عالمی یومِ انسدادِ منشیات کی اہمیت اور مقصد
ہر سال 26 جون کو دنیا بھر میں عالمی یومِ انسدادِ منشیات منایا جاتا ہے۔ اس دن کا مقصد محض ایک رسمی تقریب کا انعقاد نہیں بلکہ پوری انسانیت کو اس خاموش مگر مہلک دشمن کے خلاف بیدار کرنا ہے جو لاکھوں زندگیاں تباہ کر چکا ہے اور کروڑوں انسانوں کے مستقبل کو تاریکی میں دھکیل رہا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق دنیا بھر میں کروڑوں افراد منشیات کے استعمال کے باعث جسمانی، ذہنی اور سماجی مسائل کا شکار ہیں، جبکہ ہر سال لاکھوں لوگ نشے کے نتیجے میں اپنی جانوں سے محروم ہو جاتے ہیں۔
منشیات: وقتی لذت، دائمی تباہی
منشیات ایک ایسی لعنت ہے جو وقتی لذت اور مصنوعی سکون کا دھوکہ تو دیتی ہے، لیکن حقیقت میں انسان کے جسم، ذہن، کردار، خاندان اور مستقبل کو تباہی کے اندھیروں میں دھکیل دیتی ہے۔ نشہ ایک ایسی دلدل ہے جس میں اترنے والا شخص آہستہ آہستہ اپنی شناخت، عزت، صحت اور قیمتی رشتوں سے محروم ہوتا چلا جاتا ہے۔ ابتدا میں یہ محض ایک عادت محسوس ہوتی ہے، لیکن وقت کے ساتھ یہی عادت ایسی زنجیر بن جاتی ہے جو انسان کی آزادی، شعور اور قوتِ ارادی کو قید کر لیتی ہے۔
منشیات کا تاریخی پس منظر اور جدید شکلیں
اگر تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ نشہ کوئی نئی برائی نہیں۔ انسانی تہذیب کے آغاز سے ہی مختلف اقوام مختلف نشہ آور اشیاء استعمال کرتی رہی ہیں، البتہ وقت گزرنے کے ساتھ ان کی اقسام اور طریقۂ استعمال میں تبدیلی آتی رہی۔ قدیم زمانوں میں جڑی بوٹیوں اور قدرتی اشیاء کو نشے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا، جبکہ جدید دور میں سائنسی ترقی کے ساتھ مصنوعی اور کیمیائی منشیات نے اس مسئلے کو مزید پیچیدہ اور خطرناک بنا دیا ہے۔ آج منشیات صرف روایتی اشیاء تک محدود نہیں رہیں بلکہ بعض ادویات، کیمیکلز اور مصنوعی مرکبات بھی اس مقصد کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں۔
پاکستان میں منشیات کا بڑھتا ہوا مسئلہ
بدقسمتی سے پاکستان بھی اس عالمی مسئلے سے محفوظ نہیں رہ سکا۔ خصوصاً افغان۔سوویت جنگ کے بعد ملک میں منشیات کا استعمال ایک سنگین سماجی المیہ بن کر سامنے آیا۔ اس دور میں جہاں اسلحہ کلچر نے جنم لیا، وہیں ہیروئن اور دیگر منشیات کی فراوانی نے نوجوان نسل کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ ہزاروں خاندان متاثر ہوئے، بے شمار نوجوان اپنی زندگیوں سے محروم ہو گئے اور معاشرے میں جرائم کی شرح میں نمایاں اضافہ ہوا۔ آج بھی اس کے اثرات پاکستانی معاشرے میں واضح طور پر محسوس کیے جا سکتے ہیں۔
نوجوان نسل اور منشیات کے نئے رجحانات
ملک کے تقریباً ہر شہر، قصبے اور دیہات میں مختلف اقسام کی منشیات کا استعمال موجود ہے۔ ہیروئن، چرس، افیون، کوکین اور شراب کے علاوہ نشہ آور انجیکشنز، سیرپ، گولیاں اور بعض ادویات کا غلط استعمال بھی تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ مزید برآں نوجوانوں میں شیشہ، گٹکا، ماوا اور دیگر مضرِ صحت اشیاء کا استعمال فیشن اور تفریح کے نام پر عام ہوتا جا رہا ہے، حالانکہ یہ تمام چیزیں صحت اور مستقبل دونوں کے لیے زہرِ قاتل ہیں۔
اسلامی تعلیمات اور منشیات کی ممانعت
اسلام سمیت دنیا کے تمام مذاہب اور مہذب معاشرے منشیات کے استعمال کو ناپسند کرتے ہیں۔ دینِ اسلام نے ہر اس چیز کو حرام قرار دیا ہے جو عقل و شعور کو متاثر کرے۔ رسولِ اکرم ﷺ کا ارشادِ مبارک ہے: “ہر نشہ آور چیز حرام ہے اور جس چیز کی زیادہ مقدار نشہ پیدا کرے، اس کی تھوڑی مقدار بھی حرام ہے۔”
یہ تعلیمات اس حقیقت کو واضح کرتی ہیں کہ اسلام انسانی جان، عقل اور معاشرے کے تحفظ کے لیے ہر قسم کی نشہ آور اشیاء سے اجتناب کا حکم دیتا ہے۔
منشیات کے سماجی اور خاندانی اثرات
منشیات صرف ایک فرد کو متاثر نہیں کرتیں بلکہ ان کے اثرات پورے خاندان اور معاشرے تک پھیل جاتے ہیں۔ جب کوئی نوجوان نشے کا عادی ہو جاتا ہے تو اس کی دلچسپی تعلیم، روزگار اور مثبت سرگرمیوں سے کم ہوتی چلی جاتی ہے۔ وہ اہلِ خانہ سے دوری اختیار کرتا ہے اور ایسے افراد کی صحبت میں چلا جاتا ہے جو اسے مزید تباہی کی طرف لے جاتے ہیں۔ منشیات کے حصول کے لیے پہلے اپنی آمدنی خرچ کی جاتی ہے، پھر گھر یا دفتر سے چوری تک نوبت پہنچتی ہے اور بعض اوقات جرائم کی دنیا میں قدم رکھنا پڑتا ہے۔ نتیجتاً خاندان ٹوٹتے ہیں، معاشرتی امن متاثر ہوتا ہے اور قومی ترقی کی رفتار سست پڑ جاتی ہے۔
نفرت نہیں، بحالی کی ضرورت
یہ امر بھی توجہ طلب ہے کہ ہمارا معاشرہ عموماً نشہ کرنے والے افراد کو نفرت اور حقارت کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ انہیں مختلف توہین آمیز القابات سے پکارا جاتا ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اگرچہ ان کا عمل قابلِ مذمت ہے، لیکن وہ خود ایک بیماری اور کمزوری کا شکار ہوتے ہیں۔ ایسے افراد کو نفرت سے زیادہ علاج، رہنمائی، محبت اور بحالی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر معاشرہ انہیں مکمل طور پر مسترد کر دے تو ان کی واپسی اور اصلاح کے امکانات مزید کم ہو جاتے ہیں۔
ریاستِ پاکستان کی قانونی اور انتظامی ذمہ داریاں
منشیات کے خلاف جنگ صرف حکومت یا قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری نہیں بلکہ یہ پوری قوم کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ تاہم پاکستانی ریاست پر اس حوالے سے خصوصی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ منشیات کی اسمگلنگ، فروخت اور استعمال کے خلاف موجود قوانین پر مؤثر اور بلاامتیاز عمل درآمد یقینی بنائے۔ غیر قانونی منشیات کے ساتھ ساتھ نشہ آور ادویات کی فروخت اور استعمال کی سخت نگرانی بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔
آگاہی، تعلیم اور سماجی اداروں کا کردار
اسی طرح تعلیمی اداروں میں انسدادِ منشیات کے موضوع پر خصوصی آگاہی پروگرامز کا انعقاد کیا جانا چاہیے تاکہ نوجوان نسل کو ابتدا ہی سے اس خطرے کے بارے میں شعور حاصل ہو۔ علمائے کرام، اساتذہ، والدین، سول سوسائٹی، میڈیا اور سوشل میڈیا کا کردار بھی نہایت اہم ہے۔ جمعہ کے خطبات، سیمینارز، ٹیلی ویژن پروگرامز، اخباری مضامین اور سوشل میڈیا مہمات کے ذریعے عوام میں مؤثر انداز میں شعور اجاگر کیا جا سکتا ہے۔ نصابی کتب میں منشیات کے نقصانات سے متعلق مضامین شامل کرنا بھی وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ بچوں کو کم عمری ہی سے اس لعنت کے تباہ کن نتائج سے آگاہ کیا جا سکے۔
عالمی یومِ انسدادِ منشیات ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ اگر ہم اپنی آنے والی نسلوں کو محفوظ، صحت مند اور روشن مستقبل دینا چاہتے ہیں تو ہمیں منشیات کے خلاف اجتماعی جدوجہد کرنا ہوگی۔ نوجوان کسی بھی قوم کا سب سے قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں، اور اگر یہی سرمایہ نشے کی نذر ہو جائے تو ترقی کے خواب ادھورے رہ جاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہماری نوجوان نسل کو ہر قسم کی منشیات اور برائیوں سے محفوظ رکھے اور پاکستان کو ایک صحت مند، باوقار اور ترقی یافتہ معاشرہ بنانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔