Ume Umar 0

باپ کے ہوتے ہوئے بھی یتیم بچے!/تحریر/عزرا خالد

حضرت محمد ﷺ” کا ارشاد مبارکہ ہے کہ:
جب بندہ نکاح کر لیتا ہے تو اس نے اپنے دین کا نصف مکمل کر لیا، اب باقی نصف میں اللہ سے ڈرتا رہے۔”
(صیح بخاری، صیح مسلم)

نبی ﷺ کے ارشاد سے واضح ہے کہ اسلام میں نکاح صرف ایک سماجی معاہدہ نہیں بلکہ ایک مقدس عبادت، سنتِ نبوی ﷺ اور پاکیزہ معاشرے کی بنیاد ہے۔ محبت، رحمت، عفت اور سکون اسی مضبوط رشتے سے پروان چڑھتے ہیں۔
نکاح کے مقدس بندھن میں دو اجنبی ایک دوسرے کے ہم سفر بنتے ہیں تو ان کی نئی زندگی کا سب سے خوبصورت سرمایہ ایک پُرسکون، محبت بھرا اور بااعتماد گھر ہوتا ہے۔
گھر صرف اینٹ، سیمنٹ اور لکڑی سے تعمیر ہونے والی عمارت کا نام نہیں، بلکہ یہ دو دلوں، دو خاندانوں اور دو زندگیوں کے خوابوں کی مشترکہ تعبیر ہوتا ہے۔
ازدواجی زندگی کی مضبوطی کا انحصار صرف مالی آسودگی یا خوبصورت اور پر آسائش مکان پر نہیں، بلکہ گھر کے ماحول پر ہوتا ہے جہاں عزت، محبت، اعتماد، برداشت اور باہمی تعاون موجود ہو۔ ایسا گھر، جہاں شوہر بیوی کو عزت دے، بیوی شوہر کا احترام کرے، اختلافات کو انا کا مسئلہ بنانے کے بجائے حکمت اور محبت سے حل کیا جائے، وہی گھر جنت کا نمونہ بن جاتا ہے۔
گھر محبت، شفقت، باہمی اعتماد، ایثار اور احساسِ ذمہ داری کے ساتھ اباد ہوتے ہیں۔ ان سب خوبصورت رویوں اور جذبوں کی عمارت گھر میں سب سے مضبوط اور توانا ستون ‘باپ’ کا وجود ہوتا ہے۔ باپ صرف گھر کا کفیل اور نان و نفقہ کا ضامن ہی نہیں، بلکہ وہ اولاد کے لیے ایک گھنا اور سایہ دار درخت ہوتا ہے، والد حوصلے کی مضبوط چٹان، کردار کا معمار اور زندگی کی پہلی درسگاہ ہوتا ہے۔ معصوم بچے کی شخصیت کی تشکیل میں ماں کی محبت تو سمندر کی ماند ہوتی ہے اور اس کے ساتھ ہی باپ تحفظ اور خود اعتمادی بچوں کو دیتا ہے۔

ایک مرد جو شوہر اور بچوں کا باپ ہوتا ہے اور عورت اور بچوں کو زندگی کا معتبر سہارا حاصل ہوتا ہے۔ اس بندھن کی برکت سے عورت ذہنی یکسوئی کے ساتھ بچوں کی پرورش کرتی ہے اور بچے اطمینان و سکون کے ساتھ اپنی تعلیم و تربیت کے مراحل طے کرتے ہیں۔ شوہر کسبِ معاش کی تگ و دو کرتا ہے اور خاندان کی کفالت کرتا ہے اور اپنے بچوں کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔
لیکن انتہائی افسوس کہ ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ موجودہ دور میں اس خوبصورت تصویر کا ایک تاریک رخ بھی تیزی سے سامنے آ رہا ہے۔ بعض اوقات وہی شوہر، جو بچوں کا باپ بھی ہے، اپنی بنیادی ذمہ داریوں سے مجرمانہ غفلت برتتا ہے۔ نہ تو اس کے رویے بچوں کے ساتھ شفقت و محبت کے ہوتے ہیں اور نہ ہی وہ ان کی ضروریات اور کفالت کو اپنا فرضِ عین سمجھتا ہے۔
ہمارے معاشرے کا ایک خاموش المیہ یہ بھی ہے کہ بغیر ڈیتھ سرٹیفکیٹ کے بچے یتیموں کی ذندگی گزارتے ہیں۔
یتیمی صرف باپ کے انتقال کا نام نہیں، کبھی کبھی باپ کی موجودگی میں بھی بچے محبت، شفقت، توجہ اور کفالت سے محروم ہو جاتے ہیں۔ ایسے بچوں کے سر پر باپ کا سایہ تو ہوتا ہے، مگر بچوں کو اس سایہ کی ٹھنڈک محسوس نہیں ہوتی۔
یہ ہمارے معاشرے کا بہت بڑا المیہ ہے جو پسِ پردہ بڑی خاموشی سے پروان چڑھ رہا ہے۔ اس پر گفتگو کم کم ہی ہوتی ہے، مگر اس کے زہرِ آلود اثرات نسلوں کو کھوکھلا کر رہے ہیں۔ یہ داستان ہے ان معصوموں کی جن کے والد دنیا میں زندہ تو ہیں،لیکن ان کے اپنے بچے باپ کی توجہ، رہنمائی،محبت کے لمس اور شفقت بھرے ہاتھوں سے یکسر محروم ہیں۔ ایسے بچوں کو معاشرہ قانونی اور شرعی اعتبار سے یتیم نہیں کہتا ، لیکن یہ معصوم بچے تنہائی کا شکار ہو جاتے ہیں اور یہ تنہائی انہیں “جذباتی طور پر یتیم” بنا دیتی ہے۔ وہ والد کے سامنے ہوتے ہوئے اس کے سایہ سے محروم رہتے ہیں۔
یہ ایسی یتیمی ہے جس کا کوئی ‘ڈیتھ سرٹیفکیٹ’ جاری نہیں ہوتا، مگر اس کے دیے ہوئے زخم بچوں کی روح پر لگتے ہیں اور عمر بھر نہیں بھرتے۔
ہر بچہ اپنے باپ کی انگلی پکڑ کر زندگی کے نشیب و فراز سے گزرنا سیکھتا ہے۔ اس کی معصوم خواہش ہوتی ہے کہ جب وہ پہلی کامیابی حاصل کرے تو باپ کی آنکھوں میں فخر کی چمک اور لبوں پر تعریفی کلمات ہوں، اور پہلی ناکامی پر کسی اور کا نہیں، بلکہ باپ کا مضبوط ہاتھ اس کے کندھے پر ڈھارس بن کر سجے جو کہے: “بیٹا! گھبراؤ نہیں، میں تمہارے ساتھ ہوں۔”
مگر جب باپ دنیا کی مادی مصروفیات، کاروباری الجھنوں اور سستی تفریحات میں اس قدر کھو جائے کہ اولاد اس کے ہوتے ہوئے بھی اس کی قربت کو ترس جائے، تو بچے کی ذندگی میں ہولناک خلا پیدا ہو جاتا ہے جسے وقت کا مرہم بھی پوری طرح پُر نہیں کر پاتا۔
جدید نفسیاتی تحقیقات اس حقیقت پر متفق ہیں کہ والد کی فعال، متحرک اور محبت بھری موجودگی بچے کی شخصیت میں خود اعتمادی، جذباتی توازن اور تعلیمی و سماجی رویوں پر گہرے اور مثبت اثرات مرتب کرتی ہے۔ اس کے برعکس، والد کی جذباتی عدم موجودگی (Emotional Absence) بچے کو احساسِ محرومی، بے یقینی، شدید اضطراب اور غصے کی دلدل میں دھکیل دیتی ہے۔ نتیجے کے طور پر، بعض بچے اندر ہی اندر گھٹ کر خاموش ہو جاتے ہیں، بعض ضدی اور باغی بن جاتے ہیں، اور بعض ایسے غلط راستوں پر نکل جاتے ہیں جہاں سے واپسی کا کوئی راستہ نہیں ملتا۔
یہ مسئلہ محض چند گھرانوں کی چاردیواری تک محدود نہیں، بلکہ یہ ہمارے پورے معاشرے کے مستقبل کا سنگین سوال ہے۔ 2023ء کی مردم شماری کے مطابق، پاکستان کی تقریباً نصف آبادی بچوں اور نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ یونیسیف (UNICEF) اور نیشنل commission آن دی رائٹس آف دی چائلڈ کی رپورٹس واضح کرتی ہیں کہ بچوں کی متوازن نشوونما کے لیے صرف روٹی، کپڑا، مکان اور تعلیم کافی نہیں، بلکہ ایک محفوظ، محبت کرنے والا اور ذمہ دار گھریلو ماحول بھی ان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔
دینِ اسلام نے باپ کے منصب کو ایک عظیم امانت اور بھاری ذمہ داری قرار دیا ہے۔
سورہ التحریم میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

اے ایمان والو ! اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو اس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہوں گے۔
یہ آیتِ مبارکہ واضح کرتی ہے کہ باپ کی ذمہ داری صرف بہترین کھنا کھلانا نہیں، بلکہ اولاد کی دینی، اخلاقی، فکری اور جذباتی تربیت کرنا بھی ہے۔

اسی طرح رسولِ اکرم ﷺ کا فرمان ہے کہ
تم میں سے ہر شخص نگہبان ہے اور ہر شخص سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔” (صحیح البخاری و مسلم)
یہ جامع حدیث ہر باپ کے لیے ہے کہ قیامت کے دن صرف یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ تم نے بینک بیلنس کتنا بنایا، بلکہ یہ بازپرس بھی ہوگی کہ تم نے اپنی اولاد کو کتنا وقت دیا، ان کے گرتے ہوئے آنسوؤں کو کتنی بار پونچھا اور ان کے دلوں میں اپنے کردار کی کیا چھاپ چھوڑی۔
انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ آج بہت سے گھروں میں باپ صرف ایک “جسمانی وجود” یا “متحرک اے ٹی ایم (ATM)” کی صورت میں موجود تو ہے، مگر اس کی روح غائب ہے۔ اس کی توجہ صرف اسکرین پر مرکوز ہے، پورا وقت صرف کاروبار کی نذر ہے، اگر فرصت ملی تو وہ بچوں کو چھوڑ کر دوستوں کے لیے وقف ہے، اور دن بھر کی صرف تھکن اور پریشانی گھر آ کر معصوم بچوں کے حصے میں آتی ہے۔ ان باتوں کی وجہ سے بچے اپنے جذبات کا اظہار کرنے کے بجائے اپنی خوشیاں اور سوالات کے جوابات سوشل میڈیا کے میں تلاش کرتے ہیں۔ اپنے دکھوں کو خاموشی سے دل میں دفن کر دیتے ہیں، اور جب یہی بچے ذہنی دباؤ یا اخلاقی لغزشوں کا شکار ہوتے ہیں، تو ہم سارا نزلہ ان پر گراتے ہیں، اپنے رویوں کا محاسبہ کبھی نہیں کرتے۔
ان حالات میں رہی سہی کسر طلاق اور خاندانی تنازعات پوری کر دیتے ہیں۔ میاں بیوی کے اختلافات اپنی جگہ، مگر اولاد دونوں کی مشترکہ امانت ہے۔ والدین کی ضد اور ہٹ دھرمی کی قیمت اگر بچوں کی مسکراہٹوں سے ادا کی جائے، تو اس سے بڑا ظلم شاید دنیا میں کوئی دوسرا نہیں ہو سکتا۔
حقیقت تو یہ ہے کہ بچوں کو مہنگے کھلونوں اور برانڈڈ کپڑوں سے زیادہ اپنے والد کا وقت اور ان کی محبت وشفقت چاہیے۔ انہیں عالی شان گھر سے زیادہ ایک ایسا پرسکون گھر چاہیے جہاں محبت کی زبان ہو۔ روزانہ چند لمحے بچوں کے ساتھ بیٹھ جانا، ان کی معصوم باتوں کو پوری توجہ سے سننا، ان کی پیشانی کو چومنا اور ان کی چھوٹی چھوٹی کامیابیوں پر ان کو شاباشی دینا۔ یہ وہ قیمتی سرمایہ ہے جس کی حفاظت کسی بینک میں جمع کرا کر نہیں کی جاتی، لیکن یہ ایسا قیمتی سرمایہ ہے جس سے نسلوں تک منافع حاصل ہوتا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ”صرف کمانے والے باپ” کی روایتی سوچ سے آگے بڑھ کر ایک “محبت کرنے والا، توجہ دینے والا اور خوش اخلاق والد” بننا ہوگا۔ ہمیں اپنی اولاد کو صرف وراثت میں جائیدادیں نہیں، بلکہ اپنی محبت، رفاقت اور اچھا کردار دینا ہوگا، کیونکہ بچے باپ کے پیار کے لمس کے پیاسے ہوتے ہیں۔

جس گھر میں بچے باپ کی محبت وشفقت سے محروم ہوں، وہاں دنیا بھر کی آسائشیں بھی اس خلا کو پُر نہیں کر سکتیں۔ محبت سے خالی بچپن اکثر خاموش دکھوں کے ساتھ جوان ہوتا ہے، اور یہی دکھ رفتہ رفتہ پورے معاشرے کا ناسور بن جاتا ہے۔ اگر ہم واقعی ایک مضبوط خاندانی نظام، ایک باکردار نسل اور ایک روشن پاکستان کے خواہاں ہیں، تو ہمیں اپنے بچوں کے لیے وقت نکالنا ہوگا۔ ان کو پیار سے گود میں اٹھانا ہوگا ، ان کے خوابوں کو سننا اور ان کے خوف کو دور کرنا ہوگا۔ انہیں یہ یقین دلانا ہوگا کہ ان کا باپ صرف زندہ ہی نہیں، بلکہ ان کی زندگیوں میں بھی پوری طرح شامل ہے۔

یاد رکھیے! باپ کا سایہ صرف سر پر ہونا کافی نہیں، اس کی محبت بھی بچوں کے نصیب میں ہونی چاہیے۔ ورنہ باپ کے ہوتے ہوئے بھی بہت سے بچے ایسی یتیمی جیتے ہیں جس کا کوئی جنازہ نہیں اٹھتا، مگر جس کا ماتم ان کی پوری زندگی کرتی رہتی ہے۔
کیونکہ باپ کے ہوتے ہوئے بھی یتیم ہو جانے والے بچے صرف ایک گھر کا المیہ نہیں ہوتے،
کاش ہر شوہر یہ سمجھ لے کہ بچہ صرف ماں کا نہیں، اس کا بھی ہے!!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں