگوں کی طرح نہیں سمجھا۔ عام لوگ کام وقت پر کر دیتے ہیں، جبکہ ہم کام کو اس وقت تک سنبھال کر رکھتے ہیں جب تک وہ “ایمرجنسی” نہ بن جائے۔ اس سے دو فائدے ہوتے ہیں:
ایک تو کام میں سنسنی پیدا ہو جاتی ہے، دوسرا ہمیں بھی ہیرو بننے کا موقع مل جاتا ہے؛ کیونکہ بہر حال وہ ہمارے ہی ہاتھوں اپنے انجام کو پہنچتا ہے۔ یہ سب ایک عام آدمی کے بس کی بات نہیں؛ حقیقتاً یہ اعلیٰ درجے کی ذمہ داری ہے۔ ہم نے اپنی ذمہ داری کو ایک اصول کے تحت ترتیب دے رکھا ہے:”کام وہی کرو، جو ناگزیر ہو جائے۔”
کیونکہ جو کام پہلے ہو جائے، اس میں وہ مزہ کہاں جو آخری لمحے کی گھبراہٹ میں ہوتا ہے؟
اصل مسئلہ یہ نہیں کہ ہم ذمہ داری کو نہیں سمجھتے، بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ ہم اسے “آج” کے بجائے “کل” پر ڈال دیتے ہیں۔ اور یہ “کل” ایک ایسا پراسرار دن ہے جو کبھی آتا ہی نہیں۔ ہم ہر روز یہی سوچتے ہیں کہ “کل سے سنجیدہ ہو جائیں گے”، مگر کل آ کر بھی یہی کہتا ہے: “بھائی، آج نہیں… کل سے!”
اگر ہم غور کریں تو ذمہ داری دراصل کوئی بڑی اور خوفناک چیز نہیں۔ یہ چھوٹے چھوٹے کاموں سے شروع ہوتی ہے — وقت پر اٹھنا، اپنا کام خود کرنا، وعدہ پورا کرنا، اور دوسروں پر الزام ڈالنے سے پہلے خود کو دیکھنا۔ مگر ہم ان چھوٹی چیزوں کو اتنا معمولی سمجھتے ہیں کہ یہی معمولی باتیں مل کر بڑی خرابی پیدا کر دیتی ہیں۔
آخر میں بات بہت سادہ ہے:
ذمہ داری وہ آئینہ ہے جس میں ہم دوسروں کو تو صاف دیکھتے ہیں، مگر خود کو دیکھنے سے کتراتے ہیں۔
اور جب تک ہم اس آئینے میں خود کو دیکھنا نہیں سیکھیں گے، تب تک نہ ہم بدلیں گے، نہ ہمارا معاشرہ۔
اور اگر ایک جملے میں ذمہ داری کو بیان کرنا ہو تو شاید یوں کہا جا سکتا ہے:
“ذمہ داری وہ کام ہے جس کے بارے میں ہم سب جانتے ہیں کہ کرنا چاہیے… بس انتظار اس بات کا کرتے ہیں کہ کوئی اور کر دے!”