Hafiz Bilal Basheer 0

امریکہ اور ایران جنگ بندی معاہدہ جنیوا پاکستان کی میزبانی میں/تحریر/حافظ بلال بشیر

گزشتہ ایک سال مشرقِ وسطیٰ اور عالمی سیاست کے لیے انتہائی کشیدہ اور غیر یقینی صورتحال سے بھرپور رہا۔ جون 2025 میں امریکہ نے ایران پر حملہ کیا، جون 2025ء سے اس خطے میں کشیدگی کا آغاز ہوا، جب فردو اور نطن، اصفحان وغیرہ کے ارد گرد ٹارگٹڈ کارروائیاں کیں۔ اصفحان زیادہ پیچیدہ اور کم زیرِ بحث ہدف تھا، وہاں لیبارٹریز اس بات پر تحقیق کرتی تھیں کہ یورینیئم کو کس طرح اس درجے پر لایا جائے جہاں وہ ایٹمی ہتھیار بنانے میں استعمال کیا جاسکتا ہے اور 60 فیصد تک افزودہ یورینیئم کو وہاں رکھا جاتا تھا۔ اس تنصیب کو عالمی معائنہ کار جانتے تھے۔ فردو ایٹمی تنصیب قم شہر کے قریب پہاڑوں میں 260 فٹ نیچے واقع ہے۔ اصفحان میں واقع ایٹمی پلانٹ میں 3 ہزار سائنسدان کام کرتے تھے جہاں چین کے تیار کردہ 3 نیوکلیئر ری ایکٹرز موجود ہیں۔ اس تنصیب کا تحفظ کرنے کے لیے روسی دفاعی نظام بھی نصب تھا۔ بہر حال حملوں کے بعد کئی دعوے اب تک سامنے آ چکے ہیں، ایران میں اب تک کیا ہوا کتنا جانی و مالی نقصان ہوا؟ یہ سب کچھ جنگ بندی کے بعد امن کے دور میں آہستہ آہستہ سامنے آئے گا، امریکہ نے مختلف اوقات میں ان حملوں کو آپریشن کا نام دیا، لیکن یہ آپریشن باقاعدہ پورے خطے کے عسکری تصادم میں تبدیل ہوئے، ایران نے جوابی وار خطے میں موجود تمام ہی امریکی اڈوں اور اسرائیل کے علاوہ سعودی عرب، بحرین، قطر، دوبئی، عمان، اردن وغیرہ میں بھی امریکی کمپنیوں و مفادات کو نشانے پر رکھا، عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب نے اس نازک موڑ طر پاکستان سے بھر پور مشاورت و رہنمائی لی، سفارتی روابط بڑھا کر اس فیصلہ کن موڑ میں ابتدائی دنوں میں ہی پاکستان اور سعودی عرب نے ایران کو اس بات پر راضی کر لیا کہ وہ جوابی وار میں سعودی عرب پر حملے نہیں کرے گا، اسی فیصلے کی وجہ سے دوسرے عرب ممالک نے بھی جنگ میں نہ کودنے کا فیصلہ کیا، جس کی وجہ سے اسرائیل اور امریکہ کو سخت صدمہ ہوا، کیونکہ وہ چاہتے تھے عرب۔ ایران جنگ شروع ہو جائے،

امریکی اور اسرائیلی کاروائیوں کا مقصد ایران کی قیادت، عسکری ڈھانچے اور اسٹریٹجک تنصیبات کو نشانہ بنا کر رجیم چینج کرنا تھی جس میں وہ بُری طرح ناکام رہے، اس میں بھی کوئی دو رائے نہیں کہ ایران کے اندر انفراسٹرکچر، توانائی تنصیبات اور بعض عسکری مراکز کو نقصان پہنچا ہے، پاکستان نے جنگ سے پہلے ہی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو یہ بات واضح طور پر بتا دی تھی کہ ایران میں نہ تو رجیم چینج کی جا سکتی ہے نہ ہی ایرانیوں کو شکست دی جا سکتی ہے، پھر جب امریکہ نے آپریشن شروع کیا پاکستان فوری طور پر متحرک ہو گیا۔ اور عالمی سطح پر امن کے لیے سفارتی کوششوں کا آغاز کیا، جیسے جیسے جنگ طول پکڑتی گئی، عالمی طاقتیں اور علاقائی ممالک پاکستان کی تائید میں متحرک ہو گئے۔ پاکستان، قطر، ترکی اور سعودی عرب نے اس پورے عمل میں نمایاں سفارتی کردار ادا کیا۔ ان ممالک نے نہ صرف فریقین کے درمیان رابطہ کاری کو فروغ دیا بلکہ اعتماد سازی کے اقدامات میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ یہی سفارتی کوششیں بعد ازاں جنگ بندی کے ابتدائی فریم ورک تک پہنچنے میں مددگار ثابت ہوئیں۔
الحمد للّٰہ! ایران اور امریکہ کے درمیان امن معاہدے یا ابتدائی مفاہمتی فریم ورک کا باضابطہ اعلان دونوں فریقین کی جانب سے سامنے آنے کے بعد، امریکی نائب صدر جی ڈی وینس کا کہنا ہے کہ امریکا کی جانب سے انہوں نے اور صدر ٹرمپ نے مفاہمتی یادداشت پر دستخط بھی کر دئیے ہیں، جب کہ ایران کی طرف سے ایرانی پارلیمانی اسپیکر باقر قالیباف نے دستخط کیے۔ ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے اسی تناظر میں اپنے بیان میں کہا کہ امریکا کی بحری ناکہ بندی ختم ہو چکی ہے، ایران معاہدے پر عمل درآمد آج بروز جمعے سے کرے گا۔ کاظم غریب آبادی کا کہنا تھا کہ مفاہمی یاداشت کا مطلب دشمن پر اعتماد کرنا نہیں، حتمی معاہدے کے لیے مذاکرات 60 دن میں ہوں گے۔ اگر معاہدے کی پاسداری نہ ہوئی تو ایران ردعمل دے گا۔

اس سلسلے میں وزیراعظم پاکستان میاں شہباز شریف نے بھی اعلان کیا کہ ”آج جمعے کو جنیوا میں ایران امریکا معاہدے کی تقریب کی میزبانی پاکستان کرے گا۔ دنیا نے امن کا تاریخی سنگِ میل عبور کیا ہے، جنگ کی تاریک رات کے بعد امن کا سورج طلوع ہو گیا۔“
قارئین کرام! اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ پاکستان اور پاکستان کی قیادت بالخصوص وزیراعظم پاکستان شہباز شریف، وزیر داخلہ محسن نقوی اور فیلڈ مارشل و آرمی چیف سید عاصم منیر کا نام دنیا بھر میں اسی تناظر میں بہت زیادہ نمایاں ہوا ہے۔ اب یہ معاملہ دنیا میں پاکستان کے سفارتی تعلقات، امن کے لیے کی گئی کوششوں اور خطے کی بدلتی ہوئی سفارتی و اسٹراٹیجک اہمیت سے جڑ چکا ہے۔ پاکستان نے اپنی اہمیت منوائی ہے، عصر حاضر میں عسکری قیادت کا کردار محض دفاعی حکمت عملی تک محدود نہیں رہا، بلکہ سفارتی ہم آہنگی اور علاقائی رابطہ کاری بھی اس کے دائرہ کار میں شامل ہوتی جا رہی ہے۔ اسی تناظر میں حالیہ علاقائی کشیدگی میں پاکستان کے کردار اور اس کے عسکری و سفارتی رابطوں کو ایک وسیع تر سفارتی کوشش کے حصے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس میں مختلف علاقائی اور عالمی فریقین کے درمیان رابطوں کو سہولت فراہم کرنے کی کوششیں بھی شامل رہی ہیں۔ آج دنیا پاکستان کی سول و عسکری قیادت کی تعریفیں کر رہی ہے عالمی میڈیا پر خصوصی پروگرام کیے جا رہے ہیں۔ دشمنانِ پاکستان نے گزشتہ تیس برس سے لاکھوں ڈالر خرچ کر کے، لابنگ کر کے پاکستان کے بارے میں جو منفی بیانیہ بنایا تھا وہ پاکستان کی قیادت نے امن کی کوششوں سے زمین بوس کر کے رکھ دیا ہے، اقوام متحدہ اور کئی عالمی رہنماؤں نے جنگ بندی کے اس عمل کو خطے میں استحکام کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا ہے، تاہم ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا جا رہا ہے کہ اصل چیلنج اس معاہدے پر مکمل عملدرآمد ہوگا۔ اس ایک سال کی کشیدگی سے نام نہاد سپر پاور امریکہ کو یہ بھی سیکھنے کو ملا ہے کہ تنازعات صرف عسکری طاقت سے حل نہیں کیے جا سکتے۔ پاکستان کی عالمی سطح پر سفارتکاری نے دونوں فریقوں کو اس مقام پر لا کھڑا کیا ہے جہاں مذاکرات ناگزیر ہو گئے۔ اگرچہ یہ معاہدہ ایک بڑی پیش رفت ہے، لیکن یہ بھی واضح ہے کہ یہ ایک اختتام نہیں بلکہ ایک نئے مرحلے کا آغاز ہے۔ اعتماد کی بحالی، جوہری پروگرام، علاقائی اثر و رسوخ اور پابندیوں جیسے پیچیدہ مسائل کے نام پر امریکہ پھر بھی کبھی ایسا آپریشن لانچ کر سکتا ہے، لیکن آج تاریخ لکھی جا رہی ہے جس میں یہ سنہری حروف میں لکھا جائے گا۔ پاکستان کی کوششوں سے خطے میں امن قائم ہو چکا ہے۔
لکھو کے ساتھ لکھو

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں