Mudassir Mustafai 0

فکرِ امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ/تحریر/مدثر مصطفائی

واقعۂ کربلا تاریخِ اسلام کا وہ درخشاں باب ہے جو نہ صرف ملتِ اسلامیہ بلکہ پوری انسانیت کو تا قیامت عزم، استقامت اور حریتِ فکر کا درس دیتا رہے گا۔ تاریخ کے بے شمار واقعات زمانے کی گرد میں اوجھل ہو جاتے ہیں، مگر سانحۂ کربلا ایک ایسی زندہ حقیقت ہے جس کی تاثیر وقت کے ساتھ ماند پڑنے کے بجائے مزید نکھرتی اور بڑھتی چلی جاتی ہے۔ تاریخ کا ہر ورق اس امر کی گواہی دیتا ہے کہ امام حسینؓ کی فکر ان آفاقی اور الٰہی اقدار پر استوار ہے جو انسان کو رفعتِ کردار، بلندیِ فکر اور عظمتِ عمل سے آراستہ کرتی ہیں۔امام حسینؓ محض ایک شخصیت کا نام نہیں بلکہ ایک مکتبِ فکر، ایک پیغامِ حیات اور ایک ابدی شعور کا عنوان ہیں۔ آپؓ اس فلسفۂ حیات کے محور ہیں جو انسان کو باطل کے سامنے جھکنے کے بجائے حق کے لیے ڈٹ جانے کا حوصلہ عطا کرتا ہے۔ یہی وہ پیغام ہے جس نے کربلا کو ایک واقعے سے بڑھ کر ایک دائمی تحریک بنا دیا۔
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ یہ شہادتِ حسینؓ ہی کا اعجاز ہے کہ تہذیب، تمدن اور اعتقاد کے اعتبار سے مختلف الخیال افراد بھی جب ذکرِ کربلا کرتے ہیں تو اتحادِ فکر اور یکجہتی کی ایک دل آویز تصویر بن جاتے ہیں۔ آخر ایسا کیوں نہ ہو، جب کہ واقعۂ کربلا سے وابستہ امن، عدل اور فلاحِ انسانیت کا تصور ہر دور میں بنی نوع انسان کو شاہراہِ حق کی طرف رہنمائی فراہم کرتا رہا ہے اور اس کے شرف و فضیلت کو دوام بخشتا رہا ہے۔حضرت امام حسینؓ نے اپنے قول و عمل سے تعلیمات مصطفیٰ ﷺ کو ایسا استحکام اور دوام عطا کیا کہ حق و صداقت کی برتری رہتی دنیا تک ایک ناقابلِ تردید حقیقت بن گئی۔ یزید کی بیعت کے مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے امام حسینؓ کا یہ تاریخی اعلان کہ ’’مجھ جیسا تجھ جیسے کی بیعت نہیں کر سکتا‘‘ دراصل حریتِ ضمیر، عزتِ نفس اور استقامتِ حق کا وہ منشور ہے جس کی گونج صدیوں بعد بھی سنائی دیتی ہے۔ یہ ایک ایسا موقف تھا جس نے واقعۂ کربلا کو زمان و مکان کی قیود سے بلند کر کے آفاقی انسانی اقدار کی علامت بنا دیا، اور یہی وہ پیغام ہے جسے اقبالؒ نے یوں خراجِ عقیدت پیش کیا:
موسیٰ و فرعون و شبیر و یزید
این دو قوت از حیات آید پدید
واقعۂ کربلا اور خانوادۂ رسول ﷺ کی مقدس قربانیوں میں درحقیقت دو فلسفے، دو طرزِ فکر اور دو نظامِ حیات آمنے سامنے دکھائی دیتے ہیں۔ ان کو سمجھے بغیر کربلا محض ایک تاریخی واقعہ رہ جاتی ہے، جبکہ حقیقت میں یہ ایک ابدی پیغام اور دائمی شعور کا نام ہے۔ ایک فکر وہ تھی جو یزیدیت کی صورت میں جلوہ گر ہوئی اور جس کا خلاصہ یہ تھا کہ طاقت ہی حق ہے؛ اقتدار جس کے ہاتھ میں ہو، اطاعت بھی اسی کی کی جائے، خواہ حق پامال ہو اور انصاف کا خون بہایا جائے۔ دوسری جانب امام حسینؓ کی فکر تھی، جس کا اعلان یہ تھا کہ طاقت حق نہیں، بلکہ حق ہی اصل طاقت ہے۔ اس لیے گردن حق کے سامنے جھکنی چاہیے، نہ کہ قوت و اقتدار کے سامنے۔
یہی وہ بنیادی تصادم تھا جس نے کربلا کو تاریخِ انسانیت کا ایک فیصلہ کن موڑ بنا دیا۔ امام حسینؓ نے اپنے عمل سے ثابت کر دیا کہ حق کا مسافر اگر بظاہر مغلوب بھی دکھائی دے تو درحقیقت وہی فاتح ہوتا ہے، اور باطل اگر وقتی اقتدار بچا بھی لے تو انجامِ کار شکست اسی کا مقدر بنتی ہے۔ کربلا کے میدان میں خانوادۂ رسول ﷺ نے جانیں قربان کر دیں، لیکن حق کا پرچم سرنگوں نہ ہونے دیا۔ یزید تخت بچانے میں کامیاب ہوا، مگر تاریخ کے ضمیر میں شکست خوردہ ٹھہرا؛ جبکہ حسینؓ نیزوں پر سر بلند کر کے بھی امر ہو گئے۔اسی لیے حسینؓ محض ایک شخصیت نہیں بلکہ حق، عدل، صبر، وفا اور حریتِ ضمیر کا استعارہ ہیں، جبکہ یزیدیت ظلم، جبر، خیانت اور مطلق العنانیت کی علامت بن گئی۔ ایک طرف قوت کا غرور تھا اور دوسری طرف کردار کی عظمت؛ ایک طرف جبر کی تلوار تھی اور دوسری طرف صبر کی سپر۔ یہی وجہ ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ یزیدیت ایک مذموم طرزِ فکر کا نام بن گئی اور حسینیت ، عدل، امن , انسانیت اور حق پر استقامت کی لازوال علامت بن کر ابھری۔
فکرِ حسینی نوعِ انسانی کو یہ واضح پیغام دیتی ہے کہ جب ظلم، جبر اور استبداد کی قوتیں انسانیت کا گلا گھونٹنے لگیں تو محض زبانی احتجاج اور رسمی ہمدردی کافی نہیں رہتی، بلکہ حق کی نصرت اور انسانیت کے دفاع کے لیے میدانِ عمل میں اترنا پڑتا ہے۔ حق کے علمبرداروں کا شیوہ یہ نہیں کہ وہ حالات کے جبر کے سامنے سرِ تسلیم خم کر دیں، بلکہ وہ اپنے کردار اور قربانی سے تاریخ کا رخ موڑ دیتے ہیں۔اسی مقصدِ عظیم کے تحفظ کے لیے اگر وطن، گھر بار اور آسائشوں کو بھی خیر باد کہنا پڑے تو اہلِ حق قدم پیچھے نہیں ہٹاتے۔ اور یہ وطن بھی کوئی معمولی وطن نہ ہو، بلکہ مدینۂ منورہ ہو؛ وہ مقدس سرزمین جس کی فضاؤں میں آج بھی نفحاتِ مصطفوی ﷺ کی خوشبو محسوس ہوتی ہے، اور جس کی خاک کو روضۂ رسول ﷺ کی نسبت حاصل ہے۔ مگر جب دینِ مصطفی ﷺ کی بقا، قرآنی تعلیمات کے تحفظ اور حق و صداقت کی سربلندی کا سوال درپیش ہو تو پھر ریگزارِ کربلا کی تپش بھی گوارا ہو جاتی ہے، لیکن باطل کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنا گوارا نہیں ہوتا۔
امام حسینؓ اور آپؓ کے رفقائے کار نے اپنے خونِ جگر سے یہ حقیقت ثبت کر دی کہ باطل وقتی طور پر غالب آ سکتا ہے، مگر تاریخ کا آخری فیصلہ ہمیشہ حق کے حق میں ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کربلا کا پیغام صدیوں گزرنے کے باوجود آج بھی دلوں کو گرماتا، ضمیروں کو جگاتا اور انسان کو ظلم و جبر کے مقابلے میں ڈٹ جانے کا حوصلہ عطا کرتا ہے۔ حسینؓ نے نیزوں کی انیوں پر کھڑے ہو کر بھی انسانیت کو یہ سبق دیا کہ زندگی کی اصل کامیابی بقاے جسم میں نہیں بلکہ بقاے کردار میں مضمر ہے۔بقولِ اقبالؒ:
غریب و سادہ و رنگیں ہے داستانِ حرم
نہایت اس کی حسینؓ، ابتدا ہے اسماعیلؑ
آج بھی اگر امتِ مسلمہ اور پوری انسانیت عزت، عدل، اخوت اور امن کی متلاشی ہے تو اسے فکرِ حسینی سے اپنا رشتہ مضبوط کرنا ہوگاجو انسان کو بندگانِ خدا کی غلامی سے نکال کر صرف ربِّ کائنات کی بندگی کا شعور عطا کرتی ہے۔ یہی وہ پیغام ہے جسے حکیم الامت اقبالؒ نے ان الفاظ میں خراجِ عقیدت پیش کیا:
قتلِ حسینؓ اصل میں مرگِ یزید ہے
اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد

امام حسین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں