Hafiz Zeeshan Siddiqui 0

شاعرِ ختمِ نبوت سید امین گیلانی رحمۃ اللہ علیہ کی حیات و خدمات/تحریر/حافظ ذیشان صدیقی

تاریخ میں کچھ لوگ زندگی گزارتے ہیں اور کچھ لوگ اپنے عہد کو معنی عطا کرتے ہیں۔ سید امین گیلانی رحمۃ اللہ علیہ انہی لوگوں میں سے تھے۔ وہ شاعر تھے تو شعر میں حریت تھی، نثر نگار تھے تو قلم میں مقصد تھا، مجاہد تھے تو قدم میں استقامت تھی، اور حق گو تھے تو مصلحت ان کے قریب بھی نہ پھٹکتی تھی۔

ان کی شخصیت میں ادب کی لطافت، فکر کی گہرائی، کردار کی پختگی، مزاج کی درویشی، طبیعت کی شگفتگی اور ایمان کی حرارت یکجا تھی۔ وہ جس مجلس میں بیٹھتے، محبت بانٹتے؛ جس میدان میں اترتے، حوصلہ بڑھاتے؛ اور جس ظلم کو دیکھتے، اسے للکار دیتے۔

سید امین گیلانی رحمۃ اللہ علیہ کا تعلق ایک معزز سادات گھرانے سے تھا، جس کی نسبت نسل در نسل پیرانِ پیر حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ تک پہنچتی ہے۔ ان کے آباؤ اجداد بغداد (گیلان) میں آباد تھے۔ تجارت و تبلیغ کی غرض سے مختلف علاقوں کا سفر کرتے ہوئے برصغیر پہنچے اور بہاولپور کے قریب اوچ گیلانیہ میں خاندان کے بعض بزرگوں نے سکونت اختیار کی۔ آج بھی وہاں ان کے آباؤ اجداد کی قبور اس قدیم نسبت کی گواہی دیتی ہیں۔

اسی سلسلۂ نسب میں سید نصیر الدین گیلانی رحمۃ اللہ علیہ گزرے، جو ضلع امرتسر کے علاقے ترن تارن میں بحیثیت تھانیدار خدمات انجام دیتے تھے۔ سرکاری ذمہ داری کے ساتھ ان کا گھر علم و کتاب سے بھی آباد تھا اور ایک کتب خانہ ان کے علمی ذوق کی روشن علامت تھا۔

22 ستمبر 1920ء، مطابق 10 محرم الحرام 1339ھ، بروز بدھ، اسی ترن تارن ضلع امرتسر میں سید امین گیلانی رحمۃ اللہ علیہ نے ایک معزز سادات گھرانے میں آنکھ کھولی۔ یہ وہ زمانہ تھا جب ہندوستان انگریز سامراج کے زیرِ نگیں تھا، آزادی کی تحریکیں بیداری کی نئی لہریں پیدا کر رہی تھیں، علماء قید و بند کی صعوبتیں برداشت کر رہے تھے اور برصغیر کی فضا حریت و مزاحمت سے معمور تھی۔ تحریکِ ریشمی رومال کے مجاہدین کی قربانیاں اور حضرت مولانا حسین احمد مدنی رحمۃ اللہ علیہ جیسے اکابر کی مالٹا کی اسیری اس عہد کی دردناک داستان سنا رہی تھی۔

شاید اسی ماحول نے اس بچے کے مزاج میں وہ حریت ودیعت کی تھی جو آگے چل کر اسے اقتدار کے سامنے بے خوف کھڑا کرنے والی تھی۔

قیامِ پاکستان کے بعد سید امین گیلانی رحمۃ اللہ علیہ شیخوپورہ کے محلہ جناح پارک میں آباد ہوئے۔ انہوں نے نہ کسی مدرسے میں باقاعدہ تعلیم حاصل کی اور نہ اسکول کی روایتی تعلیم ان کی علمی شناخت بنی؛ ان کا مدرسہ ان کے والد کا کتب خانہ تھا اور ان کی درس گاہ مطالعہ۔ مولانا جلال الدین رومی رحمۃ اللہ علیہ کی مثنوی، شیخ سعدی رحمۃ اللہ علیہ کی تصانیف اور شعر و ادب کی کتابیں ان کے ذوق کو جِلا دیتی رہیں۔ کتابیں پڑھتے پڑھتے شعر ان کے اندر اتر گیا اور پھر وہ خود شعر کہنے لگے۔

لڑکپن ہی میں ان کی شعری صلاحیت نے اہلِ فن کو اپنی طرف متوجہ کرلیا تھا۔ وہ بنیادی طور پر غزل کے شاعر تھے اور غزل کہنے کے فن پر غیر معمولی قدرت رکھتے تھے۔ کم عمری ہی میں بڑے بڑے شعراء کے درمیان ان کا شمار ہونے لگا اور اسی عمر میں انہوں نے غزل کے میدان میں ایک نمایاں مقام حاصل کرلیا۔ فنِ غزل کے مزاج، اس کے آہنگ، اس کی نزاکت اور اس کے تقاضوں کو سمجھتے ہوئے انہوں نے ایسی پختگی پیدا کی جو ان کی عمر سے کہیں آگے تھی۔ ہندوستان کے بڑے بڑے مشاعروں میں وہ نہ صرف شریک ہوتے بلکہ ان مشاعروں کی زینت بن جاتے، اور جب وہ اپنا کلام ترنم کے ساتھ پیش کرتے تو سامعین کو اپنی گرفت میں لے لیتے اور محفل لوٹ لیتے۔ صوفی غلام مصطفیٰ تبسم، احسان دانش، فیض احمد فیض اور اپنے وقت کے دیگر نامور شعراء کے حلقوں میں بھی کم عمری ہی سے ان کا شمار ہونے لگا۔ احسان دانش جیسے بڑے شاعر سے اصلاح و استفادہ کا موقع بھی ملا۔

ان کی آواز میں ہندوستانی کلاسیکی روایت کی گونج، ادائیگی میں خاص ترنم اور لہجے میں ایک مخصوص گیلانی رنگ تھا۔ وہ شعر کو محض پڑھتے نہیں تھے بلکہ اس کی کیفیت کو سامع تک منتقل کرتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ ان کا کلام کاغذ سے اٹھ کر محفل کا احساس بن جاتا تھا۔اسی لیے بڑے مشاعروں میں ان کی آمد محض شرکت نہیں ہوتی تھی، ایک واقعہ بن جاتی تھی۔

یہاں تک کہ ان کی اصل شناخت ایک صاحبِ اسلوب غزل گو شاعر کی بن چکی تھی۔ لیکن قدرت نے ان کے لیے صرف غزل کی دنیا نہیں رکھی تھی؛ ان کے قلم کو ایک بڑے مقصد کی طرف بھی جانا تھا۔

1949ء میں سید امین گیلانی رحمۃ اللہ علیہ کا نکاح ہوا اور یوں ان کی زندگی میں ازدواجی سفر کا آغاز ہوا۔ ان کے گھرانے میں پانچ بیٹے اور دو بیٹیاں ہوئیں۔ یوں ان کی زندگی کا یہ پہلو بھی محبت، خاندانی تربیت اور ذمہ داری کے حسین امتزاج سے عبارت رہا۔ انہوں نے اپنی اولاد کی تربیت میں بھی ان اقدار کو اہمیت دی جو ان کی اپنی شخصیت کا حصہ تھیں؛ دین سے وابستگی، اہلِ علم سے محبت، ادب سے شغف اور مقصد سے وفاداری۔

بڑے شاہ جی رحمتہ اللہ علیہ کی ملاقات جب امیرِ شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری رحمۃ اللہ علیہ سے ہوئی تو ایک شاعر کو اپنی اصل سمت مل گئی۔ امیرِ شریعت رحمۃ اللہ علیہ سے ان کی قربت کا ایک اہم ذریعہ یہ بھی تھا کہ سید امین گیلانی رحمۃ اللہ علیہ کا گھر، حضرت امیرِ شریعت رحمۃ اللہ علیہ کے گھر کے قریب واقع تھا۔ اس قربِ مکانی نے رفتہ رفتہ قربِ قلبی اور تعلقِ خاطر کی صورت اختیار کی، اور یوں سید امین گیلانی رحمۃ اللہ علیہ کو حضرت امیرِ شریعت رحمۃ اللہ علیہ کی صحبت، گفتگو اور تربیتی اثرات سے فیض یاب ہونے کے مزید مواقع ملتے رہے۔ امیرِ شریعت رحمۃ اللہ علیہ کی صحبت نے ان کے مزاج میں اخلاص، استغنا، فقر، صبر، حوصلہ اور ایثار پیدا کیا اور غزل کے اس ممتاز شاعر کا رخ غزل سے نظم اور محض ادبی اظہار سے دینی و قومی جدوجہد کی طرف موڑ دیا۔ ان کی شاعری میں اب ایک نئی روح پیدا ہوئی؛ نظم ان کے ہاتھ میں دعوت، احتجاج، بیداری اور حریت کی زبان بن گئی۔

اب ان کا شعر داد کے لیے نہیں، دین، ملت اور حریت کے لیے تھا۔

وہ مجلسِ احرارِ اسلام سے وابستہ ہوئے، امیرِ شریعت رحمۃ اللہ علیہ کے رفیقِ سفر رہے، تحریکِ آزادی اور بعد کی دینی تحریکات میں شریک ہوئے۔ تحریکِ ختمِ نبوت 1953ء اور 1974ء میں بھرپور کردار ادا کیا اور کشمیر کے محاذ تک پہنچ کر اپنے کلام سے مجاہدین کے حوصلے بلند کیے۔

بعد ازاں جمعیت علماء اسلام سے وابستہ ہوئے اور مولانا غلام غوث ہزاروی رحمۃ اللہ علیہ، مفکرِ اسلام حضرت مولانا مفتی محمود رحمۃ اللہ علیہ، حضرت مولانا احمد علی لاہوری رحمۃ اللہ علیہ، حضرت مولانا عبداللہ درخواستی رحمۃ اللہ علیہ اور دیگر اکابر کی سرپرستی میں اپنا مجاہدانہ کردار ادا کرتے رہے، یہاں تک کہ زندگی کے آخری دور تک حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب دامت برکاتہم العالیہ کی قیادت میں اپنے دینی، سیاسی اور نظریاتی سفر پر قائم رہے۔

ان کے لیے شعر محض ادب نہ تھا؛ وہ عزم تھا، احتجاج تھا، دعوت تھا اور بیداری کی صدا تھا۔

ان کی شخصیت کا ایک نمایاں وصف بے باکی تھا۔ سید تھے، حسینی نسبت کے وارث تھے اور حق گوئی کو زندگی کا شعار بنائے ہوئے تھے۔ ظالم خواہ کتنا ہی طاقتور ہو، گیلانی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے لیے طاقت دلیل نہ تھی؛ حق دلیل تھا۔

اسی بے باکی نے انہیں بارہا قید کے دروازے تک پہنچایا، مگر ان کے قدم کبھی مصلحت کی طرف نہ مڑے۔

1982ء میں ایک بڑے جلسے میں انہوں نے اس وقت کے حکمران کے خلاف وہ نظم پڑھی جس نے اقتدار کے ایوانوں میں کھلبلی مچا دی:

ملک یہ تیرے نام نہیں اور ہم کوئی تیرے غلام نہیں
حق نہیں اسے حکومت کا جس کے ساتھ عوام نہیں
پہلے تخت نشینوں کا یاد تجھے انجام نہیں
لب پر ہے اسلام اسلام دل میں مگر اسلام نہیں
من مرضی پہ ضد کرنا داناؤں کا کام نہیں
شاید تو یہ سمجھا ہے تیری سحر کی شام نہیں
صدا رہا ہے کس کا راج کسی کو یہاں دوام نہیں
ظلم کا راج اب گیلانی صبح نہیں یا شام نہیں

نظم ختم ہوئی تو گرفتاری ہوگئی۔ جیل میں سپرنٹنڈنٹ بار بار سمجھاتا رہا کہ صرف اتنا لکھ دیں کہ آئندہ احتیاط کریں گے، رہائی کی سفارش کردی جائے گی۔

مگر گیلانی صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے قلم اٹھایا اور جواب دیا:

ہم اور ظالموں سے معافی طلب کریں
جو کام کر سکے نہ کبھی کیوں وہ اب کریں
آداب زندگی کے سکھاتے ہیں ہم جنہیں
ان کو یہ چاہیے کہ ہمارا ادب کریں

جیل سپرنٹنڈنٹ نے تحریر پڑھی تو بے اختیار کہہ اٹھا:

“واقعی آپ کے اندر حسینی خون دوڑ رہا ہے۔”

یہ جملہ شاید ان کی پوری شخصیت کا مختصر ترین تعارف ہے۔

ایک طرف شعر تھا، دوسری طرف کردار؛ ایک طرف زبان تھی، دوسری طرف عمل۔ دونوں میں کوئی فاصلہ نہ تھا۔

اور یہی وہ امین گیلانی رحمۃ اللہ علیہ تھے جن کی زندگی نے ثابت کیا کہ اگر لفظ کردار سے جڑ جائیں تو نظم محض نظم نہیں رہتی، تاریخ بن جاتی ہے۔

سید امین گیلانی رحمۃ اللہ علیہ کی زندگی میں 1962ء کا واقعہ محض ایک گرفتاری کا واقعہ نہ تھا؛ یہ اس کردار کی عملی شہادت تھی جس نے آنے والے برسوں میں بھی بارہا آزمائشوں کا سامنا کرنا تھا۔ ان کے لیے قید کوئی حادثہ نہ تھی اور آزادی کوئی ذاتی آسائش؛ وہ جس مقصد کو حق سمجھتے، اس کے لیے پابندیِ سلاسل بھی گوارا کرلیتے۔

ان کی حق گوئی کا دائرہ کسی ایک حکمران تک محدود نہ تھا۔ ایوب خان کے دور میں جب دس سالہ اقتدار کا جشن منانے کی تیاریاں ہورہی تھیں اور ملک میں مہنگائی، سیاسی بے چینی اور غیر جمہوری اقدامات کے خلاف آوازیں بلند تھیں، شیخوپورہ میں بھی ایک جلسہ منعقد ہوا۔ سید امین گیلانی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی مخصوص برجستگی میں حالاتِ زمانہ کو شعری قالب میں ڈھالا اور کہا:

جا اٹھ رہا سنبھال معافی دے بابا
کاٹ لیے دس سال معافی دے بابا
تیرے یہ آوارہ ہاتھی نگر نگر
کھیت کریں پامال معافی دے بابا
تو پہلے جا پھر یہ پڑھنے جائیں گے
ضد میں آگئے بال معافی دے بابا

ان کے شعر میں طنز بھی تھا، احتجاج بھی اور عوامی نبض کی گرفت بھی۔ یہی وجہ تھی کہ ان کا کلام جلسے کی فضا میں محض سنا نہیں جاتا تھا، لوگوں کے جذبات کی ترجمانی بن جاتا تھا۔

1962ء کے صدارتی انتخابات کے زمانے میں بھی ان کی بے باکی کا ایک منفرد منظر سامنے آیا۔ محترمہ فاطمہ جناح کے مقابلے میں صدر ایوب خان امیدوار تھے۔ شیخوپورہ میں ایوب خان کے جلسے کے لیے سید امین گیلانی رحمۃ اللہ علیہ کو نظم کہنے اور پڑھنے کی دعوت دی گئی۔ میدان لوگوں سے کھچا کھچ بھرا تھا، اسٹیج پر صدر ایوب خان، گورنر امیر محمد خان اور دیگر مقتدر شخصیات موجود تھیں، اور سب کی نگاہیں اس شاعر پر تھیں جو اپنی بات کے لیے کسی پیشگی اجازت کا محتاج نہ تھا۔

انتظامیہ نے اصرار کیا کہ نظم پہلے دکھا دی جائے، مگر گیلانی صاحب نے انکار کردیا۔ ڈپٹی کمشنر شیر محمد لالی کے لیے یہ لمحہ اضطراب کا تھا کہ نہ معلوم یہ بے باک شاعر اقتدار کے سامنے کیا کہہ بیٹھے۔

پھر امین گیلانی رحمۃ اللہ علیہ نے نظم شروع کی:

وہ بھی دن گزرے ہیں جب خنجر کفِ قاتل میں تھا
میں نے آزادی سے پھر بھی وہ کہا جو دل میں تھا
جس کو عادت ہو خوشامد کی میں وہ انسان نہیں
مجھ کو دنیا جانتی ہے میں قصیدہ خوان نہیں
مادرِ ملت خدا کے واسطے اتنا بتا
سرحدی گاندھی کا پوشیدہ ہے تجھ سے مدعا
تیرے لشکر میں یہ جتنے بھی علمبردار ہیں
یہ بڑے مطلب کے بندے ہیں بڑے عیار ہیں
ملک کا مضبوط مرکز قوم کو مطلوب ہے
وقت کہتا ہے مناسب شخصیت ایوب ہے
اس سے بہتر شخص کوئی سامنے جب آئے گا
کون روکے گا یہ منصب اس کو سونپا جائے گا

حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اقتدار کے مرکز کے سامنے پڑھی جانے والی اس نظم میں بھی ان کا لہجہ نہ مدح سرائی کا تھا نہ خوف زدگی کا۔ انہوں نے اپنے نقطۂ نظر کو شعر میں بیان کیا اور ایوب خان نے بھی اس نظم کو سراہا۔

یہی گیلانی صاحب کا انداز تھا: وہ کسی کے دربار کے شاعر نہ تھے، اپنے ضمیر کے شاعر تھے۔

پھر وقت 1973ء تک پہنچا۔ ختمِ نبوت کے مسئلے پر ملک کے مختلف مکاتبِ فکر کے علماء ایک متحدہ محاذ پر جمع ہوچکے تھے۔ شہر شہر اجتماعات ہورہے تھے، جلوس نکل رہے تھے اور سید امین گیلانی رحمۃ اللہ علیہ ہر محاذ پر اپنے کلام کے ساتھ موجود تھے۔

سات ستمبر کا دن آیا تو اسلام آباد کے ایک بڑے اجتماع میں انہوں نے یہ اشعار پڑھے:

بیت گیا جو یوں ہی سات ستمبر بھی
پیش کریں گے ہم سینے بھی خنجر بھی
پھر جو ہوگا ملک میں اس کا ذمہ دار
بھٹو تم ہوگے اور تیرا کوثر بھی

ان اشعار میں وہ کیفیت تھی جو ایک بڑے تاریخی فیصلے سے پہلے پورے ملک کے ماحول میں محسوس کی جارہی تھی۔ گیلانی صاحب کے لیے ختمِ نبوت کا مسئلہ محض سیاسی معاملہ نہ تھا؛ یہ عقیدۂ ایمان کی حفاظت کا مسئلہ تھا، اسی لیے ان کے الفاظ میں غیر معمولی حرارت محسوس ہوتی تھی۔

ان کی زندگی کا ایک اور واقعہ 1953ء کی تحریکِ ختمِ نبوت سے تعلق رکھتا ہے، جب مارشل لا کے ماحول میں ہر طرف گرفتاریوں اور فائرنگ کی خبریں عام تھیں۔ شیخوپورہ سے لاہور کی طرف جانے والا جلوس جب راوی کے پل پر پہنچا تو ایک فوجی افسر نے ان کی گاڑی روک لی اور بندوق تان کر کہا:

اب دیکھتا ہوں کون نعرہ لگاتا ہے۔

جلوس پر سکوت طاری ہوگیا۔

مگر گیلانی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے لیے یہ خاموشی قابلِ قبول نہ تھی۔ انہوں نے بلند آواز سے نعرہ لگایا:

“میرا کالی کملی والا زندہ باد!”

جس بندوق نے پورے جلوس کو خاموش کردیا تھا، وہ نیچے ہوگئی۔ افسر نے بھی کہا:

“وہ تو زندہ باد ہی ہے۔”

اور گاڑی کو آگے جانے کی اجازت دے دی گئی۔

یہ واقعہ ان کی زبان کی جرأت سے زیادہ ان کے ایمانی حوصلے کی داستان ہے۔

اسی تحریک میں انہیں گرفتار کرکے جیل بھیج دیا گیا۔ قید و بند ان کے لیے نئی بات نہ رہی تھی، مگر ان کی ثابت قدمی ہر آزمائش کے ساتھ مزید نمایاں ہوتی گئی۔

ایک موقع پر جب ان کی والدہ اور اہلیہ جیل میں ملاقات کے لیے آئیں تو والدہ کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر سپرنٹنڈنٹ نے رہائی کی پیشکش کی، بشرطیکہ گیلانی صاحب معافی نامہ لکھ دیں۔ مگر ماں نے جس غیرت کے ساتھ جواب دیا، وہ خود اس خاندان کی تربیت کا آئینہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ کی ناموس کی خاطر اگر دس بیٹے بھی قربان کرنے پڑیں تو وہ ایک ایک کرکے قربان کردیں گی، مگر اپنے بیٹے کو معافی مانگنے کا نہیں کہیں گی۔

اس جملے نے امین گیلانی رحمۃ اللہ علیہ کے دل کو مزید مضبوط کیا۔ ان کے اپنے الفاظ میں والدہ کی اس گفتگو نے انہیں حوصلہ دیا، اور زبان سے نکلا:

اے امین ان کا کرم ہے کہ دل ان کا ہی رہا
ورنہ دل لینے کو کتنے ہی خریدار آئے

یہاں گیلانی صاحب کی زندگی کا ایک نہایت خوب صورت پہلو سامنے آتا ہے: ان کی استقامت صرف ذاتی مزاج نہ تھی، اس کے پیچھے گھر کی تربیت، ایمان کی حرارت اور مقصد سے وفاداری موجود تھی۔

بعد کے سیاسی حالات میں بھی ان کا قلم مسلسل متحرک رہا۔ مشرقی پاکستان کے المیے، نئی سیاسی صف بندیوں اور بھٹو کے دور میں جمعیت علماء اسلام کے ساتھ سیاسی اشتراک کے پس منظر میں انہوں نے حالات کو چند لفظوں میں یوں سمیٹا:

مفتی بھٹو اور ولی
مل بیٹھےتو ناؤ چلی

مگر یہ اتحاد زیادہ دیر قائم نہ رہ سکا۔ بلوچستان میں فوجی کارروائی اور سیاسی حالات کی تبدیلی کے بعد جمعیت علماء اسلام اور پیپلز پارٹی کے تعلقات میں تلخی بڑھی۔ پھر جب بھٹو حکومت کے خلاف تحریک چلی اور انہوں نے اپنی کرسی کو مضبوط قرار دیا تو گیلانی صاحب نے برجستہ کہا:

ڈول گئی ہے بھٹو کرسی ڈول گئی
تیرے بخت کی چڑیا اب پر تول گئی

اور جب واقعی اقتدار کا تخت الٹ گیا تو تاریخ کے اس موڑ کو دو مصرعوں میں محفوظ کردیا:

کٹی جو پتنگ کچی ڈور نکلی
کرسی بہت کمزور نکلی

یہی ان کے فن کی قوت تھی کہ بڑے سیاسی واقعات ان کے ہاں مختصر مگر یاد رہ جانے والے اشعار میں ڈھل جاتے تھے۔

ان کے کلام میں زمانے کی آواز تھی، مگر ان کی نظر صرف سیاست تک محدود نہ تھی۔ وہ بدلتے ہوئے حالات کے اندر اصولوں کی تلاش کرتے تھے اور اسی لیے ان کی شاعری وقتی نعرہ بننے کے بجائے اپنے عہد کی ایک ادبی دستاویز بن گئی۔

ان کے قلم کا سفر ابھی جاری تھا، اور آنے والے برسوں میں یہی قلم آمریت، جمہوریت، ختمِ نبوت، اسلامی نظام اور قومی زندگی کے مختلف موڑ پر اپنی گواہی ثبت کرنے والا تھا۔

وقت گزرتا رہا اور سید امین گیلانی رحمۃ اللہ علیہ کا قلم اپنے عہد کے نشیب و فراز کا امین بنتا گیا۔ ان کے ہاں سیاست محض اقتدار کی کشمکش نہ تھی، بلکہ وہ اسے قوم کے اجتماعی مزاج، دینی شعور اور حق و باطل کی کشمکش کے آئینے میں دیکھتے تھے۔ اسی لیے ان کا ہر شعر اپنے پس منظر میں ایک واقعہ، ایک کیفیت اور ایک عہد کی گواہی رکھتا تھا۔

جب ضیاء الحق نے اقتدار سنبھالا اور ابتدا میں نوے دن کے اندر انتخابات کرانے کا اعلان کیا، پھر انتخابات مؤخر ہوتے گئے، تو سیاسی بے چینی نے ایک نئی صورت اختیار کی۔ اسلام کے نام پر ریفرنڈم اور سیاسی وعدوں کے درمیان جو فاصلہ پیدا ہوا، گیلانی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی نگاہ اس سے بھی اوجھل نہ رہی۔ تحریکِ بحالیِ جمہوریت کے ایک جلسے میں انہوں نے اپنے مخصوص انداز میں کہا:

حق کی راہ پر چلنا کب معمولی ہے
اس راستے میں قدم قدم پہ سولی ہے
وہ پہنچے گا کیا اسلام کی منزل تک
جس کے فکر کی گھوڑی لنگڑی لولی ہے
تخت الٹے ہیں بڑے بڑے فرعونوں کے
میرے مخاطب تو کس کھیت کی مولی ہے

ان اشعار کی پاداش میں انہیں گرفتار کرلیا گیا۔ رہائی کے لیے پھر وہی شرط سامنے آئی کہ معافی نامہ لکھ دیا جائے، مگر جس شخص نے زندگی بھر اپنے قلم کو ضمیر کا ترجمان رکھا ہو، اس کے لیے ایسی رہائی بھی قید ہی تھی۔ چنانچہ انہوں نے اصول کی قیمت پر آزادی قبول نہ کی۔

ان کی زندگی کا یہ پہلو بھی قابلِ ذکر ہے کہ وہ صرف میدانوں کے آدمی نہ تھے، کتاب کے آدمی بھی تھے۔ ان کی قلمی کاوشوں کا دائرہ خاصا وسیع تھا۔ انہوں نے مختلف موضوعات پر متعدد کتابیں تحریر کیں، جن میں دو بزرگ، بخاری کی باتیں، حدیث خواب، قدرت کے کرشمے، عجیب و غریب واقعات، درخواست ایک گاؤں، سرمایۂ درویش، میں ہوں ان کا غلام، ہرچہ گویم حق گویم، امید و یاس، سوئے مقتل، مجاذیب، یاد رکھنے کی باتیں، نعت کا دیوان، تذکرۂ سرکار، غزل کا دیوان اور جمالِ ہم نشین قابلِ ذکر ہیں، جبکہ بعض تصانیف زیرِ ترتیب بھی رہیں۔

ان کی نثر میں بھی وہی بے ساختگی تھی جو ان کی گفتگو میں تھی۔ وہ لفظوں کو سجانے سے زیادہ انہیں برتنے کا ہنر جانتے تھے۔ ان کے یہاں تصنع کم اور تاثیر زیادہ تھی؛ اسی لیے ان کی تحریر میں ایک ایسے شخص کی آواز سنائی دیتی ہے جس نے زندگی کو قریب سے دیکھا، زمانے کے تیور پہچانے اور پھر اپنے مشاہدے کو لفظ دے دیا۔

ان کی شخصیت کا ایک اور حسین پہلو ان کا خلوص اور حسنِ معاشرت تھا۔ وہ غریب و امیر کی تفریق کے بغیر لوگوں سے محبت سے ملتے۔ ان کی مجلس میں بیٹھنے والا اکثر یہ محسوس کرتا کہ گیلانی صاحب کو شاید سب سے زیادہ محبت مجھ ہی سے ہے۔ علماء سے انہیں خصوصی عقیدت تھی اور اکابر اہلِ علم کی آمد و رفت ان کے گھر کی علمی فضا کو ہمیشہ زندہ رکھتی تھی۔

حضرت امیرِ شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری رحمۃ اللہ علیہ، حضرت مولانا احمد علی لاہوری رحمۃ اللہ علیہ، حضرت مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادی رحمۃ اللہ علیہ، حضرت مولانا محمد علی جالندھری رحمۃ اللہ علیہ، حضرت مولانا عبداللہ درخواستی رحمۃ اللہ علیہ، حضرت مولانا عبیداللہ انور رحمۃ اللہ علیہ، حضرت مولانا اجمل خان رحمۃ اللہ علیہ، حضرت مولانا خواجہ خان محمد رحمۃ اللہ علیہ اور دیگر اکابر علماء کرام ان کے ہاں تشریف لاتے رہے۔ یوں ان کا گھر محض رہائش گاہ نہ تھا، ایک ایسی مجلس گاہ تھا جہاں علم، ادب، سیاست اور روحانیت ایک دوسرے سے ہم آغوش ہوجاتے تھے۔

سید امین گیلانی رحمۃ اللہ علیہ کی شخصیت کا ایک نہایت روشن پہلو ان کی روحانی وابستگی اور باطنی تربیت بھی تھی۔ ان کا مستقل سلسلۂ بیعت حضرت مولانا شاہ عبدالقادر رائے پوری رحمۃ اللہ علیہ سے تھا، جن کی نسبتِ روحانی سے انہیں قلبی تعلق اور تربیت حاصل رہی۔ اسی طرح حضرت مولانا خواجہ خان محمد رحمۃ اللہ علیہ سے بھی انہیں خصوصی تعلق و عقیدت حاصل تھی۔ ان روحانی نسبتوں نے ان کے مزاج میں جو فقر، تواضع، اخلاص اور اللہ تعالیٰ سے تعلق پیدا کیا، وہ ان کی پوری زندگی کے مختلف گوشوں میں نمایاں دکھائی دیتا ہے۔ وہ محض ایک بے باک شاعر اور میدانِ عمل کے مجاہد ہی نہ تھے بلکہ نہایت متقی، پرہیزگار اور خدا ترس انسان بھی تھے۔ ظاہری زندگی کی سادگی، باطنی کیفیت کی پاکیزگی اور مقصد سے وفاداری ان کی شخصیت کے وہ اوصاف تھے جنہوں نے ان کے فقر کو محض طرزِ زندگی نہیں بلکہ ایک روحانی مزاج بنا دیا تھا۔ ان کی بے باکی کے پیچھے بھی یہی تقویٰ تھا کہ وہ مخلوق کے خوف سے زیادہ خالق کی رضا کو اہم سمجھتے تھے۔

سید امین گیلانی رحمۃ اللہ علیہ کی طبیعت میں شگفتگی بھی تھی۔ سنجیدہ سے سنجیدہ مجلس میں بھی ان کی برجستہ گفتگو ماحول کو بوجھل نہ ہونے دیتی۔ مگر اس ظرافت کے پیچھے ایک ایسا دل تھا جو اللہ تعالیٰ کے خوف، تقویٰ اور احتساب سے معمور تھا۔ وہ ظاہری جاہ و منصب سے بے نیاز اور باطنی نسبت و تعلق کے قدر شناس تھے۔ یہی فقر ان کے مزاج میں استغنا بن کر جلوہ گر ہوا۔

ان کے لیے نعت محض شاعری کی ایک صنف نہ تھی، عقیدت کا باب تھی؛ اور ختمِ نبوت محض ایک موضوع نہ تھا، ایمان کی حرمت تھی۔ اسی لیے ان کے قلم سے نکلنے والے الفاظ میں جذبات کی گرمی کے ساتھ دینی غیرت کی چمک بھی دکھائی دیتی ہے۔

زندگی کے آخری برسوں تک ان کا تعلق جمعیت علماء اسلام سے قائم رہا اور وہ اپنے دینی، سیاسی اور نظریاتی سفر میں متحرک رہے۔ عمر ڈھلتی گئی، جسم کمزور ہوتا گیا، مگر قلم کی حرارت اور مقصد سے وابستگی میں کوئی کمزوری نہ آئی۔

پھر وہ وقت آیا جب یہ مردِ حریت اپنے طویل سفر کے آخری پڑاؤ کی طرف بڑھنے لگا۔ 4 اگست 2005ء مطابق 28 جمادی الثانی 1426ھ بروز جمعرات وہ فیصل آباد کے ایک پروگرام کے لیے روانہ ہوئے۔ یہی سفر ان کی زندگی کا آخری سفر ثابت ہوا۔ تقریباً پچاسی برس کی عمر میں، ایک ایسی زندگی مکمل کرکے جس میں قلم بھی تھا، میدان بھی؛ محبت بھی تھی، مزاحمت بھی؛ ادب بھی تھا اور عقیدت بھی، سید امین گیلانی رحمۃ اللہ علیہ اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔

ان کی میت لاہور لائی گئی۔ زندگی کے آخری زمانے میں وہ اپنے بڑے صاحبزادے سید سلمان گیلانی رحمۃ اللہ علیہ کے ہاں قیام پذیر تھے، چنانچہ میت مصطفیٰ ٹاؤن لائی گئی۔ نمازِ جنازہ ولیِ کامل حضرت سید نفیس الحسینی شاہ رحمۃ اللہ علیہ نے پڑھائی اور پھر کامران بلاک کے قبرستان میں انہیں سپردِ خاک کردیا گیا۔

مگر بعض لوگ قبر میں اتر کر بھی اپنے زمانے سے رخصت نہیں ہوتے۔ ان کے افکار، ان کا قلم، ان کی آواز اور ان کی تربیت آنے والی نسلوں میں سانس لیتی رہتی ہے۔ سید امین گیلانی رحمۃ اللہ علیہ بھی انہی خوش نصیب لوگوں میں سے تھے۔ ان کے بعد ان کے بڑے صاحبزادے سید سلمان گیلانی رحمۃ اللہ علیہ نے اس ورثے کو آگے بڑھایا اور یوں محبت، ادب، عقیدت اور مقصد کا یہ چراغ ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ تک منتقل ہوتا رہا۔

سید امین گیلانی رحمۃ اللہ علیہ کی زندگی کا حاصل شاید یہی ہے کہ انہوں نے لفظ کو ذمہ داری، شعر کو پیغام، قلم کو امانت اور زندگی کو مقصد بنا دیا۔

اللہ تعالیٰ ان کی قبر کو نور سے بھر دے، ان کی خدمات کو شرفِ قبول عطا فرمائے، ان کے علمی و ادبی و دینی ورثے کو زندہ رکھے اور ان کے درجات بلند فرمائے۔ آمین۔
سلمان گیلانی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں