ملتان کی دھرتی پر ایسے کافی علمائے کرام نے جنم لیا جنہوں نے نہ صرف ملتان کی دھرتی کو بلکہ پورے عالم کو علوم و فنون کی روشنیوں سے منور کیا ۔ جن کی خدمات سے نہ صرف اہلِ ملتان نے فائدہ اٹھایا بلکہ پورے عالم میں ان کی خدمات کے اثرات و ثمرات نمایاں ہیں ۔
ان شخصیات میں سیبویہ زماں ,فخر المحققین, اسوة المدرسین,شیخ العلماء ,استاذ الکل,حضرت العلامۃ مولانا حافظ محمد جمال الدین گھوٹوی رحمۃ الله علیہ کا بھی شمار ہوتا ہے ۔
آپ ایک بہت بڑے محدث ,جلیل القدر مفسر ,عظیم المرتبت متکلم ,رفیع الشان فقیہ ,بہترین مقرر ,اعلیٰ درجے کے خطیب ,اور بلند پایہ کے بزرگ تھے ۔
نام و نسب: آپ کا اسم گرامی حضرت مولانا جمال الدین گھوٹوی رحمۃ اللہ علیہ ہے ۔آپ کے والد ماجد کا اسم شریف حضرت مولانا محمد صالح گھوٹوی رحمۃ اللہ علیہ اور جد امجد کا نام مبارک حضرت مولانا محمد شریف گھوٹوی رحمۃ اللہ علیہ تھا ۔
آپ اعوان برادری سے تعلق رکھتے تھے ۔آپ کے آباؤ اجداد ضلع لیہ کے رہنے والے تھے ۔
تعلیم : سب سے پہلے آپ کے دادا حضرت مولانا محمد شریف گھوٹوی رحمۃ اللہ علیہ نے ضلع لیہ سے بستی محمد پورگھوٹہ نزد قاسم بیلہ ملتان کینٹ میں سکونت اختیار فرماکر مدرسہ عربیہ گھوٹہ شریف کے نام سے ایک مدرسے کا آغاز فرمایا ۔
آپ نے ابتدائی تعلیم اسی مدرسے میں حاصل کی ۔ بعد ازاں آپ نے مختلف مدارس میں برصغیر کے دیگر مشاہیر علماء سے کسبِ فیض کر کے تعلیمی فراغت پائی ۔
اساتذۂ کرام : آپ کے اساتذہ میں خواجۂ خواجگان ,ماہر علمِ میراث حضرت مولانا خواجہ عبیداللہ ملتانی رحمۃ اللہ علیہ ۔ اور حضرت مولانا حافظ غلام مرتضیٰ چیلا واہنی رحمۃ اللہ علیہ (بہاولپور ) اور حضرت مولانا حافظ غلام مرتضیٰ چیلا واہنی رحمۃ اللہ علیہ کے بڑے صاحبزادے حضرت مولانا حافظ محمد افضل چیلا واہنی رحمۃ اللہ علیہ جیسے جید علمائے کرام کے اسمائے گرامی شامل ہیں ۔ مذکورہ بالا اصحابِ ثلاثہ کو حضرت مولانا خواجہ خدا بخش ملتانی ثم خیر پوری رحمۃ اللہ علیہ سے شرفِ تلمذ حاصل ہے ۔
حضرت مولانا حافظ غلام مرتضیٰ چیلا واہنی رحمۃ اللہ علیہ اپنے برادر بزرگ حضرت مولانا حافظ غلام حسین رحمۃ اللہ علیہ سے بیعت تھے جو خواجہ نور محمد مہاروی رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ مجاز تھے ۔
اصلاحی تعلق : آپ خواجۂ خواجگان حضرت مولانا خواجہ شمس الدین سیالوی رحمۃ اللہ علیہ (سیال شریف ضلع سرگودھا ) کے خلیفہ مجاز بھی تھے اور شاگرد رشید بھی ۔
تدریس : حضرت مولانا حافظ محمد جمال الدین گھوٹوی رحمۃ اللہ علیہ نے تحصیل علم کے بعد باقاعدہ تدریسی زندگی کا آغاز اپنے جدامجد حضرت مولانا محمد شریف گھوٹوی رحمۃ اللہ علیہ کے قائم کردہ مدرسہ , مدرسہ عربیہ گھوٹہ شریف سے کیا ۔ اور تا زندگی مدرسہ ھذا سے وابستہ رہے ۔
آپ کے اخلاص ,محنت , اور دعاؤں کی برکت سے اللہ تعالی نے اس مدرسہ کو قبولِ عام کی خلعت سے نوازا ۔اور اس مدرسہ کی شہرت چہار اطراف عالم میں پھیل گئی ۔
آپ اور آپ کے منتہی تلامذہ صبح سے عشاء تک اسباق پڑھاتے رہتے ۔ پوری مسجد شریف , احاطہ قبور ,اس کے سامنے والا وسیع سایہ دار میدان اور اردگرد کے باغات سب طلباء سے معمور ہو جاتے اور پوری فضاء نغمہ ہائے علم سے گونجنے لگتی ۔
حافظ عبدالحق گھوٹوی (مرحوم ) اکثر کہا کر تےتھے کہ مدرسہ عربیہ گھوٹہ شریف کے طلباء کی تعداد کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جب یہ طلباء تعطیلات کے مواقع پر اپنے اپنے گھروں کو جانے کے لئے بستی محمد پورگھوٹہ سے نکلتے تو یہاں سے لیکر ملتان کے ریلوے اسٹیشن تک قطار اندر قطار طلباء ہی طلباء نظر آتے تھے ۔
حضرت مولانا قاری محمد منیر الدین گھوٹوی دامت برکاتہم کا بیان ہے کہ شیخ التفسیر والحدیث حضرت مولانا مفتی محمد شفیع ملتانی رحمۃ اللہ علیہ (بانی جامعہ قاسم العلوم ملتان ) جب کبھی بستی محمد پورگھوٹہ میں تشریف لاتے تو جال کے درخت کے نیچے کھڑے ہو کر فرماتے کہ یہ ہمارا دارالحدیث تھا جہاں ہم حدیث شریف پڑھا کرتے تھے ۔
تلامذۂ کرام : آپ کی ایک بڑی نمایاں خصوصیت کثرتِ تلامذہ تھی ۔ آپ کے ہزاروں شاگردوں نے اندرون ملک کے علاوہ بیرون ممالک میں بھی تعلیمِ دین اور تبلیغِ اسلام کا فریضہ پوری مستعدی اور جفا کشی سے سرانجام دیا ۔ جن میں سے چند حضرات کے اسمائے گرامی یہ ہیں ۔
1۔ آپ کے شاگرد خاص حضرت مولانا غلام محمد گھوٹوی رحمۃ اللہ علیہ , سابق شیخ الجامعہ , جامعہ عباسیہ (اسلامیہ یونیورسٹی ) بہاولپور ۔ جو اپنے استاذ مکرم امام الصرف والنحو حضرت مولانا حافظ محمد جمال الدین گھوٹوی رحمۃ اللہ علیہ کی درسگاہ مدرسہ عربیہ گھوٹہ شریف میں تقریباً بیس (20) سال تک تمام علوم کی تدریس فرماتے رہے ۔ اس کے بعد شیخ الجامعہ کے عہدہ پر فائز ہو کر جامعہ عباسیہ میں ہزاروں علماء کو علم کی دولت سے مالا مال فرمایا ۔
2۔ استاذ العلماء حضرت مولانا محمود احمد بھپلا گھوٹوی رحمۃ اللہ علیہ جو مدرسہ عربیہ گھوٹہ شریف کی شمالی جانب املی والی مسجد (بھپلا واں والی مسجد ) میں استادِ محترم کی طرف سے مفوضہ کتب کی تدریس فرماتے تھے ۔
آپ کے حلقۂ درس سے بھی سینکڑوں علماء فیضیاب ہوئے ۔
3۔ صاحبزادہ حضرت مولانا حافظ حمید الدین گھوٹوی رحمۃ اللہ علیہ ۔
4۔ صاحبزادہ حضرت مولانا حافظ محمد رفیع الدین گھوٹوی رحمۃ اللہ علیہ (فاضل دارالعلوم دیوبند )
5۔ رئیسِ گھوٹہ پیرزادہ میاں حافظ احمد بخش بھٹہ رحمۃ اللہ علیہ ۔
6۔ بریلوی مسلک کے عالم مولانا سید امیر علوی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ (چپھڑشریف ضلع سرگودھا )
7۔ حضرت مولانا مفتی عطاء محمد رتوی رحمۃ اللہ علیہ (بمقام رتہ شریف ضلع چکوال )
8۔ مناظر جلیل مولانا حکیم محمد قطب الدین جھنگوی رحمۃ اللہ علیہ (ضلع جھنگ )
اولاد : حضرت الاستاذ العلامۃ مولانا حافظ محمد جمال الدین گھوٹوی رحمۃ اللہ علیہ کے دو صاحبزادے تھے ,
1۔ استاذ الحفاظ حضرت مولانا حافظ حمید الدین گھوٹوی رحمۃ اللہ علیہ ۔
2۔ حضرت مولانا حافظ محمد رفیع الدین گھوٹوی رحمۃ اللہ علیہ ۔
دونوں حضرات نے ابتدائی تعلیم مدرسہ عربیہ گھوٹہ شریف میں حاصل کی ۔
بعد ازاں بڑے صاحبزادے حضرت مولانا حافظ حمید الدین گھوٹوی رحمۃ اللہ علیہ مزید تحصیل علم کے لیے قصبہ انڑاں اور دیگر علاقہ جات کی طرف چلے گئے ۔ جبکہ چھوٹے صاحبزادے حضرت مولانا حافظ محمد رفیع الدین گھوٹوی رحمۃ اللہ علیہ نے دارالعلوم دیوبند میں تحصیل علم کر کے سندالفراغ حاصل کی ۔
آپ کے اساتذہ میں صدرالمدرسین, شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندی رحمۃ اللہ علیہ سرفہرست ہیں ۔ دارالعلوم دیوبند سے فراغت کے بعد تقریباً تین سال تدریس کے فرائض سرانجام دے کر رشتۂ ازدواج سے قبل اوائل جوانی میں ہی 1911ء کو آپ وفات پاگئے تھے ۔ اس لئے آپ کی نسبی اولاد نہيں ہوئی ۔ البتہ آپ کے بڑے بھائی حضرت مولانا حافظ حمید الدین گھوٹوی رحمۃ اللہ علیہ کے ہاں تین بیٹے تولد ہوئے ۔
1۔ استاذ الحفاظ حضرت مولانا حافظ محمد ضیاء الدین گھوٹوی رحمۃ اللہ علیہ والدِ محترم حضرت مولانا قاری نذیر احمد گھوٹوی مدظلہ (بانی ومہتمم مدرسہ جمال المدارس ملتان )
2۔ استاذ العلماء والحفاظ حضرت مولانا حافظ محمد رفیع الدین گھوٹوی رحمۃ اللہ علیہ (محشی صرف گھوٹوی)
3۔ حافظ محمد جمال الدین گھوٹوی رحمۃ اللہ علیہ جو اوائل جوانی میں وفات پاگئے ۔
تصانیف : شیخ المشائخ حضرت مولانا حافظ محمد جمال الدین گھوٹوی رحمۃ اللہ علیہ کے شب و روز تدریس میں گزرتے تھے , ہاں بسااوقات مواعظ و تقاریر بھی فرماتے تھے ۔ اس قدر مصروفیت ومشغولیت کے باوجود آپ کی چند تالیفات کا زیب قلم وقرطاس ہو جانا بسا غنیمت ہے ۔ ان میں سے چند تبرکات جو معلوم ہو سکے ہیں وہ درج ذیل ہیں ۔
1 ۔ صرف گھوٹوی (فارسی ) جو علمِ صرف میں بے مثال اور لاجواب کتاب ہے ۔ آج بھی بعض مدارس میں داخلِ نصاب ہے ۔
2۔ شرح ماة عامل گھوٹویہ مسمیٰ بہ فوائد رفیعیہ (فارسی ) ملا خسرو دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کی ماة عامل (منظوم فارسی ) کی مفصّل شرح ہے ۔ آپ نے اپنے چھوٹے بیٹے حضرت مولانا حافظ محمد رفیع الدین گھوٹوی رحمۃ اللہ علیہ (فاضل دارالعلوم دیوبند ) کے نام سے موسوم کر کے اس کا نام فوائد رفیعیہ رکھا ۔
3۔ ماة عامل مع صحیح ترکیب گھوٹوی مکمّل (ملتانی زبان میں ) یہ بھی بعض مدارس میں داخلِ نصاب ہے ۔
4۔ حاشیہ متن متین ۔
5۔ رسالہ ذبح فوق العقدہ وغيرہ ۔
وفات : دنیا کا سدا سے یہ دستور ہے کہ یہاں جو بھی آتا ہے جانے ہی کے لئے آتا ہے ۔ لیکن کچھ جانے والے ایسے ہوتے ہیں جو اپنے پیچھے بہت سی یادیں چھوڑ جاتے ہیں ۔ انہی افراد میں سے ایک استاذ العلماء حضرت مولانا جمال الدین گھوٹوی رحمۃ اللہ علیہ بھی تھے ۔
علم و عرفان کا یہ روشن آفتاب 1325ھ بمطابق 1907ء کو اپنے تلامذہ اور لواحقین کو یتیم بناتے ہوئے ہمیشہ ہمیشہ کےلئے غروب ہو گیا ۔(اناللہ وانا الیہ راجعون )
آپ کی وفات پر حضرت مولانا خواجہ شمس الدین سیالوی رحمۃ اللہ علیہ کے صاحبزادے حضرت مولانا خواجہ محمد دین سیالوی المعروف خواجۂ ثانی لاثانی رحمۃ اللہ علیہ بستی محمد پورگھوٹہ میں تشریف لائے اور آپ کے صاحبزادگان حضرت مولانا حافظ حمید الدین گھوٹوی رحمۃ اللہ علیہ ۔
حضرت مولانا حافظ محمد رفیع الدین گھوٹوی رحمۃ اللہ علیہ (فاضل دارالعلوم دیوبند ) اور آپ کے شاگرد اور خادمِ خاص حضرت مولانا غلام محمد گھوٹوی رحمۃ اللہ علیہ سے بالخصوص اور جملہ اعزہ واقارب اور متعلقین ومتوسلین سے بالعموم مسنون تعزیت کی ۔
آپ کے جنازے میں ہزاروں کی تعداد میں علماء و صلحاء و طلباء اور عوام الناس نے شرکت کی ۔
آپ کے جسدِ خاکی کو مدرسہ عربیہ گھوٹہ شریف کے قبرستان میں سپردِ خاک کیا گیا ۔
آپ کی وفات سے ملتان میں جو علمی خلاء پیدا ہوا اس کے صدیوں تک پر ہو نے کے آثار نظر نہیں آتے ۔
چھپا اک اور سورج آسمانِ علم و دانش کا
ہوئے جب دہر سے رخصت جمال الدین گھوٹوی
بیت تاریخِ وفات یہ ہے :
ازاں مدت کہ عالم محو رنج است
زہجرت سیز دہ صدبست وپنج است
1325ھ
نوٹ : مدرسہ عربیہ گھوٹہ شریف میں حضرت مولانا جمال الدین گھوٹوی رحمۃ اللہ علیہ کے علاوہ کبار جبال العلم حضرات نے تدریس کے فرائض سرانجام دیے ہیں ۔ اس لحاظ سے مجموعی طور پر بہت سارے علماء اس مدرسہ سے فیضیاب ہوئے چند حضرات کے نام درج ذیل ہیں ۔
1۔ مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی رشید احمد لدھیانوی رحمۃ اللہ علیہ (بانی جامعة الرشید کراچی )
2۔ شیخ التفسیر والحدیث حضرت مولانا مفتی محمد شفیع ملتانی رحمۃ اللہ علیہ (بانی جامعہ قاسم العلوم ملتان )
3۔ حضرت مولانا خواجہ رشید احمد رحمۃ اللہ علیہ (بانی جامعہ فاروقیہ شجاع آباد ملتان )
4۔ بریلوی مسلک کے عالم مولانا مہر محمد اچھروی رحمۃ اللہ علیہ (سابق شیخ الحدیث جامعہ فتحیہ اچھرہ لاہور )
5۔ حضرت مولانا اللہ بخش تونسوی رحمۃ اللہ علیہ (فاضل دارالعلوم دیوبند )
6۔ امام النحو حضرت مولانا غلام رسول پونٹوی رحمۃ اللہ علیہ (مصنف ماة عامل پونٹوی)
7۔ استاذ العلماء حضرت مولانا فیض اللہ ملتانی رحمۃ اللہ علیہ ۔سابق شیخ الحدیث جامعہ نعمانیہ نظامیہ , قدیر آباد ملتان ۔(فاضل دارالعوام دیوبند )
8۔ حضرت مولانا عبدالحی چشتی رحمۃ اللہ علیہ بن حضرت مولانا غلام محمد گھوٹوی رحمۃ اللہ علیہ ۔
9۔ حضرت مولانا عبدالبر محمد قاسم رحمۃ اللہ علیہ (سابق مہتمم جامعہ قاسم العلوم ملتان )
10۔ حضرت مولانا محمد یحییٰ انصاری دامت برکاتہم (مدرس جامعہ خیر المدارس ملتان )
11۔ راقم الحروف محمد اشفاق وسیر گھوٹوی (مدرس مدرسہ عربیہ شمسیہ فخرالمدارس احمد پورسیال ضلع جھنگ)